86

شہادتِ حق ۔” اُمتِ مسلمہ کا فرض اور مقصدِوجود ” ( حصہ دوئم ) سیدابو الاعلیٰ مودودی

اب عملی شہادت کی طرف آئیے، اس کا حال قولی شہادت سے بدتر ہے بلاشبہ کہیں کہیں کچھ صالح افراد ہمارے اندر ایسے پائے جاتے ہیں جو اپنی زندگی میں اسلام کا مظاہرہ کر رہے ہیں۔ مگر سواداعظم کا حال کیا ہے؟ انفرادی طور پر عام مسلمان اپنے عمل میں اسلام کی جو نمائندگی کر رہے ہیں وہ یہ ہے کہ اسلام کے زیر اثر پرورش پانے والے افراد کسی حیثیت سے بھی کفر کے تیار کیے ہوئے افراد سے بلند یا مختلف نہیں ہیں۔ بلکہ بہت سی حیثیتوں سے ان کہ بہ نسبت فروتر ہیں۔ وہ جھوٹ بول سکتے ہیں، وہ خیانت کر سکتے ہیں، وہ ظلم کر سکتے ہیں، وہ دھوکہ دے سکتے ہیں، وہ قول و قرار سے پھر سکتے ہیں، وہ چوری اور ڈاکہ زنی کر سکتے ہیں، وہ دنگا فساد کر سکتے ہیں، وہ بے غیرتی اور بے حیائی کے سارے کام کر سکتے ہیں۔ ان سب بداخلاقیوں میں ان کا اوسط کسی کا فر قوم سے کم نہیں ہے۔ پھر ہماری معاشرت، ہمارا رہن سہن، ہمارے رسم و رواج، ہماری تقریبات، ہمارے میلے اور عرس، ہمارے جلسے اور جلوس، غرض ہماری اجتماعی زندگی کا کوئی پہلو ایسا نہیں ہے جس میں ہم اسلام کی کسی حد تک بھی صحیح نمائندگی کرتے ہوں۔ یہ چیز گویا اس بات کی زندہ شہادت ہے کہ اسلام کے پیروخود ہی اپنے لیے اسلام کے بجائے جاہلیت کو زیادہ قابلِ ترجیح سمجھتے ہیں۔

ہم مدرسے بناتے ہیں تو علم اور نظام تعلیم اور روحِ تعلیم سب کچھ کفار سے لیتے ہیں۔ ہم انجمنیں قائم کرتے ہیں تو مقصد، نظام اور طریق کار سب کچھ وہی رکھتے ہیں جو کفار کی کسی انجمن کا ہو سکتا ہے۔ ہماری پوری قوم بحیثیت مجموعی کوئی جدوجہد کرنے اٹھتی ہے تو اس کا مطالبہ، اس کی جدوجہد کا طریقہ، اس کی جمعیت کا دستور و نظام، اس کی تجویزیں، تقریریں اور بیانات سب کچھ ہو بہو کافر قوموں کی جدوجہد کا چربہ ہوتا ہے۔ حد یہ ہے کہ جہاں ہماری آزاد یا نیم آزاد حکومتیں وجود ہیں وہاں بھی ہم نے اساس حکومت، نظامِ حکومت اور مجموعۂ قوانین کفار سے لے لیا ہے۔ اسلام کا قانون بعض حکومتوں میں صرف پرسنل لاء کی حد تک رہ گیا ہے اور بعض نے اس کو بھی ترمیم کیے بغیر نہیں چھوڑا۔ حال میں ایک انگریز مصنف (Lawrence Bron) نے اپنی کتاب (The Prospects of Islam) میں طعنہ دیا ہے کہ ہم نے جب ہندوستان میں اسلام کے دیوانی اور فوجداری قوانین کو دقیانوسی اور ناقابل عمل سمجھ کر منسوخ کیا تھا اور مسلمانوں کے لیے صرف ان کے پرسنل لاء کو رہنے دیا تھا تو مسلمانوں کو یہ سخت ناگوار ہوا تھا۔ کیونکہ اس طرح ان کی پوزیشن وہی ہوئی جاتی تھی جو کبھی اسلام کی حکومت میں ذمّیوں کی تھی۔

