اٹھو کراچی سانحہ مری کے لئے بھی – عالیہ زاہد بھٹی




سانحات کے اژدہام کی حکومت میں ایک اور سانحہ ،مری کا سانحہ جہاں سیاحوں کی سیاحت اگلے جہان کو آباد کر گئ جہاں دل آباد سے دل برباد تک کی روداد کا سفر چند کہر میں ڈوبے برفانی گھنٹے تھے جہاں نوحے سے پہلے قہقہے تھے موت کی ساکن فضاؤں سے پہلے زندگی کے کھنکتے نغمے تھے .

سوشل میڈیا پر وائرل کی جانے والوں کی آخری خوش کن لمحات کی ویڈیوز میڈیا بار بار نشر کرکے دکھے اور تڑپے ہوئے دلوں کو اور تڑپا رہا ہے ایسی ہی ایک ویڈیو میں صاحب خانہ اپنے بچوں کی انجوائے منٹ کی وضاحت بتاتے ہوئے پوچھ رہے ہیں کہ “مزہ آیا” ……….. ” بہت زیادہ”
“گھر واپس جانے کا دل ہے” بچوں کا جواب تڑپا رہا ہے جس میں انہوں نے کہا
” نہیں جانا” اور نجانے وہ کیسے لمحے تھے کہ ان کی سن لی گئ اور وہ گھر واپس آنے کے بجائے اپنی آخری اور ابدی منزل کی طرف روانہ ہو گئے پوچھنے والا اور بتانے والے اب کوئی بھی موجود نہیں ہیں . ان یخ بستہ ہواؤں اور وادیوں میں نجانے لطف کے وہ کونسے پل تھے جو تھکے ماندے وجود بھی گھر واپس آنے کی چاہت کے بجائے مزید لطف کشید کرنے کے خواہاں تھے معصوم تھے،ناسمجھ تھے ان کو نہیں معلوم تھا کہ یا معلوم بھی تھا تو بھول گئے تھے کہ …. “ہوم سویٹ ہوم”
“اپنی تنکوں سے بنی جھونپڑی بھی محل سے زیادہ پیاری لگتی ہے” مگر ہمارے ناعاقبت اندیش اور غاصب و لالچی حکمرانوں کی بے حسی کی وجہ سے ،نامساعد حالات اور خراب موسم کے باوجود بڑے پیمانے پر سیاحت کو فروغ دینے کی آڑ میں اپنے حکومتی غنڈہ ٹیکسوں کی وصولی کے لئے اشتہاراتی مہم ،عوام کو رغبت دلاتے پیغامات،دعوتی بنیاد پر سیاحت کو فروغ دینے والے ٹویٹس،شئیرنگز اور نجانے کیا کیا ایک وزیر موصوف کا بیان کہ

” لاکھوں سیاحوں کا مری کو رخ کرنا ملکی معیشت کے لئے فائدہ مند ہے” اور اس بیان کے دوسرے ہی دن عوام نے تاریخ سیاحت کا وہ بھیانک فائدہ دیکھا کہ جہاں ابلیس کا کلیجہ بھی کانپ گیا ہوگا . بغیر سہولیات ،خطرناک ترین موسم میں محض اپنے ٹیکسس کھرے کرنے کے چکر میں سیاحوں کی کثیر تعداد کو بند گلی میں دھکیل دیا گیا کہ جہاں سے واپسی بھی ممکن نہیں ….. مجھے یاد ہے کہ جولائی 2004 میں شادی کے بعد ہم مری اور کاغان،ناران گئے تھے اور یونہی ان دل خوش کن نظاروں کے سحر میں ڈوب کر میں نے خواہش کی تھی کہ .. “کاش ہم ان وادیوں میں برف باری کے زمانے میں آ سکیں” ، تو ہمارے ساتھ موجود وہاں کے مقامی ڈرائیور نے بتایا تھا .” ناں جی ناں کاغان،ناران کا علاقہ تو موسم کی شدت،لینڈ سلائیڈنگ اور حادثات کی کثرت کے باعث اکتوبر سے مارچ تک بند کر دیا جاتا ہے یہاں صرف چھ ماہ زندگی جاگتی ہے اور بقیہ چھ ماہ باہر کی دنیا سے چھپ کر سو جاتی ہے” ” ایسا کیوں؟” ہم نے سوال کیا .. عوام کے فائدے کے لئے ان جانوں کے تحفظ کے لئے عوام تو سیدھے سادے ہوتے ہیں انہیں کیا معلوم ان علاقوں کے سرد وگرم وہ تو سیاحت کے شوق میں ہر وقت تیار کامران ہیں کہ موقع ملے تو ان برفانی دنوں کے خوش کن نظاروں کو کشید کر لیں مگر ان کو تو نہیں معلوم کہ ان کے لئے کس قدر خوفناک بلکہ شاید آخری سفر ثابت ہو سکتا ہے بچہ آگ میں ہاتھ ڈالنا چاہے گا تو کیا ماں ڈالنے دے گی؟ نہیں ناں تو یہ” ماں کے جیسی ریاست “کیسے عوام کو اس کی خطرناک خواہش پر روک نہیں سکتی ؟ کیوں آج یہ نام نہاد خیر خواہ حکومت ٹیکس کے نام پر عوام سے سیاحت کی آڑ میں ان کی قبروں کے سنگ میل عبور کروا رہی ہے ؟

