انصاف – رملہ افضل




انصاف کے “ا” کے اعتدال سے شروع ہو کر “ن” کی نصیحت سے ہوتا ہوا “ص” کی صلح پسندی کو ساتھ لیتے ہوئے “ف” کی فصل بہار لیے ہوئے اپنے اندر اک امن کی دنیا بسائے ہوئے ہے. ہمارے معاشرے کو ذرا چند صدیاں پیچھے لے جاؤ تو آپکو بے شمار قصے کہانیاں ملیں گے معاشرتی نا انصافیوں پہ.
لیکن جیسے جیسے ہم نے معاشی ترقی کی منازل کو طبور کیا ویسے ہی بہت سے سماجی معاملات میں ہمارا معیار گر گیا  بہن کی عزت سے بھائ غافل بیٹی کے تقدس سے باپ لا علم  بیوی کے حقوق سے شوہر انجان ماں کے فرائض سے بیٹا لا تعلق…! ہمارے ہاں معاشرے کو مرد کا معاشرہ کہا اور سمجھا جاتا ہے جو کہ ایک حد تک ہم ثابت بھی کے چکے ہیں جو جتنا عورت کو دبا کر رکھے اتنا ہی کامیاب مرد مانا جاتا ہے میرے معاشرے میں غیرت کے نام پہ بیٹیاں جلیں مائیں کچلی گئ بیویاں پاؤں کی جوتی بنی اور ماں لاوارث لاش تک بن گئ لیکن کوئ پرسان حال نہیں کوئ انصاف کی شمع کو روشنی دینے والا نہیں میرے دیس کی عظمت کو سلام کئ کیس عدالتوں میں گئے اور انصاف کے متلاشی سالوں سال انتظار کی سولی پہ لٹک کر سوالی آنکھوں سے انصاف بھانٹنے والوں کو دیکھتے بلاآخر خالی ہاتھ اور بے بس جسم لیے اس دنیا فانی سے کوچ کر گئے اور جاتے جاتے اپنی تحتی پہ لکھ گئے وہی قاتل وہی منصف عدالت اس کی وہ شاہدبہت سے فیصلوں میں اب طرف داری بھی ہوتی ہے آج ملزم و مجرم کا فرق ختم ہو گیا اور انصاف کسی بے لگام گھوڑے کی طرح اپنے زور بازو پہ فیصلہ سنا کر ایک ہی صف میں محمود و ایاز کو لے آیا.
موقوف ہے کیوں حشر پہ انصاف ہمارا
قصہ جو یہاں کا ہے تو پھر طے بھی یہیں ہو
ہمارے اسلام نے تو چودہ سو سال پہلے حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کی صورت میں عملی نمونہ پیش کیا جو ہمیں عدل و انصاف کا سبق دے کر گئے. حدیث مبارکہ ہے کہ قریش کی ایک شاخ بنو مخزوم کی ایک معزز عورت فاطمہ بنت اسود نے چوری کی اور قریش کے لوگوں نے چاہا کہ یہ عورت چوں کہ معزز خاندان سے تعلق رکھتی ہے اس لیے اس کا ہاتھ نہ کاٹا جائے۔ چوں کہ اس میں ہماری قوم کی ہمیشہ کے لیے بدنامی و رسوائی ہے لہٰذا انہوں نے سیدنا اسامہ بن زیدؓ کو سفارشی بنایا جو کہ رحمت عالم صلی اللہ علیہ وسلم کے متبنیٰ سیدنا زید بن حارثہؓ کے فرزند ارجمند تھے اور امام کائنات صلی اللہ علیہ وسلم انہیں بہت عزیز رکھتے تھے۔ اہل قریش کا خیال تھا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اسامہ ؓ کی سفارش رد نہیں فرمائیں گے اور اس عورت کا جرم معاف فرما دیں گے۔ قریش کے اصرار پر جب سیدنا اسامہ بن زید ؓ خدمت عالیہ میں حاضر ہوئے اور قریش کا مدعا بیان کیا تو ام المومنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا روایت فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے (اسامہ ؓ سے) فرمایا کیا تُو اللہ تعالیٰ کی مقرر کردہ حدوں میں سے ایک کے لیے سفارش کرتا ہے۔
پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے اور خطبہ دیا جس میں فرمایا : اے لوگو! تم سے پہلے لوگوں کو اسی بات نے ہلاک کیا کہ ان میں سے جب کوئی عزت والا چوری کرتا تو اسے چھوڑ دیتے اور جب کوئی کم حیثیت والا چوری کرتا تو اس پر حد قائم کرتے۔‘‘ ( متفق علیہ) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’ اگر فاطمہ بنت اسد کی جگہ آج فاطمہ بنت محمد صلی اللہ علیہ سلم بھی اس جرم میں گرفتار ہوتی تو میں اس کا بھی ہاتھ کاٹ دیتا۔‘‘ (بخاری و مسلم)
اسی طرح اللہ تعالی نے ایک مقام پر ارشاد فرمایا، ترجمہ: ’’ اور جب (کسی کی نسبت) کوئی بات کہو تو انصاف سے کہو گو وہ (تمہارا) رشتے دار ہی ہو اور اللہ کے عہد کو پورا کرو۔‘‘ (سورۃ الانعام ) ہمیں چاہیئے ان اصولوں کو مد نظر رکھتے ہوئے اپنی زندگی کے معاملات میں عدل و انصاف سے کام لیں-

اپنا تبصرہ بھیجیں