لیکن اب صرف یہی نہیں کہ ہندوستان کے مسلمانوں نے اسے پسند کر لیا ہے۔ بلکہ خود مسلمان حکومتوں نے بھی اس معاملہ میں ہماری تقلید کی ہے۔ ٹرکی اور البانیہ نے تو اس سے تجاوز کر کے قوانین نکاح و طلاق و وراثت تک میں بھی ہمارے معیارات کے مطابق ’’اصلاحات‘‘ کر دی ہیں۔ اب یہ بات کھل گئی ہے کہ مسلمانوں کا یہ تصور کہ قانون کا ماخذ ارادۂ الٰہی ہے، ایک مقدس افسانے (Pious Fiction) سے زیادہ کچھ نہ تھا ۔ یہ ہے وہ عملی شہادت جوتمام دنیا کے مسلمان تقریباً متفق ہو کر اسلام کے خلاف دے رہے ہیں۔ ہم زبان سے خواہ کچھ کہیں مگر ہمارا اجتماعی عمل گواہی دے رہا ہے کہ اس دین کا کوئی طریقہ ہمیں پسند نہیں۔ اور اس کے کسی قانون میں ہم اپنی فلاح و نجات نہیں پاتے ۔ یہ کتمانِ حق اور شہادتِ زُور جس کا ارتکاب ہم کر رہے ہیں ، اس کا انجام بھی ہمیں وہی کچھ دیکھنا پڑا ہے جو ایسے سخت جرم کے لیے قانونِ الٰہی میں مقرر ہے۔ جب کوئی قوم خدا کی نعمت کو ٹھکراتی ہے اور اپنے خالق سے غداری کرتی ہے تو خدا دنیا میں بھی عذاب دیتا ہے اور آخرت میں بھی یہودیوں کے معاملہ میں خدا کی یہ سنت پوری ہو چکی ہے اور اب ہم مجرموں کے کٹہرے میں کھڑے ہیں ۔ خدا کو یہود سے کوئی ذاتی پرخاش نہ تھی کہ وہ صرف انہی کو اس جرم کی سزا دیتا۔ اور ہمارے ساتھ اس کی کوئی رشتہ داری نہیں کہ ہم اسی جرم کا ارتکاب کریں اور سزا سے بچ جائیں۔

حقیقت یہ ہے کہ ہم حق کی شہادت دینے میں جتنی جتنی کوتاہی کرتے گئے ہیں اور باطل کی شہادت ادا کرنے میں ہمارا قدم جس رفتار سے آگے بڑھا ہے۔ ٹھیک اسی رفتار سے ہم گرتے چلے گئے ہیں۔ پچھلی ایک ہی صدی کے اندر مراکش سے لے کر شرق الہند تک ملک کے ملک ہمارے ہاتھ سے نکل گئے ۔ مسلمان قومیں ایک ایک کر کے مغلوب اور محکوم ہوتی چلی گئیں۔ مسلمان کا نام فخر و عزت کا نام نہ رہا، بلکہ ذلت و مسکنت اور پسماندگی کا نشان بن گیا ۔ دنیا میں ہماری کوئی آبرو باقی نہ رہی۔ کہیں ہمارا قتلِ عام ہوا، کہیں ہم گھر سے بے گھر کیے گئے۔ کہیں ہم کو سوء العذاب کا مزہ چکھایا گیا اور کہیں ہم کو چاکری اور خدمت گاری کے لیے زند ہ رکھا گیا۔ جہاں مسلمانوں کی اپنی حکومتیں باقی رہ گئیں وہاں بھی انہوں نے شکستوں پر شکستیں کھائیں اور آج ان کا حال یہ ہے کہ بیرونی طاقتوں کے خوف سے لرز رہے ہیں۔ حالانکہ اگر وہ اسلام کی قولی و عملی شہادت دینے والے ہوتے تو کفر کے علمبرداران کے خوف سے کانپ رہے ہوتے۔ دور کیوں جائیے۔ خود ہندوستان میں اپنی حالت دیکھ لیجیے ۱؂۔ ادائے شہادت میں جو کوتاہی آپ نے کی بلکہ الٹی خلافِ حق شہادت جو آپ اپنے قول و عمل سے دیتے رہے۔ اسی کا تو نتیجہ یہ ہوا کہ ملک کا ملک آپ کے ہاتھ سے نکل گیا۔ پہلے مرہٹوں اور سکھوں کے ہاتھوں آپ پامال ہوئے ۔ پھر انگریز کی غلامی آپ کو نصیب ہوئی۔ اور اب پچھلی پامالیوں سے بڑھ کر پامالیاں آپ کے سامنے آ رہی ہیں۔

