سوال۔۔۔۔۔۔۔؟ – عالیہ شمیم




“طلحہ!طلحہ! کیا مصیبت ہے اتنا چیخ کر بلا رہی ہوں لیکن تم پر کچھ اثر نہیں کانوں میں واک مین لگائے مسلسل ہاتھوں میں دبے مو با ئیل پر میسج کر رہے ہو اور دنیا و مافیہا سے بے خبر ہو۔ دو مجھے یہ واک مین پھینک ہی دونگی اب میں اسے۔”
” کیا ہے امی، کیا ہو گیا ہے آپکو ! لے کر پھینک دیا، تنگ آگئی ہو تمہاری ان حرکتوں سے ”

“کونسی حرکتیں! کیا کر دیا ہے میں نے،حلیہ دیکھو اپنا اور وقت دیکھو ، نہ نماز کی فکر ہے نہ کسی کام کا ہو ش۔۔۔۔۔۔”
“پلیز امی، بس کریں ہر وقت کا لیکچر نہ دیا کریں، ابھی میں پیپر دے کر آیا ہوں مجھ کو تھوڑا ریلیکس ہونے دیں، میں اس وقت آپ کا وعظ و نصیحت سننے کے موڈ میں نہیں، آپ بتائیں کس لیے بلا رہی تھیں، جب دیکھو ہر وقت چیختی رہتی ہیں ڈانٹتی رہتی ہیں،مجال ہے جو کبھی پیار سے بات کی ہو، بولیے کیا کہہ رہی تھیں، لے کے اتنی زور سے پھینک دیا پتہ نہیں ٹوٹ ہی نہ گیا ہو۔ ”
“کچھ نہیں پوچھ رہی تھی کہ اوون ٹھیک کروایا یا نہیں۔ کب سے کہہ رہی ہوں ۔ مسلسل گیس لیک ہورہی ہے۔ سارا دن گھر بھی بند رہتا ہے اگر استعمال کے بعد مین سوئچ بند کرنا بھول گئی تو ۔۔۔ مجھ کو توسوچ کر ہی خوف آتا ہے۔ پانی کی موٹر بھی خراب پڑی ہے ذرا جو ذمہ داری کا احساس ہو۔۔۔۔ ”

“لو بیکار ہے تم سے بات کرنا تم تو پھر اپنے شغل میں لگ چکے ہو ….. لگے رہو بیٹا اس خرافات میں کچھ نہیں کہنا تم سے مجھے اب جا رہی ہوں اپنے کمرے میں ……”
اللہ میں کیا کروں اس کا،کیسی آزمائش میں پڑ چکی ہوں، کتنے ان کے بہتر درخشا ں مستقبل کے خواب سجائے تھے میں نے، مگر اب تو مجھے خوف آنے لگا ہے یاللہ میں کیا کروں کہاں چلا گیا اس کا اخلاق جب سے اس کے ہاتھ میں یہ نیٹ، مابائل آیا ہے یہ تو مزید بگڑتا ہی چلا جارہا ہے .ہر وقت ا سکی انگلیاں میسج ہی ٹائپ کرتی نظر آتیں ہیں نماز تک کی ہوش نہیں رہتی اور جو کبھی گنڈاسے دار نماز پڑھ بھی لے تو پتہ نہیں نماز پڑھتے وقت کیسے موبائل ہاتھ سے رکھ دیتا ہے ہر نیا پیکج حاصل کر کے پھر ہزاروں لاکھوں میسجز بھیجنے کے جنون نے اس کو اپنے ارد گرد سے بے نیاز سب سے گم ہو چکا ہے، نہ کسی کے یہاں جا نے، ملنے کا شوق ہے اور نہ ہی، کسی کو بھی کمپنی دینا پسند کرتا ہے …..

بس نیٹ فرینڈ ، اور مسلسل ٹاک شاک، گپ شپ رات دن بس اب یہی شوق پال لیا ہے اس نے ….”
“کیا بات ہے امی اکیلے کمرے میں کس سے باتیں کی جارہی ہیں، ضرور بھیا سے کھٹ پٹ ہوئی ہو گی جب ہی خیالوں ہی خیالوں میں اپنے آپ سے بولے جا رہی ہیں وہاں بھیا چلائے جا رہا ہے کہ کیا پکایا ہے ”
“جلدی سے کھانا گرم کریں بہت بھوک لگی ہے اوکے بلا لو اس کو اور خود بھی کھانے کے لیے آجاؤہیں یہ کیا، لو جی نہ کپڑے بدلے نہ نماز پڑھی عبا یہ سمیت بستر پر دراز اس منحوس مو بائیل میں لگ گئیں ….. میسج پڑھ رہی تھی امی بس اٹھتی ہوں کم از کم جو تے تو اتا ر کر لیٹتیں، پتہ بھی ہے نماز کے کپڑے ہوتے ہیں میرے یہ ایسے نہیں سنے گی امی میں بتاتا ہوں اس کو،یہ مارا میں نے جھپٹا اور یہ آگیا میرے ہاتھ میں اس کا موبائل امی امی دیکھے نا اس کو، دو میرا موبائیل ، میں چھوڑونگی نہیں تم کو بھیا دیتے ہو شرافت سے یا میں پناخن ماروں