کیوں نہیں پابندی لگا دی جاتی ماضی کی طرح کہ عوام اپنی جانیں داؤ پر لگا کر اس سیاحت کی جانب نہ بڑھیں کہ جہاں حکومت کے کھوکھلے نعروں کی طرح سہولیات اور آسائشات کے فقدان کے باعث انتہائی خطرناک اور جان لیوا ہے . جہاں کے بڑے بڑے مگرمچھوں جیسے بے حس ہوٹل مالکان سے ٹیکسوں کے نام پر اپنے حصے کے بھتے وصول کرنے والی حکومت انہیں عوام سے ناجائز منافع خوری سے منع کیوں نہیں کرتی . مری اور گلیات سے سیاحت کے نام پر اپنی جیبیں بھرنے والے حکمران کیوں نہیں سوچتے کہ اس خطرناک موسم میں پر خطر راستوں کی درستگی کا اہتمام ممکن نہیں ہے تو انہیں اس موسم میں آنے نہ دیا جائے . ” روک سکو تو روک لو” کہنے والوں روک لیتے ناں ان سیاحوں کو بھی موت کے منہ میں جانے سے تم ڈی چوک کے مجرا نما دھرنے میں جن نعروں پر عوام کو نچواتے تھے آج بھی تو اس ڈی جے کی تھاپ پر کہہ کیوں نہیں دیتے کہ تم خود چور حکمران ہو وہ چور حکمران جو عوام سے بجلی،پانی،گیس،روڈ،موٹر وے ،سیر و سیاحت ،تعلیم ،صحت،پیدائش ،موت یہاں تک کہ قبروں پر بھی ٹیکس وصول کر کر کے بنی گالا میں ٹھاٹ سے رہتے ہو اور اپنے گھر کے خرچ کے لئے جن دوستوں سے ماہوار اخراجات لیتے ہو انہیں بدلے میں ان ٹیکسوں کی چھوٹ اور دیگر مراعات سے نوازتے ہو .. تم ہی ہو ناں وہ جن کے لیے حبیب جالب کہہ گئے کہ
” تم نے لوٹا ہے صدیوں ہمارا سکوں”
تو سن لو عوام اب ان سانحات کا حساب مانگتی ہے

سانحہ مری میں دور دیس عازمِ سفر ہو جانے والوں کی بے کسی اور بے بسی کا جواب مانگتی ہے . وہ تو چلے گئے اپنے لہو کا خراج لیے بغیر مگر ہم تو زندہ ہیں ہمارے جسم میں سانسوں کی حرارت باقی ہے اسے حق شناسی کے جذبوں سے مہمیز دے کر اپنے لیے نہ سہی ان بے کسی اور بے بسی میں مارے جانے والے معصوم سیاحوں کے لئے ہی آواز اٹھائی جائے یہاں شہر کراچی میں بلدیاتی کالے قانون کے ہاتھوں جیتے جی درگور ہو جانے والی عوام کا مقدمہ لیکر کھڑے ہونے والے حق کے راہییوں کے ساتھ آؤ آج سانحہ مری کا شکار افراد کے لیے بھی کھڑے ہو جاؤ آؤ میرے شہر کے مکینوں اٹھو اب تم پر قرض بڑھ گیا ہے اس شہر بے اماں کی حرمت کے لئے نکلنے والو مری کے جاں بحق سیاحوں کے لہو کا قصاص بھی تم ہی نے لینا ہے کہ تم تو کراچی ہو ناں؟ ہر کسی کو دینے والے …. ہر کسی کے غم کو لینے والے …. ہر کسی کو اپنے اندر سمو لینے والے …. تو چلو آؤ مری کے سیاحوں کے لئے بھی آواز سے آواز ملاؤ آؤ آج حق کے دھرنے کا گیارہواں دن ہے آؤ اپنی پلکوں پہ ستارے سجا کر آؤ ،آؤ اپنے کردار کی شمع جلا کر آؤ اٹھو آگے بڑھو کراچی کہ حبیب جالب بھی کہہ کہہ کر چلے گئے اب تو کہ

صرف چند لوگوں نے حق تمہارا چھینا ہے
خاک ایسے جینے پر یہ بھی کوئی جینا ہے
بے شعور بھی تم کو بے شعور کہتے ہیں
سوچتا ہوں یہ ناداں کس ہوا میں رہتے ہیں
اور یہ قصیدہ گو فکر ہے یہی جن کو
ہاتھ میں علم لیکر جو تم نہ اٹھ سکو لوگو
کب تلک یہ خاموشی چلتے پھرتے زندانوں
زندگی سے بیگانو تین کروڑ انسانوں
تین کروڑ انسانوں …!

Leave a Reply