آج آپ کے سامنے سب سے بڑا سوال اکثریت و اقلیت کا ہے اور آپ اس اندیشے سے کانپ رہے ہیں کہ ہندو اکثریت آپ کو اپنا محکوم نہ بنا لے اور آپ وہ انجام نہ دیکھیں جو شودر قومیں دیکھ چکی ہیں۔ مگر خدارا بتائیے کہ اگر آپ اسلام کے سچے گواہ ہوتے تو یہاں کوئی اکثریت ایسی ہو سکتی تھی جس سے آپ کو کوئی خطرہ ہوتا؟ یا آج بھی اگر آپ قول و عمل سے اسلام کی گواہی دینے والے بن جائیں تو کیا یہ اقلیت و اکثریت کا سوال چند سال کے اندر ہی ختم نہ ہو جائے؟ عرب میں ایک فی لاکھ کی اقلیت کو نہایت متعصب اور ظالم اکثریت نے دنیا سے نیست و نابود کر دینے کی ٹھانی تھی۔ مگر اسلام کی سچی گواہی نے دس سال کے اندر اُسی اقلیت کو سو فی دی اکثریت میں تبدیل کر دیا۔ پھر جب یہ اسلام کے گواہ عرب سے باہر نکلے تو پچیس سال کے اندر ترکستان سے لے کر مراکش تک قوموں کی قومیں ان کی شہادت پر ایمان لاتی چلی گئیں۔ جہاں سو فیصدی مجوسی، بت پرست اور عیسائی رہتے تھے، وہاں سو فیصدی مسلمان بسنے لگے۔ کوئی ہٹ دھرمی، قومی عصبیت، اور کوئی مذہبی تنگ نظری اتنی سخت ثابت نہ ہوئی کہ حق کی زندہ اور سچی شہادت کے آگے قدم جما سکتی ۔

اب آپ اگر پامال ہو رہے ہیں اور اپنے آپ کو اس سے شدید پامالی کے خطرے میں مبتلا پاتے ہیں تو یہ کتمانِ حق اور شہادتِ زور کی سزا کے سوا اور کیا ہے۔ یہ تو اس جرم کی وہ سزا ہے جو آپ کو دنیا میں مل رہی ہے۔ آخرت میں اس سے سخت تر سزا کا اندیشہ ہے۔ جب تک آپ حق کے گواہ ہونے کی حیثیت سے اپنا فرض انجام نہیں دیتے اس وقت تک دنیا میں جو گمراہی پھیلے گی، جو ظلم و فساد اور طغیان بھی برپا ہو گا ، جو بداخلاقیاں اور بدکرداریاں بھی رواج پائیں گی ۔ ان کی ذمہ د اری سے آپ بری نہیں ہو سکتے ۔ آپ اگر ان برائیوں کے پیدا کرنے کے ذمہ دار نہیں ہیں تو ان کی پیدائش کے اسباب باقی رکھنے اور انہیں پھیلنے کی اجازت دینے کے ذمہ دار ضرور ہیں۔حضرات! یہ جو کچھ میں نے عرض کیا ہے اس سے آپ کو معلوم ہو گیا ہو گا کہ مسلمان ہونے کی حیثیت سے ہمیں کرنا کیا چاہیے تھا اور ہم کیا کر رہے ہیں۔ اور یہ جو کچھ کر رہے ہیں اس کا خمیازہ ہم کیا بھگت رہے ہیں ۔ا س پہلو سے اگر آپ حقیقت معاملہ پرنگاہ ڈالیں گے تو یہ بات خود ہی آپ پر کھل جائے گی کہ مسلمانوں نے اس ملک میں اور دنیا کے دوسرے ملکوں میں جن مسائل کو اپنی قومی زندگی کے اصل مسائل سمجھ رکھا ہے اور جنہیں حل کرنے کے لیے وہ کچھ اپنے ذہن سے گھڑی ہوئی اور زیادہ تر دوسروں سے سیکھی ہوئی تدبیروں پر اپنا ایڑی چوٹی کا زور لگا رہے ہیں ، فی الواقع ان میں سے کوئی بھی ان کا اصل مسئلہ نہیں ہے اور اس کے حل کی تدبیر میں وقت ، قوت اور مال کا یہ سارا صرفہ محض ایک زیاں کاری ہے۔