خدا کے لیے چپ ہو جا وٗ ، کیا مسئلہ ہے تم لو گوں کے ساتھ۔ اسکول سے جلدی اسی لیے آ گئی تھی کہ گولی کھا کر کچھ دیر سو جا وٗں گی مگر تم کو ذرہ بھر بھی ماں کی تکلیف کا احساس نہیں۔ اور طالعہ تم نے ابھی تک عبا یہ بھی نہیں اتا را ، اتنی دیر ہوگئی کالج سے آئے ہوئے، بجائے ٹیبل لگانے اورمیرا ہاتھ بٹانے کے اپنی فضول کی لڑائیوں میں لگ گئیں ہونہہ یہ کون سا لاٹ صاحب ہے جس کے لیے میں کام کروں، اور آپ کی طبیعت خراب ہے تو جا ئیں آرام کریں، میں تو ویسے بھی ڈایٹنگ پر ہوں،جس کو بھوک لگے گی وہ خود ہی کھا لے گا سو نو ٹینشن، بڑے افسوس کی بات ہے طالعہ، جانتی بھی ہو کہ بابا کے انتقال کے بعد لیکچرار کی جاب کر کے، بڑی جا نفشانی سے تم دونوں کی پر ورش کر رہی ہوں لیکن اب تمہارے بد اخلاق ر ویوں کو دیکھتے ہو ئے اپنی ساری محنت اکارت جاتی لگ رہی ہے نہ تم کو گھر کے کاموں میں کو ئی دلچسپی ہے اور نہ ہی طلحہ نے کسی بھی کام کی ذمہ داری اٹھا ئی ہو ئی ہے۔ ایک ایک کام کو کہتے کہتے میرا منہ خشک ہو جاتا ہے مگر تم دو نو ں میں سے کسی کے بھی کان پر جو ں تک نہیں رینگتی۔ الٹا دو بدو جواب دے کر جان چھڑانے کی کو ششوں میں مصروف ہو جاتے ہو

“چلو بھئی امی کا لیکچر شروع ، میں تو کھسکوں یہاں سے”
” اففففف، اللہ کیوں بلا لیا اتنی جلدی ارشد کو۔”
” آئیں ارشد دیکھیے یہ آپ کی لاڈلی اولاد کتنی مجھ سے بد تمیزی کر رہی ہے ….”
“امی کھانا کب گرم ہوگا اور سوچوں میں مگن رافعہ گیس لیک کا خیال کیے بغیر روز کی طرح کچھ دیر کھڑکیاں کھول کر جمع گیس نکالے بغیر چولہا جلا چکی تھی . لمحوں میں زور دار دھماکہ ہوا تھا ؛ یا رافعہ کا وقت آ گیا تھا.اپنی بے معنی سوچوں میں گم وہ بھول چکی تھی کہ اسکول سے آتے ہی وہ اپنے کمرے میں آرام کرنے چلی گئی تھی۔ صبح سے کچن بند پڑا تھا ۔ ہمیشہ وہ کھڑکیاں ، دروازے کھول کر تھوڑی دیر انتظا ر کرکے پھر احتیاط سے چولھا جلا کر ضروری کام کرکے مین سوئچ بند کردیا کرتی تھی ۔ بچوں کے شور شرابے، کچھ صبح سے اپنی طبیعت کی خرابی، وہ تمام احتیاط با لا ئے طاق رکھتے ہو ئے چولھا جلا چکی تھی ۔ طلحہ دیوانہ وار دوڑا تھا مگر اب دیر ہو چکی تھی، رافعہ کا پورا وجود آگ کے شعلوں میں جل چکا تھا ، طالعہ پھٹی پھٹی آنکھوں سے ماں کے خاکستر وجود کو دیکھ رہی تھی .

ڈھیر سارے لوگوں کی موجودگی کے باوجود گھر پر سوگوار خاموشی طاری تھی ، سفید چاندنی پر بیٹھے لوگ مرحومہ کو ایصال ثواب پہنچانے کے لیے چپکے چپکے دعائیں پڑھ رہے تھے اور طالعہ کونے پر بیٹھی سسکتی ہوئی سوچ رہی تھی کہ کاش وہ خود ہی کھانا گرم کرلیتی . اتنے دنوں سے تو زیادہ تر مائیکرویو ہی میں کھانا گرم ہورہا تھا پھر اب امی کو کیا سو جھی تھی کہ چولہا جلا دیا ۔ اور طلحہ کا پچھتاوا اب ساری عمر کے لیے سوالیہ نشان بن گیا تھا …

سوال۔۔۔۔۔۔۔؟ – عالیہ شمیم” ایک تبصرہ

  1. بہت اچھی کہانی، بچوں کے اور بڑوں دونوں کے لئے سوچنے اور غور کرنے کی تحریک دیتی تحریر ۔۔

Leave a Reply