حرا اور قائد کا پاکستان! – ہادیہ جنید




“حرا! کل قائدِ اعظم کا یومِ پیدائش ہے اور اس موقع پر آپ کو تقریر کرنی ہے”
حرا کے لیے ٹیچر کی بات اچانک حملے کے طرح تھی۔
“ٹیچر! کل کیا واقعی کل؟”

حرا کو پتہ تھا کہ یومِ پیدائش کل ہے مگر پھر بھی وہ گھبرا کر اس طرح کے سوال کر رہی تھی۔
“جی بیٹا!میں جانتی ہوں میری با آپ کے لیے ایک اچانک حملہ ہے،مگر جن کو تقریر کے لیے منتخب کیا گیا تھا،اُن کی طبیعت خراب ہو گئی،آپ تو جانتی ہی ہونگی،آپ کی دوست نمرہ کی بات کر رہی ہوں،اب تیّاری کرانے کا وقت بھی نہیں ہے،مگر مجھے پتہ ہے،آپ اتنی قابل ہیں کہ مجھے نااُمید نہیں کرینگی،کل اسمبلی میں تیّار رہیے گا،اللہ پہ بھروسہ رکھیے،مجھے یقین ہے آپ بے پناہ اچھی پرفارمنس دینگی”ٹیچر کی یقین دہانی کرانے پر حرا کو کچھ حوصلہ ملا۔پڑھائی کے دوران بھی وہ تقریر کے بارے میں سوچ رہی تھی۔
“کیا ہوگا،کیسے ہوگا،کس سے مدد لوں ،کس سے تقریر لکھوائوں؟”یہی باتییں حرا کو گہری سوچ میں ڈال رہی تھیں۔

حرا گھر پہنچی تو گھر میں رونے کی آوازیں آ رہیں تھیں،وہ ویسے ہی ہریشان تھی،مگر اب گھر سے آنے والی آوازوں نے اُسے مزید پریشان کر دیا۔
“کیا ہوا امّی،فرخندہ(کام والی) رو کیوں رہی ہے؟”حرا نے امّی سے پوچھا۔
“بیٹا،اس کا بیٹا چھت سے گر گیا تھا،اس کا انتِقال ہو گیا،اُسی کا بتا کر رو رہی ہے”حرا کا دل رونے لگا۔
“وہ پڑھتا نہیں تھا،اس کی کالونی میں تو بچّوں کا اسکول ہے جہاں مفت تعلیم دی جاتی ہے؟”

امّی کہنے لگیں،
”بیٹا!وہ اسکول جن لوگوں نے بنایا ہے،وہ صرف اپنی ہی برادری کے بچّوں کو مفت تعلیم دیتے ہیں،باقی بچّوں سے فیس لی جاتی تھی،جو فرخندہ دے نہیں سکتی تھی،نتیجتاً بچّہ ادھر ادھر کھیلتا رہتا تھا،پھر جب اسکو ہسپتال لے کر جانے لگے،تو سڑک پر کوئی VIP موومنٹ جارہی تھی جسکی وجہ سے ٹریفک بند تھا،خون زیادہ بہ گیا اور پھر بچّہ جان سے ہاتھ دھو بیٹھا”

حرا کی آنکھوں میں آنسو آگئے،وہ تقریر کی ذمّہ داری بھول گئی،اس کا سر درد اے چکرا رہا تھا،کچھ کھایا پیا بھی نہ گیا۔اگلے دن طبیعت کچھ بہتر ہوئی،حرا فجر میں اٹھی اور نماز کے بعد دعا مانگنے لگی،”یا اللہ میرے ملک کی اصلاح فرما،یہاں کے غریبوں پر رحم فرما،یہاں کے لوگوں کو شعور عطا فرما،یا اللہ آ ج تقریر کرتے ہوئے میری مدد فرما،آمین”اسمبلی میں حرا کا نام پکارا گیا،حرا کی تیّاری نہ ہونے کے برابر تھی،اسٹیج پہ جا کر وہ کیا بولے گی،اس کو خود بھی معلوم نہ تھا۔

“بسم اللہ ارحمن الرحیم،
السلام علیکم،حاضرین محفل،
میری تقریر کا موضوع ہے،کیا یہی ہے قائد کا پاکستان؟

اسلامی جمہوریہ پاکستان قائد نے جس مقصد کے تحت بنایا تھا،وہ بہت عظیم تھا،انہوں نے ایک ایسے پاکستان کا خواب دیکھا تھا،جہاں کے نوجوان اعلٰی تعلیم کی طاقت سے دنیا میں اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوا سکیں،جہاں پر قائم امن امان کی مثالیں دنیا میں دی جائیں،مگر صد افسوس!سچّائی کے انمول اصولوں کو سنبھالنے والے قائد کے پاکستان کو،شاید ہم نہ سنبھال سکے۔قائد نے ہمیں چاند تارے والے پرچم کے نیچے یکجا کیا،مگر ہم نے خود کو نیلے،پیلے،لال،ہرے اور کالے جھنڈوں کے نیچےٹکرے ٹکرے کر ڈالا۔اسلام کے جھنڈے تلے ایک ہو کرالگ وطن کے لیے جدوجہد کرنے والے مسلمان،مسلکی اور کہیں برادری کی بنیادوں پر خون کے پیاسے ہوگئے،کیا یہی ہے قائد کا پاکستان؟

نہیں ہرگز نہیں!ہمیں سرحدوں کی حفاظت کی خاطر دشمنوں کے سامنے سیسہ پلائی ہوئی دیوار بننا تھا،مگر یہاں کانوجوان تو چند روپوں کی خاطر اپنے ہم وطن کی جان کا دشمن ہے،قائد کا تو پیغام تھا،کام کام اور صرف کام،مگر یہاں سوشل میڈیا پر وقت کا زیاں سب کے سامنے ہے،کیا یہی ہے قائد کا پاکستان جہاں غریب بچہ ہاتھوں میں کتابوں کے بجائے تھیلا لے کر سڑک پر کچرا چنتا ہے،جہاں غریب روٹی کو ترستا ہے،جہاں امیر اور غریب کے لیے الگ الگ قانون ہے،نہیں میرے دوستوں یہ وہ پاکستان نہیں ہے مگر ہم اسملک کے حالات کو بدل سکتے ہیں!ہم مایوسیوں کے اندھیروں کو ذہانت سے دور کرسکتے ہیں ۔ہم تعلیم کے میدان میں ترقّی کرکے اس عظیم ملک کو قائد کا پاکستان بنا سکتے ہیں،ہم اقبال کا وہ شاہین بنینگے جو رنگو نسل کے بت کو توڑ کر اس ملک کو ترقّی دینے کے لیے محبت کادرس دے کر ایک ساتھ محنت کرینگے،ان شاء اللہ،شکریہ”

اور پھر اسمبلی ہال زوردار تالیوں سے گونجنے لگا،اور حرا سوچ رہی،اللہ کرے میری باتیں لوگوں کی سوچ بھی بدل دیں!!!!

Leave a Reply