قصصِ موسیٰ (علیہ السلام) – عائشہ فہیم




اور تمہیں کچھ موسیٰ (علیہ السلام) کی خبر بھی پہنچی ہے؟ وہ رب قصص سناتا ہے تو اس کی طرف متوجہ کرنے کے الگ الگ انداز اپناتا ہے۔۔اور موسیٰ علیہ السلام! اس کے پیارے بندے۔۔۔سفر میں ہیں، تاریکی ہی تاریکی ہے۔۔ روشنی کی تلاش میں ہیں۔۔دور کوئی راستہ نظر آتا ہے۔ لگتا ہے جیسے روشنی مل جائے گی.
اب!گھر والوں سے ٹھہرنے کا کہتے ہیں، دل میں امید ہے کہ آگ کا کوئی انگارہ یا روشنی کا کوئی نشان ہی مل جائے تو کٹھن راستہ آسانہوجائے گا۔۔اسی امید پہ آگے بڑھتے ہیں۔۔وہاں پہنچتے ہیں تو۔۔روشنی کا نشان کیا، روشنی کا پورا منبع ہی موجود ہوتا ہے!روشنی کی تلاش ہو تو روشنیاں خود تاریکیوں سے نکال نکال لے جاتی ہیں۔۔ایسا ہی ہوا!کیا کیفیت ہوئی ہوگی آپ علیہ السلام کی، جب آواز آئی ہوگی۔۔اِنِّیۡۤ اَنَا رَبُّکَ (میں ہی تیرا رب ہوں!)اِنَّنِیۡۤ اَنَا اللّٰہُ (میں ہی اللہ ہوں۔)وہ خود ہمکلام ہوا۔۔ اور موسیٰ چُن لئے گئے۔۔وَ اَنَا اخۡتَرۡتُکَ (اور میں نے تجھے چن لیا ہے)لیکن چننا تو اس راہ کا محض پہلا قدم ہوتا ہے۔۔چن لئے جانے کے بعد کئی زینوں کا سفر ہے۔۔اور چُن تو وہ تب ہی لئے گئے تھے جب دنیا میں آئے تھے۔۔پیدا ہوتے ہی ماں آزمائی گئی۔ صندوق میں ڈال کر بہا دئیے گئے۔ کس نے سوچا تھا کہ ایک نبی کی پرورش فرعون کے گھر اسی کے ہاتھوں ہوگی جو بیٹوں کو پیدا ہوتے ہی مار دیا کرتا تھا۔مصر میں آزمائے گئے، وہاں سے نکل کر مدین گئے تو وہاں آزمائے گئے۔۔ پھر بتایا کہ موسیٰ!وَ اصۡطَنَعۡتُکَ لِنَفۡسِیۡ”میں نے تجھ کو اپنے کام کا بنا لیا ہے”یہ اس کی سنت ہے! وہ پہلے چُنتا ہے، انتخاب کرتا ہے، پھر آزمائش کی بھٹیوں سے گزارتا ہے۔۔پھر دھیرے سے آپ کو کہتا ہے۔
اب تمہیں اپنے کام کا بندہ بنالیا ہے میں نے! آزمائشوں کے بغیر بھلا جانچ کیسے ہو، کوئی کندن کیسے بنے۔۔۔پھر معجزے عطا کئے گئے، دل کی سکینت کا سامان کیا، اپنے کلام سے دل کو قوی کیا، پھر کہا۔۔جا فرعون کے پاس! وہ سرکش ہوگیا ہے۔۔گھبراہٹ سی طاری ہوئی ہوگی۔۔ کیسے یہ معرکہ سَر کریں گے! اتنے بڑے بادشاہ کے سامنے، جس کے گھر میں پلے بڑھے تھے، وہ بھیجو ہٹ دھرم ہو، جو خود کو “خدا” کہلواتا تھا۔۔ دعا مانگی۔۔میرے کام کو آسان کردے۔ زبان میں روانی بھی تو نہیں ہے، وہ زورِ خطابت بھی نہیں ہے، اِس کی گرہ سلجھادے۔ ہارون کا ساتھ مانگا اورانہیں عطا کردیا گیا!لیکن ساتھ ہی نصیحت کی کہ دیکھو! “فَقُوۡلَا لَہٗ قَوۡلًا لَّیِّنًا” (اس سے نرمی کے ساتھ بات کرنا۔)فرعون کے پاس بھیجا جارہا ہے۔۔ خدا سے دور، اس کا سرکش اور نافرمان۔ اور وہ رب کیا نصیحت کررہا ہے؟”نرمی!”خدا سے خفا لوگوں کے ساتھ بھی نرمی۔ان کے پاس جاؤ تو نفرت اور کبر کی بجائے محبت سے جانا۔۔ وہ شخص جو اُس کی خدائی میں خود کو شریک سمجھتا ہے۔ اُس خدا کا تحمل اور ظرف دیکھئیے!
اسے پہلے ہی وار میں سنادینے، گرادینے، تہ تیغ کردینے کا نہیں کہتا۔ بلکہ “نرمی” کو پکڑے رہنے کی تلقین کرتا ہے۔نفرت اور گرما گرمی میں نصیحت نہیں کی جاسکتی، دلوں کو قائل نہیں کیا جاسکتا۔اس راہ کے آغاز سے ہی محبت اور نرمی شرط ہے۔خدا آپ سے یہی رویہ چاہتا ہے! :)(بحوالہ سورہ طٰہٰ، سورۃ القصص)

اپنا تبصرہ بھیجیں