کراچی دھرنا – فرح مصباح




جاگتی آنکھوں سے موت کو دیکھا ہے
تڑپ تڑپ کر سسک سسک کر اس شہر کو دیکھا ہے
یوں تو روشنیوں کی بارات ہے مانا مگر
تاریکی کو یہاں ہر پل پل پنپتے دیکھا ہے

اٹھو آو ظالم کو اپنی آواز سناؤ
کہ حرکت میں ہم نے برکت کو دیکھا ہے
چولہوں میں ایندھن کا سامان نہیں ہے
،فاقوں کی تکلیف سے گزر کر دیکھا ہے

مدتوں پہلے جو نلکوں سے پانی صاف آتا تھا
اسے اب صرف الیکٹرک کولر میں دیکھاہے
اٹھو آو ظالم کو اپنی آواز سناؤ ہے
کہ حرکت میں ہم نے برکت کو دیکھا ہے

دل تڑپتا ہے جوان لاشوں کو دیکھ کر
موت کو جنہوں نے پہندوں سے لٹک کر دیکھا ہے
شب غم کو جو طویل کر دیتی ہے ساعت
اس گھڑی سے ہر پل گزر کر دیکھا ہے

اٹھو آو ظالم کو اپنی آواز سناؤ
کہ حرکت میں ہم نے برکت کو دیکھا ہے
رہائشی سہولتوں سے عاری ہوئے ہم
مار نہ جائے کہیں ہمیں یہ غم

راشن آئے گا، بجلی کا بل جائے گا کیسے ؟
کرایوں میں ہی آمدن کو ختم ہوتے دیکھا ہے
اٹھو آو ظالم کو اپنی آواز سناؤ
کہ حرکت میں ہم نے برکت کو دیکھا

کسم پرسی سے گزارا مگر ہائے کتنا؟
ہرجا ہم نے مہنگائی کی شدت کو دیکھا ہے
مزید اس عذاب سے گزرنا ہے کب تک؟
تر دریا کو بھی ہم نے خشک تر ہوتے دیکھا ہے

اٹھو آو ظالم کو اپنی آواز سناؤ
کہ حرکت میں ہم نے برکت کو دیکھا ہے
عمر فاروق سا اب کوئی حکمراں آئے
کہ عدل کو ٹکوں کے عوض بکتے دیکھا ہے

ریاست مدینہ کی گونج تو بڑی ہے
پر مدینے والے کا نظام یہاں بکھرتے دیکھا ہے
اٹھو آو ظالم کو اپنی آواز سناؤ
کہ حرکت میں ہم نے برکت کو دیکھا ہے

Leave a Reply