14

کمرہ نمبر 17- ممتاز مفتی

ارجمند کو اپنی آنکھوں پر یقین نہیں آ رہا تھا.. وہ دیدے پھاڑ پھاڑ کر سامنے بیٹھی ہوئی آویزہ کو دیکھ رہا تھا… دیکھے جا رہا تھا!
اس کے روبرو وہ آویزہ نہ تھی جسے وہ دفتر میں روز دیکھا کرتا تھا.. اسے یوں لگ رہا تھا جیسے وہ آویزہ اور لڑکی تھی،یہ آویزہ اور – دونوں میں کتنا فرق تھا..!
لیکن اس کے سامنے بیٹھی ہوئی وہی پرانی آویزہ تھی… اس میں تبدیلی نہیں آئی تھی حسب معمول اس کے کٹے ہوئے بال ٹوکرا سے پھولے ہوئے تھے.. اس بے ہنگم متوازی پھیلاؤ کے اندر ایک کیوٹ سا سہما ہوا چہرہ دبکا بیٹھا تھا..!
پہلے آویزہ کو دیکھ کر ارجمند کو غصہ آجایا کرتا تھا جیسے وہ بمشکل ضبط کرتا تھا.. آویزہ کو دیکھ کر اسے ایسے لگتا جیسے بالوں کا وہ پھیلاؤ ایک بہت بڑا جالا ہو.. جسے بڑی محنت سے بُن کر مکڑا اس کے مرکز میں دبک کر بیٹھ گیا ہو کہ شکار پھنسے اور وہ جھپٹے… لیکن آج آُسے یوں دکھائی دے رہا تھا جیسے کالے بالوں کا وہ پھیلاؤ.. ایک بہت بڑی آنکھ ہو اور اس کے اندر وہ سجا بنا چمکدار چہرہ ایک اَن بہا آنسو ہو!
ارجمند کو اپنی آنکھوں پر یقین نہیں آ رہا تھا وہ آنکھیں پھاڑ پھاڑ کر سامنے بیٹھی ہوئی آویزہ کو دیکھ رہا تھا.. دیکھے جا رہا تھا..!
کتنی بڑی ذہنی کایا پلٹ تھی!

ایک چھوٹی سی بات نے اتنا بڑا فرق پیدا کردیا تھا.. دنیا ہی بدل تھی.. اور وہ چھوٹی سی بات اس قدر معمولی تھی کہ ارجمند کو اس کے وقوع کا احساس ہی نہیں ہوا تھا.. اگر وہ کوئی حادثہ ہوتی یا سانحہ ہوتی یا ڈرامائی واقعہ ہوتی تو بھی اک بات ہوتی.. وہ تو ارجمند کی ہمشیرہ کے منہ سے نکلا ہوا سرسری جملہ تھا :کیا فرق پڑتا ہے، بھائی جان…!صبیحہ کے منہ سے بناؤ سنگھار کے متعلق ایسی بات نکلی…. صبیحہ جو بنی سجی گُڈی کے سوا کچھ نہ تھی… اس جملے نے ارجمند کو چونکا کر رکھ دیا.. اس نے مڑ کر صبیحہ کی طرف دیکھا.. صبیحہ کی دنیا ہی بدلی ہوئی تھی.. لباس کے رنگ مدھم پڑگئے تھے… قمیض میں چمٹن نہ تھی.. گولائیاں تیکھا پن کھو چکی تھیں.. ناخون نیچرل ہوگئے تھے.. لپ سٹک لاؤڈ نہ تھی.. آنکھیں دکھنے والی نہیں بلکہ دیکھنے والی بن چکی تھیں… انداز مدھم تھا… آنکھوں سے مایوسی جھانک رہی تھی.. ارجمند کے دل سے ایک آواز اٹھی: تو کیا وہ بن ٹھن کے جدو جہد تھی؟ وہ اہتمام ایک ساتھی کی تلاش کیلئے تھا؟
ارجمند کو بھڑکیلے بناؤ سنگار سے سخت نفرت تھی..!

