رخ مصطفی ﷺ ہے وہ آئینہ – ربیعہ بنت اقبال – انعامی مقابلہ




(کیٹگری 2)
کرتی ہوں اس نام سے ابتداء
جسکے ناموں کی نہیں کوئی انتہا
رخ مصطفی ﷺ ہے وہ آئینہ
کہ ایسا دوسرا آئینہ
نہ کسی بزم خیال میں
نہ دوکان آئینہ ساز میں
اپنے اس آرٹیکل کی ابتداء میں اس ‘وحدہ لاشریک’ کے نام سے کرتی ہوں جس نے میرے ذہن و دل اور قلم کو یہ سعادت بخشی کہ اس وحدہ لا شریک کی کائنات میں سب سے خوبصورت اور مکمل ترین ہستی کی ذات کی ذات و حالات غور و فکر و تدبر کرتے ہوئے آج چودہ سو سال بعد کے حالات پر اپنے اس قلم سے روشنی ڈال سکوں:
امت مسلمہ کے جس عروج کو صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نے اپنی مبارک آنکھوں سے دیکھا اور تاریخ دانوں نے اس عروج کو اپنی تاریخ میں رقم کیا آج اسی امت کی تنزلی ہماری گناہگار آنکھوں نے دیکھی ہے۔ اوپر جو شعر بیان کیا ہے اسکو سوچتے ہوئے میں کشمکش کا شکار ہوں کہ میں کس طرح سے رحمۃ اللعلمین اللہ علیہ والہ وسلم کی حیا مبارک پہ روشنی ڈالوں کہ جنکے بارے میں لکھنے والوں نے بے حد اور بے انتہا لکھا لیکن پھر بھی علم کے سمندر میں بسے لفظوں کے وہ موتی نہ چن سکے جن سے ان پہلوؤں کو اور بھی خوبصورتی بخشی جاسکے۔ بہرحال لکھنے والوں نے لکھ ڈالا۔ لیکن اسی کے متضاد آج کے دور کی حیا اور بے حیائی کو بیان کرتے ہوئے خیال و قلم دونوں میں ہی لرزش ہے،دونوں میں ہی انتشار ہے۔ پہلے میں اس کلمے کو بیان کرتی ہوں جس سے ہم اسلام کی آغوش میں آگئے، آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی امت میں شمولیت ہوگئی۔ لاالہ الااللہ محمد رسول اللہ. اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اللہ کے رسول ہیں۔یہی وہ کلمہ ہے جو ہمیں دوزخی سے جنتی، حیوان سے انسان اور گمراہ سے ہدایت یافتہ بنا دیتا ہے ہمارے لیے
بہت سے گناہوں کے باوجود مغفرت کا دروازہ کھلا رکھتا ہے۔
اگر اس کلمے پر غور ہیں تو پہلا جز “لاالہ الااللہ”، دوسرے جز “محمد رسول اللہ” سے قدرے آسان ہے . پہلے جز میں تو ہم نے تمام باطل خداؤں کا انکار کر کے اللہ کو اپنا معبود قبول کر لیا لیکن دوسرے جز “محمد رسول اللہ” میں ہمارے زندگی گزارنے کے بہت سے نشیب و فراز پوشیدہ ہیں۔ ان نشیب و فراز سے گزر کر ہی ہمارا ایمان کامل ہوتا ہے۔ ہم پل صراط پر سے گزرنے کے قابل ہوتے ہیں جسکی قطعی دلیل ہمیں قران پاک کی اس آیت سے ملتی ہے قل ان کنتم تحبون اللہ فاتبعونی یحبیکم اللہ (آل عمران : ۱۳) ترجمہ: آپ فرما دیجئے اگر تم اللہ سے محبت کرتے ہو پس تم میری پیروی کرتے رہو اللہ تم سے محبت کرے گا۔ اس آیت میں کلمہ طیبہ کا پہلا اور دوسرا دونوں جز موجود ہیں اور اسی دوسرے جز یعنی ‘رخ مصطفی ہے وہ آئینہ’ میں آج کے دور کا موازنہ کرتے ہیں اسی آئینے کو لے کر چلتے آج چودہ سو سال بعد۔حیا ایک فطری صفت ہےجو انسان کو اچھائ کی طرف ابھارتی ہے برائی کے کاموں سے عار دلاتی ہے اس کے علاوہ شرم و حیا ایک ایسا اہم فطری اور بنیادی وصف ہے جسکو انسان کی بلخصوص مسلمان کی کردار سازی میں اہم دخل حاصل ہے۔
الغرض شرم و حیا انسان کی بہت سی خوبیوں کی جڑ اور فواحش و منکرات سے محافظ ہے.
