پیارے نبی ﷺ پر لاکھوں درود و سلام – عثمان حامد – انعامی مقابلہ




(کیٹگری 1)
آپ ﷺ کی ولادت سے قبل عرب جہالت میں ڈوبے ہوے تھے۔ آپ ﷺ کی آمد سے قبل عرب اخلاقی، سیاسی، معاشی غرض کہ ہر شعبہ میں زوال کا شکار تھے۔آپ ﷺ کی ولادت حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ کے گھر ہوی۔ حضرت آمنہ رضی اللہ عنہ آپ ﷺ کی والدہ تھیں۔ آپ ﷺ کی پرورش عرب کے مضافات میں دائی حلیمہ نے کی۔
آپ ﷺ کی شادی 25 سال کی عمر میں حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہ سے ہوی۔ آپ ﷺ کی زندگی میں خدیجہ رضی اللہ عنہ کی بہت اہمیت تھی۔ عرب آپ ﷺ کو ستاتے تو وہ آپ کی ڈھراس بندھاتیں۔ حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہ سے آپ کع مال اور اولاد ملی۔ وحی نازل ہونے کے بعد جب آپ گھر میں آئے اور حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہ کو بتایا تو انہوں نے کہا کہ آپ ﷺ مہمانوں کی مہمان نوازی کرتے ہیں، غریبوں کے ساتھ اچھا سلوک کرتے ہیں اس لئے اللہ آپ ﷺ کے ساتھ برا نہیں کرے گا۔ نبوت کے بعد آپ ﷺ نے اپنے گھر والوں کی دعوت کی اور انہیں اسلام کی دعوت دی لیکن انہوں نے انکار اور ظلم و ستم شروع کر دیا۔ آپ نے مکہ سے مدینہ ہجرت کی ساتھ میں آپ ﷺ کے پیارے دوست حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ بھی تھے۔ غارِ حرا میں پناہ لی اور وہاں سے مدینے روانہ ہوے۔ آپ ﷺ کے پاس جو امانتیں تھیں وہ لوگوں کو حضرت علی رضی اللہ عنہ نے واپس کیں۔ اور اس لئے سب کو آپ ﷺ کی امانتداری پر اعتبار تھا۔ اس لئے آپ ﷺ کو صادق اعر امین کہتے تھے۔مدینے میں آپ ﷺ کا استقبال بہت اچھے طریقے سے کیا گیا۔ آپ ﷺ نے وہاں مسجدِ نبوی کی تعمیر شروع کی اور سب نے بڑھ چڑھ کر حصہ لیا۔ مہاجرین اور انصار کے بھائی چارے کی مثال کہیں نہیں ملتی۔
مدینے میں پہلی اسلامی ریاست کی بنیاد رکھی۔ قریشِ مکہ نے اپنی سرگرمیاں جاری رکھیں لیکں آپ ﷺ اور مدینہ والوں نے بڑھ چڑھ کر ان کا مقابلہ کیا۔ اس دوران کئی معارکعے اور اسرے لڑے گئے۔ سب سے مشہور واقعہ غزوہ بدر کا ہے جس میں ابو جہل مارا گیا اور مسلمانوں کو شاندار کامیابی حاصل ہوی۔ کفار کو غزوہ بدر میں ناکامی کے بعد عظیم شکست ہوی اور مکہ کو بھی مسلمانوں نے فتح کر لیا۔ آپ ﷺ نے مکہ والوں کے لئے عام معافی کا اعلان کیا۔ آپ ﷺ مکہ میں رہایش پذیر ہونے کے بعد کچھ علیل ہوے۔ وصال کے وقت آپ ﷺ حضرت عایشہ رضی اللہ عنہ کے حجرے میں تھے.
وفات کے وقت آپ ﷺ نے غلاموں اور لونڈیوں کے ساتھ اچھا سلوک رکھنے لے لئے کہا۔ خطبہ حجتہ الودع میں بھی آپ ﷺ نے کیا کہ میں آخری نبی ہوں اور میرے بعد کوئی نبی نہیں آئے گا۔ اللہ کی عبادت کرو، نماز، روزہ، زکوۃ حج اور حکمرانوں کی اطاعت کرو تو جنت میں داخل ہو جاؤ گے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں