زندگی پھر بھی حسین ہے – نزہت ریاض




”حسن اٹھو بیٹا کام پر نہیں جانا کیا ۔ ” حسن امی کی أواز پر أنکھیں ملتا ہوا اٹھ کر بیٹھ گیا باورچی خانے سے امی کی آواز آئی … “جلدی منہ ہاتھ دھو کر أؤ میں ناشتہ لا رہی ہوں ۔

حسن منہ ہاتھد دھو کر صحن میں رکھے تخت پر أکر بیٹھ گیا امی نے اس کے أگے چاۓ اور رات کی روٹی لا کر رکھ دی ۔ حسن نے ناشتہ کیا اور امی نے چھولے کی چاٹ کا تھال حسن کے سر پر رکھنے میں اس کی مدد کی اور حسن چھولے بیچنے نکل کھڑا ہوا ۔أج سے دو سال پہلے ۱۳ سال کے حسن کی زندگی بہت پر سکون تھی وہ بھی سب بچوں کی طرح اسکول جاتا تھا کیونکہ دو سال پہلے تک اس کے ابو زندہ تھے اور ان کی ہر متوسط طبقے کی طرح کی زندگی گزر رہی تھی۔ حسن کے ابو مکینک تھے اور پڑھے لکھے نہیں تھے انہیں اپنے بچوں کو پڑھانے کا بہت شوق تھا حسن اور اس سے چھوٹی دو بہنیں تینوں بہن بھائ اسکول جاتے تھے ۔پھر ان کی پر سکون زندگی میں وہ بھیانک ۳۱ دسمبر أیا جو ان کے سر سے باپ کا سایہ چھین کر لے گیا حسن کے ابو کی رات ۱۱ بج کر ۴۵ منٹ پر چھٹی ہوئ اور انھوں نے گھر کی طرف پیدل چلنا شروع کیا ۔ عموماً وہ پچیس منٹ میں گھر پہنچ جایا کرتے تھے۔ مگر أج نیو ایر کی گہما گہمی ہر طرف ہو رہی تھی نیو ایر مغربی تہذیب کی اندھی تقلید جس کا ہمارے مذہب اور معاشرے کا دور دور تک کوئ واسطہ نہیں ہے

خیر حسن کے ابو رش سے بچتے بچاتے تیز تیز قدموں سے گھر کی طرف جا رہے تھے بارہ بج گے اور ہر طرف سے ہوای فایرنگ شروع ہو گئ نہ جانے کہاں سے ایک گولی أکر حسن کے ابو کی گردن میں لگی اور ان کی انھوں نے وہیں دم توڑ دیا نیا سال منانے کی خوشی میں گولیاں چلانے والوں کو اس بات کی خبر بھی نہ ہوگی کہ ان کے اس چھچورے پن کی وجہ سے کسی کے گھر کا واحد کفیل اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھا ہے اب گھر کو چلانے اور دونوں چھوٹی بہنوں کو پڑھانے کی ذمہ داری حسن نے اپنے کمزور کاندھوں پر لے لی اپنی تعلیم کی قربانی دے کر اس نے چھولے بیچنے شروع کر دیے کیونکہ کوئ اور کام تو اسے أتا نہیں تھا اس کے ابو کہتے تھے بیٹا کام تو ساری زندگی ہی کرنا ہے ابھی تم صرف پڑھائ پر توجہ دو ۔ اور اب وہی حسن کچھ لوگوں کی دل لگی اور چھچورے پن کی وجہ سے اپنے باپ کے شفیق ساے سے محروم ہو کر اپنی عمر سے پہلے محنت مزدوری کر رہا ہے جبکہ ان بے حس لوگوں کا کیا گیا ان کی زندگی پھر بھی حسیں ہے .

Leave a Reply