سانحہ مری – افشاں نوید




پھر کہتے ہیں کراچی میں جماعت اسلامی کا دہرنا سیاست ہے۔یہ الیکشن کی تیاری ہے۔ سانحہ مری کے بعد کس کا اعتماد قائم ہے حکومت پر…. دودرجن کے لگ بھگ قیمتی جانیں۔۔سردی میں ٹھٹھرتی ہوئی ریسکیو کی راہ تکتی ہوئی پتھرا گئیں۔ اب بلیم گیم شروع۔۔

حکومت نے تین رکنی کمیٹی بنادی۔۔واہ شاباش۔۔حکومت کا کام کمیٹیاں۔ بنا کر خاک ڈالنا ہی تو ٹہرا۔ ماضی قریب میں طیارہ ماڈل کالونی کی آبادی پر گر کر تباہ ہونے سے کتنی جانیں ضائع ہوئی تھیں۔تحقیق کی رپورٹ آئی تو یہ آئی کہ پائلٹ کی غلطی تھی۔ اب تحقیق سے پہلے ہی فؤاد چوہدری صاحب فرما رہے ہیں کہ لوگوں میں کامن سینس ہونا چاہیے۔یلغار ہی کیوں کی مری پر۔اس موسم کو گھر پر یوں اور یوں انجوائے کر لیتے۔ سانحات ساری دنیا میں ہوتے ہیں۔اس کے بعد ذمہ داران کے روپے بتاتے ہیں کہ یہ حکمران حکمرانی کے قابل بھی ہیں یا نہیں۔ ایک وزیر موصوف فرما رہے ہیں کہ ہم دوسرے سیاحتی مراکز پر کام کررہے ہیں جب وہ کھل جائیں گے تو مری پر رش نہیں ہوگا پھر ایسے حادثے بھی نہیں ہونگے۔ عمران خان نے دلی افسوس کا اظہار کردیا۔ لواحقین بتارہے ہیں کہ ریسکیو کے لیے وزیراعظم سیکرٹریٹ سمیت ہر سطح پر رابطے کئے گئے۔
کسی اور ملک میں پھنسے ہوئے لوگ مدد کے لیے پکارتے تو ریاستی سطح پر ایک کھلبلی مچ جاتی۔خود صوبے کے گورنر اور وزیراعلی ریسکیو کی نگرانی کرتے۔مگر وہ ترقی یافتہ ملک ہوتے ہیں جہاں انسانی جان کی کوئی قدر ہوتی پے ۔یہاں فرد کی جان اہم ہے نہ اس کی تکریم۔یہاں عزت ہے تو ووٹ کی۔

ہم ٹہرے تیسری دنیا کے ووٹر جن کو ووٹ لینے کے لیے بسوں میں بھر کر پولنگ اسٹیشن لے جاتے ہیں پھرعوام کالانعام۔۔ نیوزی لینڈ میں مسجد کے سانحہ کے بعد جیسینڈا نے کس طرح لوگوں کے دل جیت لیے ہمارے ہاں ایسے سانحات کے بعد حکمرانوں سے نفرت کی خلیج اور وسیع ہوجاتی ہے۔ ریسکیو کررہی تو فوج۔۔جب فوج نے ہی سب کرنا ہے تو کروڑوں روپے الیکشن کے ڈرامے پر خرچ کرنے کی ضرورت ہی کیا ہے۔ لواحقین اور زندہ بچ جانے والے لوگوں کے تاثرات سنئیے ٹی وی چینلز پر تو ان حکمرانوں کے اصل چہروں سے پردہ ہٹتا ہے۔ اب وقت ہے نظام کو بدلنے کا۔۔اٹھئے اور تقدیر بدلئیے.

Leave a Reply