یہ سوالات کہ کوئی اقلیت ایک غالب اکثریت کے درمیان رہتے ہوئے اپنے وجود اور مفاد اور حقوق کو کیسے محفوظ رکھے، اور کوئی اکثریت اپنے حدود میں وہ اقتدار کیسے حاصل کرے جو اکثریت میں ہونے کی بنا پر اسے ملنا چاہیے اور ایک محکوم قوم کسی غالب قوم کے تسلط سے کس طرح آزادہو، اور ایک کمزور قوم کسی طاقتور قوم کی دست برد سے اپنے آپ کو کس طرح بچائے اور ایک پسماندہ قوم وہ ترقی و خوش حالی اور طاقت کیسے حاصل کرے جو دنیا کی زور آور قوموں کو حاصل ہے، یہ اور ایسے ہی دوسرے مسائل غیرمسلموں کے لیے تو ضرور اہم ترین اور مقدم ترین مسائل ہو سکتے ہیں۔ مگر ہم مسلمانوں کے لیے یہ بجائے خود مستقل مسائل نہیں ہیں۔ بلکہ محض اس غفلت کے شاخسانے ہیں جو ہم اپنے اصل کام سے برتتے رہے ہیں۔ اور آج تک برتے جا رہے ہیں۔ اگر ہم نے وہ کام کیا ہوتا تو آج اتنے بہت سے پیچیدہ اور پریشان کن مسائل کا یہ جنگل ہمارے لیے پیدا ہی نہ ہوتا۔ اور اگر اب بھی اس جنگل کو کاٹنے میں اپنی قوتیں صرف کرنے کے بجائے ہم اس کام پر اپنی ساری توجہ اور سعی مبذول کر دیں تو دیکھتے ہی دیکھتے نہ صرف ہمارے لیے بلکہ ساری دنیا کے لیے پریشان کن مسائل کا یہ جنگل خودبخود صاف ہو جائے۔ کیونکہ دنیا کی صفائی و اصلاح کے ذمہ دار ہم تھے۔ ہم نے اپنا فرضِ منصبی ادا کرنا چھوڑا تو دنیا خاردار جنگلوں سے بھر گئی اور ان کا سب سے زیادہ پُرخار حصہ ہمارے نصیب میں لکھا گیا۔
افسوس ہے کہ مسلمانوں کے مذہبی پیشوا اور سیاسی رہنما اس معاملہ کو سمجھنے کی کوشش نہیں کرتے اور ہر جگہ ان کو یہی باور کرائے جا رہے ہیں کہ تمہارے اصل مسائل وہی اقلیت و اکثریت اور آزادی وطن اور تحفظِ قوم اور مادی ترقی کے مسائل ہیں۔ نیز یہ حضرات ان مسائل کے حل کی تدبیریں بھی مسلمانوں کو وہی کچھ بتا رہے ہیں جو انہوں نے غیرمسلموں سے سیکھی ہیں۔ لیکن میں جتنا خدا کی ہستی پر یقین رکھتا ہوں، اتنا ہی مجھے اس بات پر بھی یقین ہے کہ یہ آپ کی بالکل غلط رہنمائی کی جا رہی ہے۔ اور ان راہوں پر چل کر آپ کبھی اپنی فلاح کی منزل کو نہ پہنچ سکیں گے۔ میں آپ کا سخت بدخواہ ہوں گا اگر لاگ لپیٹ کے بغیر آپ کو صاف صاف نہ بتا دوں کہ آپ کی زندگی کا اصل مسئلہ کیا ہے۔ میرے علم میں آپ کا حال اور آپ کا مستقبل معلق ہے اس سوال پر کہ آپ اس ہدایت کے ساتھ کیا معاملہ کرتے ہیں جو آپ کو خدا کے رسول کی معرفت پہنچی ہے۔ جس نسبت سے آپ کو مسلمان کہا جاتا ہے اور جس کے تعلق سے آپ؛ خواہ چاہیں یا نہ چاہیں ؛ بہرحال دنیا میں اسلام کے نمائندے قرار پائے ہیں۔ اگر آپ اُس کی صحیح پیروی کریں اور اپنے قول اور عمل سے اس کی سچی شہادت دیں اور آپ کے اجتماعی کردار میں پورے اسلام کاٹھیک ٹھیک مظاہرہ ہونے لگے تو آپ دنیا میں سربلند اور آخرت میں سرخرو ہو کر رہیں گے۔