اس کے دفتر میں چار لڑکیاں کمپیوٹر ٹریننگ کیلئے بھرتی کی گئی تھیں :آویزہ، سنبل، ریٹا اور فاطمہ جب وہ آئی تھیں تو دفتر میں رنگ و بو اور حرکات کا ایک طوفان آگیا تھا.. بے شک دفتر میں ایک چہلی پہل ہوگئ تھی.. سٹاف کے فائلوں پر جھکے ہوئے خطوط اوپر ابھر آئے تھے.. دفتر روشن ہوگیا تھا.. لیکن وہ ٹھہراؤ نہ رہا تھا… وہ سنجیدگی نہ رہی تھی یوں جیسے کسی نے سوڈے میں چٹکی بھر نمک ڈال کر شوں کر دیا ہو.. ارجمند اپنی برانچ کا انچارج تھا.. دفتر میں رونق اور روشنی کی نسبت اس کی توجہ کام پر زیادہ مرکوز تھی.. لہذا اسے لڑکیوں کی آمد اچھی نہیں لگی تھی..!

بیشک لڑکیاں محنتی تھی! توجہ اور شوق سے کام کری تھیں.. لیکن انھوں نے تو فضا ہی بدل ڈالی تھی.. اک ارتعاش پیدا ہوگیا تھا… ٹھہرے پانی میں لہریں اٹھنے لگی تھیں..سٹاف کی توجہ یوں بکھر گئی تھی جیسے تسبیح کا دھاگا ٹوٹ گیا ہو… اور پھر ان کا بناؤ سنگھار کتنا لاؤڈ تھا.. اس میں شدت تھی تشدد تھا… ارجمند کو ایسے لگا تھا جیسے سکندر کی فوج کے چار جرنیلوں نے چڑھائی کر دی ہو!

سنبل نے شانوں پر سیاہ بال یوں بکھرا رکھے تھے جیسے مشین گن اٹھا رکھی ہو.. اس کیموٹی موٹی آنکھیں یوں رول کرتی رہتی تھیں جیسے میدان جنگ میں ٹینک چل رہے ہوں.!
ریٹا پکے کالے رنگ میں بلڈِ ڈ ہونٹ نکالےپھرتی تھی.. حالانکہ رسمی لحاظ سے خدول خاصے بدصورت تھے، لیکن اس نے خود پر لباس حرکات اور میک اپ کی ایسی پھول پتیاں سجا رکھی تھیں کہ ہر کوئی منہ اٹھا کر دیکھنے پر مجبور ہو جاتا.. یوں ٹپ ٹپ کر کے چلتی کہ آواز سن کر ہی سارا دفتر پسینے پسینے ہو جاتا… پاؤں کی آہٹ پر کان کھڑے ہو جاتے.. جسم ایسے خم و پیچ کھاتا کہ خوبصورت اور بدصورت کا فرق مٹ جاتا.. توجُہ کو برے کی طرح پھن اٹھا کر کھڑی ہو جاتی اور پھر اس کالی بین پر لہراتی، لہراتے جاتی..!
پھر وہ فاطمہ تھی.. تھی تو گاؤں کی نو دولتی – دوبئی کا کپڑا پہنتی _ _ _ لیکن کسی قدر توجہ کی طالب تھی _ بات بات پر شرما کر آنکھیں نیچی کر لیتی مژگان کے چھتر کھلتے بند ہوتے، پنکھا کرنے لگتے چھاتیاں دھڑکتیں _ گال اُبھر کر انار بن جاتے _ بالوں کی لٹیں گرتیں، سنبھلتیں، پھر گر جاتیں _ گویا ایک طوفان آجاتا _ اور وہ آویزہ ٹوکرا بالوں کے جالے تلے دبکا ہوا مکڑا کہ شکار پھنسے تو جھپٹے _ سارا دفتر ان لڑکیوں کی زد میں آگیا تھا _ اس آندھی میں سبھی غبارے سے اٹ گئے تھے _ دفتر کی وہ روانی اور سنجیدگی ختم ہو کر رہ گئی تھی _جھٹکے لگنے لگے تھے _ارجمند ان حالات کو دیکھ کر سٹپٹا کر رہ گیا تھا _ لیکن بےچارہ مجبور تھا _ کیا کرتا _