یہاں یہ بھی سمجھ لینا چاہیے کہ قرآن و حدیث کی اصطلاح میں حیا کا مفہوم بہت وسیع ہے مطلب یہ ہے کہ ہر دین و شریعت میں اخلاق انسانی کے کسی خاص پہلو پر نسبتا زیادہ زور دیا گیا ہے یا دیا جاتا ہے اور انسانی زندگی میں اسی کو نمایاں اور غالب کرنے کی کوشش کی جاتی جیسے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی تعلیم و شریعت میں رحمدلی اور عفو درگذر پر زیادہ زور دیا گیا ہے اسی طرح اسلام میں حضرت مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی لائی ہوئی شریعت اور تعلیم میں حیا پر خاص زور دیا گیا ہے۔حیا کا تعلق صرف مخلوق سے ہی نہیں بلکہ بلخصوص خالق سے بھی ہے یعنی اچھائی اور برائی کو کرتے ہوئے صرف مخلوق کو ہی نہیں بلکہ خالق کی ذات کو بھی مد نظر رکھا جاۓ جو ہمارے چھپے اور ظاہر عمال سے باخبر ہے اور اسکا مواخذہ کرنے والا ہے۔آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا “الحیاء شعبت من الایمان” رواہ احمد و الترمذی حیا ایمان کی شاخ ہے یہ قول اس مشہور ہستی سرور کونین صلی اللہ علیہ وسلم کا ہے جو مکمل پیکر حیا تلے یعنی یہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے افعال،اقوال،احوال، افکار و خیالات میں ” اتق اللہ غیث ماکنت” کا عنصر پوشیدہ تھا.
یہ وہی محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہیں جنھوں نے اپنی تعلیمات سے واحدانیت کا کلمہ بلند کرنے کے بعد بنی نوع انسان کو دنیا و آخرت سنوارنے کا کامل دستور حیات دیا اور اسی دستور حیات کا نتیجہ قرآن نے خوشخبری کی صورت بیان کیا “اولیک ھم المفلحون”سورہ بقرہ ترجمہ: یہی لوگ ہیں جو فلاح پانے والے ہیں۔لیکن یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ہم نے ان تمام تعلیمات کے بعد مفلحون کی راہ چنی ہے یا ہم خاسروں کی راہ پر ہیں؟ اگر ہم آج اپنے اوپر نگاہ کریں اپنی ذات و حالات کا موازنہ کریں تو آپ صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم کا اسوہ حسنہ اپنے اندر پاتے ہیں یا پھر ہمارا اپنا آپ سنتوں سے خالی ہے؟کیوں تم نے حیا کے راستے کو چھوڑ کر بےحیائی کے راستوں کو اپنا سکون بنالیا ہے۔۔اس کیوں کا جواب یہ ہے کہ اپنے تمام موجودہ حالات کوسامنے رکھتے ہوے نتیجہ یہ آیا کہ تمہارا ایمان بہت لاغر اور کمزور ہوچکا ہے ہم سمعنا و اطعنا کے بجاۓ سمعنا و عصینا کی راہ پر ہیں کیونکہ اسلام ہمارا وہ پیارا مذہب ہے جس نے ہر ایک پر عزت کی چادرڈالی بالخصوص عورت کو وہ مقام دیا جو دنیا کے ہر مذہب میں ناپید تھا یہ اسلام ہی دنیا کا واحد مذہب ہے جس نے عورت کو ایک مقام ایک مرتبہ دیا ہے جسے دنیا کا کوئ مذہب کچھ نہیں سمجھتا تھا.
اسی عورت کواسلام نے عزت کا تاج پہنایا اسے پردے کا حکم دے کرایسا انمول موتی تصور کیا کہ جسے کسی کی میلی نگاہ بھی گندا نہ کرسکے۔لہکن صدافسوس آج بے حیائی کی اصل وجہ یہی ہے کہ اسی عورت نے خود ہی عزت کی یہ چادراتار پھینکی ہے ہم نے اپنے ہی ہاتھوں اپنی عزت رول دی۔ خود ہی اپنے مرتبے سے نیچے آگئیں۔آج بےحیائ اس قدر عام ہوچکی ہے کہ کسی بھی مرد کی نگاہ میں عورت کی عزت باقی نہیں رہی.آج کا مرد بھی آج کی عورت بھی یغضضن من ابصارھن کا سبق بھول چکے ہیں اور بڑی تندہی کے ساتھ اسکی روگردانی میں مصروف ہیں۔حالانکہ ہونا تو یہ چاہئے تھا کہ جو اسوہ حسنہ ہماری روحانی ماؤں اُمھات المومنین نے اختیار کیا اور جسکی ہمیں یہ ہماری مقدس مائیں تعلم دے کر گئیں ہم بیٹیاں اس پرعمل پیرا ہوتیں اور عزت کے بلند مقام پر فائز رہیں لیکن جہاں ہم نے ان تعلیمات سے روگردانی کی ہے وہیں ہم اپنا سب کچھ کھو بیٹھیں ہیں. آج کی عورت کو نہ ماں نہ بہن اور نہ ہی بیوی اور نہ بیٹی کے روپ میں عزت حاصل ہے۔ جبکہ ہماری پیارے نبی اللہ علیہ والہ وسلم کہ جن پر لاکھوں درود و سلامتیاں ہوں، انہوں نے عورت کی خواہ وہ کسی بھی رشتے میں ہو بے پناہ عزت کی ہے اور کروائی بھی ہے۔