خوف اور حزن، ذلت اور مسکنت، مغلوبی اور محکومی کے یہ سیاہ بادل جو آپ پرچھائے ہوئے ہیں، چند سال کے اندر چھٹ جائیں گے۔ آپ کی دعوتِ حق اور سیرت صالحہ دلوں کو اور دماغوں کو متاثر کرتی چلی جائے گی۔ آپ کی ساکھ اور دھاک دنیا پر بیٹھتی جائے گی۔ انصاف کی امیدیں آپ سے وابستہ کی جائیں گی۔ بھروسا آپ کی امانت و دیانت پر کیا جائے گا۔ سند آپ کے قول کی لائی جائے گی۔ بھلائی کی توقعات آپ سے باندھی جائیں گی۔ ائمہ کفر کی کوئی ساکھ آپ کے مقابلہ میں باقی نہ رہ جائے گی۔ ان کے تمام فلسفے اور سیاسی و معاشی نظرئیے آپ کی سچائی اور راست روی کے مقابلے میں جھوٹے ملمع ثابت ہوں گے۔ جو طاقتیں آج ان کے کیمپ میں نظر آ رہی ہیں ٹوٹ ٹوٹ کر اسلام کے کیمپ میں آتی چلی جائیں گی۔ حتیٰ کہ ایک وقت وہ آئے گا جب کمیونزم خود ماسکو میں اپنے بچاؤ کے لیے پریشان ہو گا۔ سرمایہ دارا نہ ڈیموکریسی خود واشنگٹن اور نیویارک میں اپنے تحفظ کے لیے لرزہ براندام ہو گی۔ مادہ پرستانہ الحاد خود لندن اور پیرس کی یونیورسٹیوں میں جگہ پانے سے عاجز ہو گا۔ نسل پرستی اور قوم پرستی خود برہمنوں اور جرمنوں میں اپنے معتقد نہ پا سکے گی۔ اور یہ آج کا دور صرف تاریخ میں ایک داستانِ عبرت کی حیثیت سے باقی رہ جائے گا کہ اسلام جیسی عالمگیر و جہاں کشا طاقت کے نام لیوا کبھی اتنے بیوقوف ہو گئے تھے کہ عصائے موسیٰ بغل میں تھا اور لاٹھیوں اور رسیوں کو دیکھ دیکھ کر کانپ رہے تھے۔