صرف دفتر کی بات نہ تھی _معاشرے پر مانگے کے فیشن کی یلغار سے وہ بیزار تھا _ وہ سمجھتا تھا کہ دور حاضر نے ہر نوجوان لڑکی کو شدت کا طمنچہ تھما رکھا ہے _ ان میں جزبہ ء تسخیر کا جنون پیدا کر رکھا ہے _ بے مقصد، بے مرکز تفریحی تسخیر _ کوئی بھی سامنے آئے، بھر ماؤ، چونکاؤ، نچاؤ گراؤ _ ارجمند کی نظر میں یہ چنگیزی فوج سڑکوں پر، بازاروں میں، باغوں میں، جگہ جگہ دندناتی پھرتی تھی _ اور بے چارے مرد، سہمے سہمے ڈرے ڈرے کرولٹی ٹواینیملز کی تصویر بنے ہوئے تھے _ خود نمائی کا یہ جھکڑ کیوں چل رہا تھا؟ کیوں روز روز بڑھتا جا رہا تھا؟ دھول اُڑارہا تھا؟

اسے اپنی چھوٹی بہن صبیحہ کو دیکھ کر غصہ آیا کرتا تھا _ اس قدر میڈاپ _ارجمند کو بننے سنورنے پر اعتراض نہ تھا _ وی کہتا تھا _ وہ کہتا تھا :بےشک بنو سجو _ لیکن اچھلنے کا مطلب؟ چھینٹے اُڑانے کا مطلب؟ ہونٹوں کو بانس پر چڑھانے کا مطلب؟ بےشک آنکھوں کو کالا کرو _ بھوؤں کی کمان بناؤ _ مژگان کا پنکھا چلاؤ _ لیکن ہونٹوں کو خون آلود کر کے لوگوں کو کس بات کی دعوت دیتی ہو؟ اور وہ بھی یوں برسرعام صلائے عام؟

ارجمند کے خیالات کے مطابق عورت ایک قابل عزت مخلوق تھی _ وہ کائنات کی ماں تھی _ ممتا کی رکھوالی تھی، جس کے جھولنے میں ساری مخلوقات پل کر جوان ہوئی تھی _ لیکن دور حاضر نے اس عظیم مخلوق کو کیا سے کیا بنا دیا تھا _ ایک بنی سجی گڑیا جس کا مقصد دوسروں کو لبھانا تھا _ان کے ہاتھ کا کھلونا بننا تھا _ جا اپنے ہونٹوں پر شنگرفی رنگ سے ہاں لکھ کر اسے نشر کرتی پھرے _ جو خود کھلونا بن کر دوسروں کو کھلاڑی بننے کی دعوت دیتی پھرے، وہ معاشرے میں عزت کی طالب کیسے ہو سکتی ہے _ ارجمند کے یہ سارے خیالات صبیحہ کے منہ سے نکلے ہوئے ایک جملے نے صابون کی جاگ کی طرح اُڑا دئیے تھے _ اس کی نگاہ میں گرد و پیش یکسر بدل گئے تھے _ یہ کایا پلٹ صبیحہ کی زندگی سے گہری تعلق رکھتی تھی _
جب صبیحہ کالج میں تعلیم پا رہی تھی تو دفعتاً اس میں خودنمائی کا طوفان جاگا اور دیکھتے ہی دیکھتے اس حد تک بڑھ گیا کہ کالج جاتی تو اسے معلوم پڑتا جیسے کالج نہیں، سٹیج پر جا رہی ہو _ اس پر ارجمند کو بہت غصہ آتا _ لیکن ماں باپ کی موجودگی میں وہ کیا کہہ سکتا تھا کسمسا کر رہ جاتا _ اس کے باوجود اس نے ماں سے کئی بار کہا تھا کہ زیبائش کے جذبے کو اس قدر شہ نہیں دینی چاہیے کہ بناوٹ کے علاوہ اور کچھ رہے ہی نہیں _ صبیحہ بھائی کی باتیں سنتی _ ناک بھوں چڑھاتی _ ایک کان سے سنتی دوسرے سے اُڑا دیتی _

