حق منصب تو چکا دو – ام ضائم بیگ




گزشتہ روز مشہور ٹک ٹاکر خاتون نے غیر ملکی کرنسی کے ساتھ اپنی ویڈیو کیا اپ لوڈ کی کہ’ تمام چینلز دن بھر درجنوں بار اسے چلاتے رہے۔ بیشتر چینلز اسے اہم ترین بریکنگ نیوز کے طور پر چلا کر زیادہ سے زیادہ منافع کمانے کی دوڈ میں لگے رہے۔

ان کا طرز عمل دیکھ کر لگتا ہے کہ نیوز چینلز کی اب یہی ذمہ داری رہ گئ ہے کہ وہ اداکاراؤں کی ادائیں دکھا کر اپنی ریٹنگ بڑھائیں۔ کبھی الفاظ کو بگاڑ کر پارٹی بولنے والی ٹک ٹاکر کو مارننگ شوز میں مہمان خصوصی بلاۓ جانے کا مقابلہ اور کبھی مینار پاکستان پر سستی شہرت کا ڈرامہ کرنے والی ٹک ٹاکر کی لمحہ بہ لمحہ کی رپورٹنگ کا مقابلہ۔ ہمارا میڈیا عوامی مسائل کے حل کے لیے کتنا درد رکھتا ہے۔ اس کا اندازہ ان کی ترجیحات سے بخوبی لگایا جاسکتا ہے۔ میڈیا ہاؤسز نے اپنی پیشہ ورانہ ذمہ داریوں کو نظر انداز کر کے صحافت کو کاروبار بنا ڈالا ہے. “لفافہ کلچر ” اور” ٹوکری کلچر” کے الفاظ زبان ذد عام ہیں ۔۔ قلم ایک استعارہ ہے اور صحافت ایک مقدس پیشہ ہے جس کا اصل مقصد عوام کی فکر وشعور کی آبیاری اور صحیح خطوط پر رہنمائ کرنا ہے۔ صحافی قلم کے ذریعے عملی طور پر عوام کے افکار کی تطہیر کرتا ہے اور معاشرے کی نبض پر ہاتھ رکھ کر اصل مرض کی تشخیص کرتا ہے۔ لیکن فی زمانہ ایسا ہوتا دکھائی نہیں دے رہا۔ ہمارا ملک اس وقت سنگین معاشی بحران اور بدترین فراط زر کا شکار ہے۔

عوام مہنگائی اور بے روزگاری کے شکنجے میں روز بہ روز جکڑتے چلے جا رہے ہیں۔ بنیادی انسانی ضروریات مثلا” تعلیم، صحت، بجلی، پانی اور گیس سب کافقدان ہے۔ ملک کے سب سے زیادہ ریوینیو کمانے والے اور دنیا کے ساتویں بڑے شہر کراچی کا حال سب سے زیادہ وگرگوں ہے۔ سیویریج، ٹرانسپورٹ اور صفائی کے فقدان کی وجہ سے شہر کی خوبصورتی گہنا گئی ہے۔ کراچی ہر قوم اور ہر صوبے کی عوام کا شہر ہے ۔یہ محنت کشوں کا شہر ہے۔ پاکستان کی ترقی کراچی کی ترقی سے مشروط ہے۔ آج موروثی سیاسی پارٹیاں اپنے مفادات کے لیۓ یہ بات فراموش کر چکی ہیں۔ سٹر یٹ کرائمز کی تیزی سے بڑھتی تعداد بھتہ خوری اور لینڈ مافیا نے کراچی کے شہریوں کا جینا دوبھر کر رکھا ہے۔ ان مسائل کے حل کی خاطر کراچی کے باشعور اور درد دل رکھنے والے شہریوں کی حقیقی نمائندہ تنظیم جماعت اسلامی کا بلدیاتی قانون کی ترمیمی ایکٹ کے خلاف سندھ اسمبلی کے سامنے چودہ دن سے دھرنا جاری ہے۔ اپنی آنے والی نسلوں کے لیے شہر کو بہتر حالت میں چھوڑ کر جانے کی جدو جہد کی خاطر اس تنظیم کی قیادت اور کارکنان یہ دھرنا دے رہے ہیں۔ جنوری کے شدید سرد موسم اور برسات میں بھی پورے عزم کے ساتھ جاری رہنے والے اس دھرنے نے عوامی احتجاج کی نئی تاریخ رقم کی ہے۔

تلاوت قرأن پاک، نعتوں، ترانوں، رکوع و سجود اور اجتماعی دعاؤں سے مزین یہ باوقار منفرد دھرنا ہر کسی کی توجہ کا مرکز بنا ہوا ہے۔ پاکستان میں مدتوں بعد عوامی مسائل کے لیۓ اتنا منظم مربوط دھرنا دیکھا گیا۔ ایک ایسا پلیٹ فارم دکھائی دیا جہاں ہر خاص و عام اپنے مسائل کے حل کی امید لے کر پیش ہوا ۔۔۔۔۔اس دھرنے کی ویڈیوز سوشل میڈیا پر دیکھنے کا موقع ملا ‘ تو یہ دیکھ کر خوشی ہوئی کہ اس گۓ گزرے دور میں بھی ایک ایسی تنظیم موجود ہے جو اپنی مدد آپ کے تحت خلوص اور نیک نیتی سے کام کر رہی ہے۔ اس دھرنے سے عوامی سطح پر بہتر مستقبل کے لیۓ امید کی ایک کرن روشن ہوئ ہے۔ لیکن نیوز چینلز پر اس عظیم الشان دھرنے کی مناسب کووریج دکھائ نہی دیتی’ ان چینلز کی توجہ کا مرکز تو ٹک ٹاکرز اور جرائم کی چٹ پٹی خبریں ہی ہیں۔ ہر گزرتے دن کے ساتھ بڑھتے عوامی جوش و جزبے کو دیکھ کر اس دھرنے کی کامیابی کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔ ہماری نیک تمنائیں اور دعائیں اس دھرنے کے منتظیم کے ساتھ ہیں۔ خود مختار بلدیاتی اداروں کا قیام کراچی کے دیرینہ مسائل کا واحد حل ہے۔ اللہ پاک ان مجاہدوں کو کامیابی سے نوازے اور صحافتی برادری اور اداروں کو بھی حق بات کہنے کی جرأت اور حوصلہ عطا فرماۓ۔

Leave a Reply