یہ مستقبل تو آپ کا اس صورت میں ہے جبکہ آپ اسلام کے مخلص پیرواور سچے گواہ ہوں۔ لیکن اس کے برعکس اگر آپ کا رویہ یہی رہا کہ خدا کی بھیجی ہوئی ہدایت پر بار بنے بیٹھے ہیں، نہ خود اس سے مستفید ہوتے ہیں نہ دوسروں کو اس کا فائدہ پہنچنے دیتے ہیں۔ اپنے آپ کو مسلمان کہہ کر نمائندے تو اسلام کے بنے ہوئے ہیں مگر اپنے مجموعی قول و عمل سے شہادت زیادہ تر، جاہلیت، شرک، دنیا پرستی اور اخلاقی بے قیدی کی دے رہے ہیں۔ خدا کی کتاب طاق پر رکھی ہے اور رہنمائی کے لیے ہر امام کفر اور ہر منبع ضلالت کی طرف رجوع کیا جا رہا ہے۔ دعویٰ خد اکی بندگی کا ہے اور بندگی ہر شیطان اور طاغوت کی، کی جا رہی ہے۔ دوستی اور دشمنی نفس کے لیے ہے اور فریق دونوں صورتوں میں اسلام کو بنایاجا رہا ہے اور اسی طرح اپنی زندگی کو بھی اسلام کی برکتوں سے محروم کر رکھا ہے اور دنیا کو بھی اس کی طرف راغب کرنے کے بجائے الٹا متنفر کر رہے ہیں۔ اور بعید نہیں کہ مستقبل اس حال سے بھی بدتر ہو۔ اسلام کالیبل اتار کر کھلم کھلا کفر اختیار کر لیجیے تو کم از کم آپ کی دنیا تو ویسی ہی بن جائے گی جیسی امریکہ، روس اور برطانیہ کی ہے۔ لیکن مسلمان ہو کر نامسلمان بنے رہنا اور خدا کے دین کی جھوٹی نمائندگی کر کے دنیا کے لیے بھی ہدایت کا دروازہ بند کر دینا وہ جرم ہے جو آپ کو دنیا میں بھی پنپنے نہ دے گا۔ اس جرم کی سزا جو قرآن میں لکھی ہوئی ہے۔ جس کا زندہ ثبوت یہودی قوم آپ کے سامنے موجود ہے، اس کو آپ ٹال نہیں سکتے۔ خواہ متحدہ قومیت کے ’’اہون البلیتین‘‘ کو اختیار کریں یا اپنی الگ قومیت منوا کر وہ سب کچھ حاصل کر لیں جو مسلم قوم پرستی حاصل کرنا چاہتی ہے۔ اس کے ٹلنے کی صورت صرف یہی ہے کہ اس جرم سے باز آ جائیے۔اب میں چند الفاظ میں آپ کو بتائے دیتا ہوں کہ ہم کس غرض کے لیے اٹھے ہیں۔

ہم سب ان لوگوں کو جو اسلام کو اپنا دین مانتے ہیں یہ دعوت دیتے ہیں کہ وہ اس دین کو واقعی اپنا دین بنائیں۔ اس کو انفرادی طور پر ہر ہر مسلمان اپنی ذاتی زندگی میں بھی قائم کرے اور اجتماعی طور پر پوری قوم اپنی قومی زندگی میں بھی نافذ کرنے کے لیے تیار ہو جائے۔ ہم ان سے کہتے ہیں کہ آپ اپنے گھروں میں، اپنے خاندان میں، اپنی سوسائٹی میں، اپنی تعلیم گاہوں میں، اپنے ادب اور صحافت میں، اپنے کاروبار اور معاشی معاملات میں، اپنی انجمنوں اور قومی اداروں میں اور بحیثیت مجموعی اپنی قومی پالیسی میں عملاً اسے قائم کریں اور اپنے قول و عمل سے دنیا کے سامنے اس کی سچی گواہی دیں ۔ ہم ان سے کہتے ہیں کہ مسلمان ہونے کی حیثیت سے تمہاری زندگی کا اصل مقصد اقامتِ دین اور شہادت حق ہے۔ اس لیے تمہاری تمام سعی و عمل کا مرکز و محور اسی چیز کوہونا چاہیے ۔ ہر ا س بات اور کام سے دست کش ہو جاؤ جو اس کی ضد ہو اور جس سے اسلام کی غلط نمائندگی ہوتی ہو۔ اسلام کو سامنے رکھ کر اپنے پورے قولی اور عملی رویہ پر نظرثانی کرو ۔ اور اپنی تمام کوششیں اس راہ میں لگا دو کہ دین پورا کا پورا عملاً قائم ہو جائے۔اس کی شہادت تمام ممکن طریقوں سے ٹھیک ٹھیک ادا کر دی جائے، اور اس کی طرف دنیا کو ایسی دعوت دی جائے جو اتمام حجت کے لیے کافی ہو۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

شہادتِ حق ۔” اُمتِ مسلمہ کا فرض اور مقصدِوجود ” ( حصہ دوئم ) سیدابو الاعلیٰ مودودی” ایک تبصرہ

Leave a Reply