کتنا بڑا آدمی بہ یاد جمیل الدین عالی – سلیم مغل




یہ عورت جو کچھ عرصے سے میرے شعبے میں بہ ظاہر تدریس کے فرائض سر انجام دے رہی تھی اور جسے یہاں لانے کا ذمہ دار میں ہرگز نہ تھا…. اب اس نے پر پُر زے نکالنے شروع کردیے تھے…. اس کے غیر ذمہ دارانہ روئیے کی وجہ سے شعبے میں بہت سے انتظامی مسائل شروع ہوگئے تھے اور میں بہ حیثیت صدر شعبہ ان مسائل کی وجہ سے کافی پریشان تھا۔
سو ایک روز میں نے آنکھوں میں وہ والا بال ڈالا اور ایک خط لکھ کر محترمہ کو تھما دیا کہ ”شعبے کو آپ کی خدمات کی مزید ضرورت نہیں رہی لہٰذا آج سے آپ کو آپ کی تدریسی ذمہ داریوں سے فارغ کیا جاتا ہے۔“ خط کیا لکھا بھونچال آگیا….جاہ و کلاہ و جبہ و دستار ہل گئے۔ کیا وی سی صاحب اور کیا ڈین فیکلٹی آف آرٹس، سب نے اپنا سخت رد عمل ظاہر کیا اور مجھے کہا کہ عافیت اسی میں ہے کہ اپنا خط واپس لے لو اور اس خاتون کو فوراً اس کی ذمہ داریوں پر بحال کردو۔میں جانتا تھا کہ ایوانوں میں اس زلزلے کی وجہ کیا ہوسکتی ہے۔ یہ خاتون جمیل الدین عالی صاحب اور ان کے اہل خانہ سے اچھے مراسم رکھتی تھی۔ عالی صاحب ہمارے چیئر مین سینیٹ بھی تھے اور تحریک اردو یونیورسٹی کے روح رواں بھی۔ کوئی ان کے سامنے بولنے کی ہمت نہ کرتا تھا۔یہ خاتون اس تعلق کو خوب خوب استعمال کرتیں۔ میرے سامنے بھی اکثر یہ کہہ کر خوف زدہ کرنے کی کوشش کرتیں کہ ”ابھی جمیل سے کہہ کر اس کا دماغ درست کرتی ہوں۔“میں نے ان خاتون کو بحال نہ کرنے کا پختہ عزم کیا اور اپنے آپ کو متوقع نتائج کے لئے تیار کرلیا۔ عالی صاحب کو میری ضد اور ہٹ دھرمی کی خبریں پہنچتی رہیں اور وہ جواباً جس طرح برہم ہوتے اور جو کچھ کہتے وہ بھی مجھ تک پہنچ ہی جاتا۔
ایک موقعہ پر عالی صاحب اس قدر برہم ہوئے کہ انہوں نے غصے میں کہاکہ ”میرا جی چاہتا ہے کہ اس شخص کا سر قلم کردوں“۔ سرد جنگ آہستہ آہستہ سخت اور تندو تیز جھڑپوں میں بدلتی گئی مگر یہ جنگ یک طرفہ تھی۔ میں عالی صاحب کی شان میں کوئی گستاخی بھلا کیو ں اور کیسے کر سکتا تھا۔ میں اپنے موقف پہ ڈٹا رہا، میری قانونی اور اخلاقی پوزیشن مضبوط تھی سو کوئی میرا کچھ نہ بگاڑ سکااور یہ خاتون آخر کارکسی اور جگہ بھیج دی گئیں۔ بات آئی گئی ہوگئی۔ البتہ میں عالی صاحب کا سامنا کرنے سے گریز کرتا رہا۔ یوں بھی میرے ان سے کسی طرح کے مراسم کبھی نہ تھے۔اب آپ اگلا احوال سنیے۔چند ماہ بعد شعبہ ابلاغ عامہ کی ایک کانفرنس آرٹس کونسل کراچی میں منعقد ہوئی۔ میں اختتامی سیشن اور پہلے باقاعدہ سیشن کا میزبان تھاسو مسلسل چار گھنٹے تک کانفرنس کی کاروائی کو چلاتا اور آگے بڑھاتا رہا۔ جمیل الدین عالی صاحب دیگر مہمانوں کے ساتھ اسٹیج پہ موجود تھے۔ سیشن ختم ہوا تو میں نے کھانا کھلنے کا اعلان کیا۔ تمام حاضرین حال سے باہر جانے لگے۔ عالی صاحب نے مجھے اشارہ کیا ”آپ یہیں رکیے گا، مجھے آپ سے کچھ بات کرنا ہے۔“پورا حال خالی ہوگیا۔ میں اور عالی صاحب سامنے کی نشستوں پہ ایک جگہ بیٹھ گئے۔