جوں جوں وہ درجے پاس کرتی گئی، سجاوٹ کا جنون بڑھتا ہی گیا _ فیشن کی نئی نئی پھول پتیاں لگتی گئیں _ بھائی میں فاصلہ بڑھتا گیا _پہلے بال پھول بنے _ پھر کھل کر شانوں پر بکھر گئے _ پھر کٹ گئے، جھاڑ فانوس کی شکل اختیار کر گئے _ ناخن چھریاں بن گے _ لپ سٹک کے رنگ گہرے ہوتے گئے _لاؤڈ_ آنکھیں کشتیاں بن کر ڈولنے لگیں _ یہاں تک کہ صبیحہ کے نام نے بھی کئی ایک کینچلیاں بدلیں _ صبیحہ سے صبیح، پھر صبو _ جسم بوتل کی شکل اختیار کرتا گیا _لباس جسم سے ایسا چمٹا کہ دونوں میں فرق نہ رہا _ابھار تیکھے ہوگئے، گولائیاں نمایاں _
انہی دنوں گھر میں صبیحہ کے رشتے کی بات چلی _ زیر لبیاں اُبھریں _ مشورے ہوئے _ لڑکا ارجمند کے دفتر میں افسر تھا _ ارجمند نے بہت کوشش کی کہ رشتہ ہو جائے _ گھر والے سبھی حق میں تھے _ لیکن صبیحہ نے اسے رد کر دیا _اسے لڑکا پسند نہ تھا _ کیونکہ وہ لڑکا نظر نہ آتا تھا _ اس میں ٹھہراؤ تھا_ سنجیدگی تھی _ وہ معزز نظر آتا تھا _ اگرچہ عمر زیادہ نہ تھی _اس پر ارجمند کو بہت غصہ آیا _ بہرحال، بات ٹوٹ گئی، ایک سال گزر گیا _ پھر جب آخری درجے میں تھی تو ایک اور سرگوشی ابھری _ سلمان، سلمان صبیحہ کا چناؤ تھا _ گھر میں دبی آواز میں سلمان کا ذکر ہونے لگا _ پھر ایک روز سلمان گھر آگیا _ گھر کے لوگ باری باری اسے دیکھنے لگے _ کوئی اوٹ سے کوئی درز سے کوئی برملا _
سلمان بلکل ہی لڑکا تھا، اس حد تک کہ شو بوائے نظر آتا تھا _ دیکھنے میں گُڈا، بنا سجا ہوا گڈا _ انداز سو وہاٹ _ رویہ ہُو کیئرز _نفاست ایسی جیسے سلمان نہیں، سلیمہ ہو _جاذب نظر ایسا جیسے ڈیکوریشن پیس ہو _ صبیحہ نے ماں باپ پر بہت زور دیا کہ سلمان کے گھر پیغام لے جائیں، لیکن وہ ہچکچاتے رہے _ پیغام تو لڑکی کے گھر آتا ہے _بہرحال، ارجمند نے شدت سے مخالفت کی _ اگرچہ کہا جاتا تھا کہ سلمان کا مستقبل درخشاں ہے، لیکن حال تو خاصا بے حال تھا _اس کے والدین نے ارجمند کی بات مان لی، اور بات کھٹائی میں پڑگئی _ شاید بات پھر سے اُبھرتی لیکن جلد ہی سلمان کا ایک سکینڈل سامنے آگیا _پتا چلا کہ وہ لیڈیز مین ہے _

اس کے بعد صبیحہ سجاوٹ میں نئے نئے پیچ و خم شامل ہوگئے _ صبیحہ اور چمکی، اور، چمکیجیسے بجھنے سے پہلے دیا بھڑک کر جلتا ہے _
تحصیلِ علم کرنے کے بعد لیکچرار کی حیثیت سے اس کی تعیناتی ہوگئی اور وہ ایک دور دراز شہر میں چلی گئی _
دوسال کے بعد جب وہ چھٹیوں پر گھر آئی تو ارجمند اسے دیکھ کر حیران رہ گیا لپ سٹک مدھم پڑ چکی تھی _ لباس کے رنگ ہلکے ہوچکے تھے _ قمیض ڈھیلی پڑ چکی تھی _ بال بندھ گئے تھے _ آنکھیں دکھنے والی نہ رہی تھیں _ اور پھر سجاوٹ کے متعلق اس کے منہ سے یہ جملہ سُن کر ” کیا فرق پڑتا ہے، بھائی جان ” وہ سن ہو کر رہ گیا تھا _
کیا وہ نا امید ہوچکی تھی؟ ہمیشہ کیلئے ناامید؟ کیا وہ بناؤ سنگار امید کی ایک صورت تھی؟ جیون ساتھی حاصل کرنے کیلئے ایک معصوم جدوجہد تھی؟
اس روز شام کو جب وہ بازار گیا تو منظر ہی بدلا ہوا تھا _ بنی سجی جوان لڑکیاں یوں نظر آ رہی تھیں جیسے چراغ سحری بجھنے سے پہلے بھڑک کر جل رہے ہوں _ اونچی ایڑیوں کی ٹپ ٹپ یوں سنائی دے رہی تھی جیسے کوچ کرنے کا نقارہ بج رہا ہو _ اعضاء کے پیچ و خم اور حرکات کی لے یوں دکھائی دے رہی تھی جیسے محرومی سے بچنے کیلئے داؤپیچ کھیلے جا رہے ہوں _
اس روز ارجمند نے شدت سے محسوس کیا کہ رعنائیوں کی نمائش دراصل برتلاش کرنے کی جدوجہد ہے _ تعلیم اور سٹیٹس نے لڑکیوں کے آئیڈیلز میں ہوا بھر دی تھی _غبارے اُڑنے لگے تھے _ اور بلند اور بلند _توقعات نے اپنے گھونسلے اتنے بنا لئے تھے کہ زیادہ تر نوجوان بالشتیے نظر آنے لگے تھے _گھر والوں کی پسند سے چڑ ہوگئی تھی _اپنی پسند فروعات سے اَٹ گئی تھی _ مواقع کم ہوتے جا رہے تھے اور کم اور کم _ ڈوبتے ہوئے تنکوں کی طرف جھپٹ رہے تھے _