اسلام سے پہلے عورتیں ہمیشہ ذلیل رہی ہیں لیکن ہمارے پیارے بنی صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے ان پر بہت احسان فرمایا۔ انکے حقوق مقرر فرمائے اور اپنی ہر برتاؤ سے ظاہر فرما دیا کہ طبقہ حقیر نہیں ہے بلکہ عزت و ہمدردی کے لائق ہے۔ اسکا بہترین ثبوت خود آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے اپنے عمل سے دیا۔ حضرت فاطمہ الزہرہ رضی اللہ تعالی عنہا جب تشریف لاتیں تو آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم بنفیس نفیس خود کھڑے ہوکر انکا استقبال فرماتے اور انکا ہاتھ پکڑ کر اپنی جگہ تک تشریف لاتے اور پہلے حضرت فاطمہ جو بٹھاتے پھر خود تشریف فرما ہوتے۔ جن بوسیدہ رسم و رواج کو آپ ﷺ نے ڈھایا ہے امَّتِ مسلمہ بھی اس ڈور کو لیکر آگے بڑھے ، لیکن آج معاملہ بالکل بر عکس ہے پھر وہی جاہلیت کا دور لوٹنے کو ہے۔ آج کی عورت یہ کہتی ہے کہ ہم مردوں کے شانہ بشانہ کام کریں گی ان سے قدم سے قدم ملا کر چلیں گی حالانکہ عورت آج بھی اتنی ہی کمزور ہے جتنی آج سے چودہ سو سال پہلے تھی کیونکہ یہ اللہ کا فیصلہ ہے جسے اللہ نے قرآن میں بیان فرمایا ہے کہ مرد کو اللہ نے حاکم بنا کر بھیجا ہے۔ اسے عورتوں پہ ایک درجہ فضیلت حاصل ہے۔ مرد کفیل ہے وہ کفالت کرے گا اور عورت چار دیواری میں محفوظ رہ کر اس کی عزت کی حفاظت کرے گی۔
کیونکہ حیا اور چار دیواری ہی عورت کی اولین محافظ ہے لیکن جب سے ان دونوں سے رخ موڑا ہے، معاشرہ تباہی کے دھانے پہ کھڑا ہے۔ اس تباہی کی سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ ہم میں حیا کا فقدان ہو گیا ہے اس لیے معاشرہ میں بے راہ روی عام ہو چکی ہے، زنا عام ہو چکا ہے رشتوں کا تقدس برقرار نہیں رہا ہماری زبانِ حال چیخ چیخ کر اس حدیث کو یاد دلا رہی ہے۔ آپﷺ نے فرمایا! اذا لم تستحی فاصنع ماشئت(جب تم میں حیا نہ رہے تو جو جی چاہے کرو )” ۔ البخاری اسی حدیث پہ اپنے موضوع کا اختتام کروں گی کہ آپﷺ ہمیں زندگی کے ہر پہلو سے روشناس کروایا ہے اپنی تعلیمات اور اپنے عمل سے وہ سب کچھ کر دکھایا ہے جس کا تصور بھی ہمیں محال لگتا ہے۔ تو آئیے پھر “رخِ مصطفیٰ ﷺ ہے وہ آئینہ ” اسی آئینہ میں ہم اپنا آئینہ تلاش کرتے ہیں یہی وہ آئینہ جس میں ہماری عزت پوشیدہ ہے۔ اسی آئینہ میں ہی ہمارا ایک بہترین طرزِ زندگی اور پر سکون اور عزّت والی صبحیں اور شامیں منتظر کھڑی ہیں بس ہمیں عزم کرنا ہے، ایک ایسا عزم جس میں دوبارہ ظلمت کی طرف لوٹنا نہ ہو۔ بس اسی شفاف آئینہ میں ہم اپنا آپ سنوارتے ہوئے زندگی کے سورج کا طلوع بھی دیکھ لیں، غروب بھی دیکھ لیں۔
اور اپنے آپ کو سنوارنے کے بعد اس آئینے کو گلی گلی، کوچے کوچے لے کر جائیں اور آگاہی دیں ان لوگوں کو جو انجان ہیں انسانیت سے، رہبری سے، حیا سے،۔انصاف سے، محبتوں سے، جزبوں سے! اور بتائیں کہ،
رخ مصطفیٰ ہے وہ آئینہ
کہ اب ایسا دوسرا آئینہ
نہ ہماری بزم خیال میں
نہ دکان آئینہ ساز میں

اپنا تبصرہ بھیجیں