بہار آنے کو ہے – ایمن فاطمہ




اسلام علیکم!
زینیہ نے سر اٹھاکر تھکن ذدہ مسکراہٹ سیماب کی طرف اچھالی اور دوبارہ سر رجسٹر پر جھکالیا . سیماب تھوڑا حیران ہوتی اسکے ساتھ بیٹھ کر اسکے رجسٹر پر دیکھنے لگی جس پر زینیہ آڑی ترچھی , بے ترتیب لکیریں کھینچ رہی تھی. سیماب اسکی بہترین دوست تھی اور جانتی تھی کہ زینیہ ضرور کسی پریشانی میں مبتلا ہے جبھی آجکل بجھی بجھی ہے.

زینی!!! اس نے آواز میں شوخی پیدا کرکے اسکو پکارا
ہوں……جواباً اداس لہجے میں وہ بس اتنا بول سکی.
کیا تم نے اداس سا الو دیکھا ہے کبھی؟ اپنی مسکراہٹ دباتے ہوئے سیماب نے پوچھا
ہاں دیکھا ہے… اب کے آواز میں تھوڑی حیرانی تھی
تم بالکل ویسی لگ رہی ہو.. سیماب نے کہتے ہوئے ہلکا سا قہقہہ لگایا اور ساتھ ہی احتیاطاً تھوڑا پیچھے ہوئی اسے یقین تھا سنتے ہی زینیہ اسے رجسٹر ضرور دے مارے گی.
مگر __ایسا کچھ نہ ہوا …….. شاید وہ بہت ہی اداس تھی
زینی کیا ہوا ہے؟ اب کے اس نے سنجیدگی سے پوچھا
پتا نہیں!!! ….. جواب غیرمتوقع تھا لیکن سیماب کو ساری کہانی سمجھ آگئی
اچھا چلو چھوڑو تم.. آج شام کو میرے گھر آنا میں نے کچھ دکھانا ہے!
سیماب کے پاس اسکے ہر غم کا حل تھا.
دیکھوں گی… اسی اداس , بیزار آواز میں بولی
دیکھوں گی نہیں آؤں گی!! جواباً سیماب نے اسے آنکھیں دکھائیں اور بیگ اٹھاکر خداحافظ کہتی نکل گئی
زینیہ اسکے انداز پر بھی مسکرا نہ سکی_

……………………

زینیہ ایک ذہین اور حساس لڑکی تھی جس کے ماں باپ وفات پاچکے تھے اور وہ اپنی دادی ماں کے ساتھ رہتی تھی
رشتوں کی کمی محسوس کرتی اور اسے نئے رشتے بنانے کی لگن رہتی
بہت دوستیاں کرتی
مگر آپ کی زندگی میں آنے والا ہر شخص خلوص اور محبت کی مٹی سے نہیں گندھا ہوتا یہی معاملہ زینی کے ساتھ ہوا وہ بار بار دھوکہ کھاتی نئے رشتے بناتی انکے ٹوٹنے پر روتی
اب بھی اس نے اپنی گہری دوست عنایہ کو کلاس روم میں داخل ہوتے ہوئے اپنے متعلق بات کرتے سن لیا تھا اور ہمیشہ کی طرح بہت ہرٹ ہوئی تھی
ہر بات کو دل سے لگانے , گھنٹوں آنسو بہانے والی ننھی لڑکی اسے سمجھ نہیں آتا اسکی زندگی میں کب سب ٹھیک ہوگا؟
کب بہار آئے گی؟کب محبت کا موسم آئے گا؟
…………………..

اسلام علیکم…
سیماب اس وقت اپنے گھر کے لان میں کینوس اسٹینڈ پر کینوس سجائے کوئی پینٹنگ بنانے میں مشغول تھی اس مانوس تھکن ذدہ آواز سن کر دھیرے سے مسکرائی اور ہاتھ میں پکڑے برش رکھ کر مڑی
وعلیکم اسلام!!!! گرمجوشی سے کہتے ہوئے اس نے زینیہ کو گلے لگایا.
ہاں کیا دکھانا ہے؟بیزار سی آواز میں اس نے پوچھا تھا
ارے ابھی تو آئی ہو سانس تو لے لو
تم بیٹھو میں چائے لے کر آتی ہوں میں نے پہلے ہی رکھوادی تھی بن گئی ہوگی.. سیماب مسکراتے ہوئے اندر چلی گئی اور زینیہ وہیں کرسی پر بیٹھ کر اس کے کینوس پر دیکھنے لگی.
کینوس کے درمیان میں ٹیپ لگائی گئی تھی یوں جیسے دو مختلف چیزوں کے درمیان ایک دیوار کھڑی کی گئی ہو.
پہلے حصے پر ذرد رنگ بکھرا ہوا تھا
ڈھلتی شام, ڈوبتاسورج, ذرد بکھرے پتے, اجڑا درخت,اداس لوٹتے پرندے !!!
زینیہ کو سب بالکل اپنی زندگی کی مانند لگا
دوسری طرف البتہ شفاف تھی مصور کے خیالات ابھی اسکے ذہن نے آزاد نہ کیے تھے.
زینیہ اس منظر کو اپنی زندگی سے ملانے میں مصروف تھی اسی وقت سیماب نے آکر چائے کا مگ اسے تھمایا.
تم نے کتنا اداس منظر بنایا ہے !!
بے خیالی میں چائے کا گھونٹ بھرتے وہ کہنے لگی.
خزاں کا موسم اس لیے اداس ہوتا ہے کیونکہ اس میں چیزیں ادھوری ہوتی ہیں