اس رات ارجمند کو نیند نہ آئی _ احساس گناہ کی چبھن بڑھتی گئی _بڑھتی گئی _ اس کے دل سے آواز آ رہی تھی : صبیحہ کی محرومی کی ذمے داری تم پر عائد ہوتی ہے _تم نے سلمان کے خلاف محاذ قائم کیا تھا _ اب وہ عمر بھر محروم رہے گی _ اکیلی _تنہا_ اگلی صبح اس کی بیگم نے جھنجھوڑ کر اسے جگایا ” اٹھیے نا_ صبیحہ کب سے انتظار کر رہی ہے!ارجمند کو یاد آیا کہ اس نے صبیحہ کے ساتھ لاہور جانے کا پروگرام بنایا ہے _لاہور میں اسے ہیڈ آفس میں کام تھا _ صبیحہ نے یونیورسٹی سے ڈگری حاصل کرنی تھی _ لاہور پہنچے تو دوپہر ہوچکی تھی صبیحہ فنکشن کیلئے لیٹ ہوگئی تھی _ ارجمند نے ٹیکسی لی اور صبیحہ کو سیدھا یونیورسٹی لے گیا _اسے سمجھا دیا کہ فارغ ہو کر ہیچی ہوم ہوٹل میں آجائے جہاں وہ ٹھہریں گے _ ہوٹل کے ریسیپشنسٹ کے پاس وہ پیغام چھوڑ دے گا _کمرہ نمبر بورڈ پر دیکھ لے _

یونیورسٹی سے سیدھا ہوٹل پہنچا _کمرا نمبر 16 بک کرایا _سامان رکھوایا _پھر برآمدے میں بیٹھ کر چائے پینے لگا _دفعتاً ملحقہ نمبر 17 کا دروازہ کھلا _سلمان باہر نکلا اور سیڑھیاں اتر کر نیچے چلا گیا _ ارجمند نے بیرے سے پوچھا :کمرا نمبر سترہ میں کون ٹھہرے ہوئے ہیں؟
” سلمان ساب ٹھہرے ہوئے ہیں” اس نے جواب دیا ” ابھی ابھی نیچے گئے ہیں ”
صبیحہ نے شام پانچ بجے آنا تھا _ ساڑھے چار قریب ارجمند اٹھا _تیاری کی _ایک کاغذ پر صبیحہ کے نام لکھا _ ” مجھے ایک ضروری کام پڑ گیا ہے _شاید میں رات کو لیٹ لوٹوں گھبرانا نہیں ” اس نے کاغذ تہ کیا، لفافہ بند کیا، لفافے پر لکھا : میسج برائے صبیحہ، از ارجمند کمرہ نمبر 17 وہ نیچے اترا _ ریسیپشن کو لفافہ دیا _ پھر بورڈ کی طرف بڑھا، جس پر کمروں کے نمبروں تلے ہوٹل میں ٹھہرے ہوئے مہمانوں کے نام لکھے ہوئے تھے _ اس نے اپنا کارڈ سولہ نمبر کے خانے سے نکال کر سترہ نمبر کے خانے میں فٹ کر دیا _ پھر عجلت سے ہوٹل سے باہر نکل گیا _ اس کی سمجھ میں نہیں آ رہا تھا کہ کہاں جائے!
***

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

Leave a Reply