جمیل الدین عالی صاحب نے کچھ کہا اور میں نے جو کچھ سنا، سچ یہ ہے کہ میرے تو پسینے چھوٹ گئے، کہنے لگے ”مجھے آپ سے معافی مانگنا ہے۔“میرے لئے یہ بات ناقابل یقین سی تھی۔ میں نے کہا سر آپ کیا کہہ رہے ہیں، ہم آپ کے بچے ہیں، ہماری غلطی پر ہمیں ڈانٹ لیجئے مگر آپ معافی کیسے مانگ سکتے ہیں۔ بالکل نہیں سر، میں عاجزی کی آخری منزل پہ آکر ان سے معذرت کرنے لگا مگر انہوں نے میرا گھٹنا پکڑا اور کہنے لگے ”آج میں آپ کو بتاتا ہوں کہ آپ کو ہمیشہ میرے سامنے ایک جاہل اور اردو دشمن شخص کی حیثیت سے متعارف کروایا گیا۔ آپ کے متعلق میری بد گمانی کا یہ عالم تھا کہ میں آپ کا نام بھی سننے کا روادار نہ رہا لیکن میں آپ کو گذشتہ تین چار گھنٹوں سے مسلسل سن رہا ہوں، آپ کی زبان، اشعار، محاورے، سندھی اور اردو ادب کے حوالے اور آپ کا انداز میزبانی اس قدر غیر معمولی تھے کہ میں آپ سے متاثر ہوئے بغیر نہ رہ سکا۔“ یہ کہا اور ایک بار پھر مجھ سے معافی مانگنے لگے۔میری حالت یہ کہ ندامت سے موم کی طرح پگھلا جارہا تھا۔ بات آئی گئی ہوگئی۔ میں جو، اب تک ان کے بارے میں اپنی رائے کافی خراب کرچکا تھا اور ان کے متکبر ہونے کا یقین رکھتا تھا، اب دل ہی دل میں ان کے کردار اور اوصاف کا گرویدہ ہوتا چلا گیا۔
بات یہیں تک نہ رہی۔ اگلے دن انہوں نے روز نامہ جنگ کے کالم میں میرا تذکرہ جس محبت سے کیا وہ میرے لئے ناقابل فراموش ہے۔ابھی دو روز ہی گذرے ہوں گے کہ توصیف صاحب کا فون آیا…. ”ارے بھئی! آپ کہاں ہیں؟ عالی صاحب آپ سے ملنے آئے ہیں۔“ یہی نہیں بلکہ میرے لئے برفی کا ڈبہ بھی لے کر آئے ہیں۔ میں جب تک پہنچا وہ جاچکے تھے۔ میں ان کے گھر گیا، ان کے پاؤں چھو کر ان کا شکریہ ادا کیا اور یہ جانا کہ یہ جو بہت زیادہ جذباتی لوگ ہوتے ہیں، ان کا غصہ بھی غیر معمولی اور ان کی محبتیں بھی مثالی ہوتی ہیں۔ اس کے بعد میں جب جب بھی عالی صاحب سے ملا ان کی تعظیم میں جاپانیوں کی طرح دہرا ہوجاتا۔ یہ پورا واقعہ میرے لئے ایک ناقابل فراموش سبق بھی ہے۔ ذاتی عناد یا رنجش کے باعث جب آپ کسی کی کردار کشی پہ اتر آتے ہیں تو وہ ہمارا رب ہی تو ہے، جو دوسروں کے دلوں کو آپ کے لئے موم کردیتا ہے اور پھر اسی دل میں محبت کے زمزمے بہا دیتا ہے۔عالی صاحب کا انتقال ۳۲ نومبر۵۱۹۱ کو ہوا۔ اس روز میں دل گیر تھا۔ واقعتا دل گیر۔ کتنا بڑا آدمی چلا گیا۔
بڑے قد کے لوگوں میں، کوئی ایک تو ڈھونڈ کر دکھا دیں جسے اپنی غلطی کا احساس ہوجائے تو وہ مجھ جیسے چھوٹے سے آدمی کا گھٹنا پکڑ کر معافی مانگنے میں بھی عار محسوس نہ کرے۔پاکستان کی محبت میں رچا بسا اردو ادب کا معتبر حوالہ، میرے لئے قابل صد تعظیم جمیل الدین عالی صاحب…. اللہ آپ پر مہربان ہو۔

Leave a Reply