(جیسے میری زندگی. اس نے دل میں سوچا)
پتے شجر سے علیحدہ ہوکر بکھر جاتے ہیں اور پرندے اس لیے اداس ہیں کہ یہ لوٹ رہے ہیں اور زینی واپسی کا سفر ہمیشہ اداس ہوتا ہے آپ نے اپنے دوستوں کو کسی ہم سفر کو کھویا ہوتا ہے ہمت ختم ہوجاتی ہے تنہا ہوجاتے ہیں آپ!
سیماب نے پرندوں کے جھنڈ میں موجود سب سے پیچھے سب سے الگ پرندے جو دیکھا
(تنہا جیسا میں خود کو محسوس کرتی ہوں بالکل اکیلی….اس نے اداس شام پر ایک نظر دوڑائی)
پتا ہے کبھی زندگی بہت عجیب ہوجاتی ہے انسان ماضی,حال اور مستقبل کی کشمکش میں رہ جاتا ہے
یادِ ماضی,پریشان حال اور فکرِ مستقبل تھکا کر رکھ دیتے ہیں سب ویران اداس لگتا ہے بالکل خزاں کی طرح!
اور پھر…..
سیمی نے سبز رنگ پانی میں گھولا
زینی چپ چاپ اسے سن رہی تھی
پھر بہار آتی ہے !
اس نے سبز رنگ کینوس کے خالی حصے پر پھیلایا
نیا سورج, نیا سفر, نئی منزل , نیا عزم…….
دھیرے دھیرے کینوس پر ابھرتا سورج , پر پھیلاتے اونچا اڑتے پرندے سب ابھر رہے تھے
کبھی خزاں دیر پا نہیں ہوتی تھکا ضرور دیتی ہے مگر بہار آجائے جب خزاں کا شائبہ تک نہیں رہتا
سیمی نے آہستہ سے ٹیپ اکھاڑی بہار اور خزاں آمنے سامنے تھے
تو پیاری یونہی زندگی میں خزاں بہار آتی ہے لوگ روٹھ جاتے ہیں بہت سے ساتھ چھوٹ جاتے ہیں کبھی خوشیوں کا موسم کبھی غم کی پرچھائیاں

وقت بدلتا ہے اچھا ہمیشہ نہیں رہتا تو برا بھی نہیں رہتا ہے. بس تم مایوس مت ہونا جب ہم تنہا ہوتے ہیں ہمارا “الودود” ہمارے ساتھ ہوتا یے جو ہر شخص ہر رشتے سے بڑھ کر ہم سے محبت کرتا ہے. ہماری زندگی کے فیصلے وہی کرتا ہے پھر بھلا کیسے ممکن ہے کہ ہم سے ستر ماؤں سے ژیادہ پیار کرنے والا ہمارے خلاف فیصلہ لے. وہ آزمائش دیتا ہے تو اس سے نکالتا بھی ہے. سیمی زینی کے سامنے بیٹھی نرمی سے اسکا ہاتھ تھامے کہہ رہی تھی . لفظ مرہم بن رہے تھے ہر غم ہر درد کو مٹارہے تھے . زینی نے ایک نظر تصویر کو پھر سامنے بیٹھی سیمی کو دیکھا اور بولی:
شکریہ سیمی میری زندگی میں ہونے کے لیے!!!

پھر نم آنکھیں اٹھاکر آسمان کی طرف دیکھا رات ہورہی تھی…. سورج ڈوب رہا تھا…مگر ایک نئے دن کے لیے ایک نئی بہار ایک نئے سفر کے لیے !!!!اس نے دھیرے سے مسکرا کر کہا

شکریہ میرے الودود مجھے ہر پل تھامنے کے لیے !!!!

Leave a Reply