166

ہمارا موجودہ میڈیا اور معاشرتی اقدار _ افشاں مراد

میڈیا یا ذرائع ابلاغ کو ریاست کا چوتھا ستون کہا جاتا ہے۔ کسی بھی ملک کی ترقی و تنزلی میں میڈیا کا کردار بہت اہم ہے۔آپ ذرائع ابلاغ کے ذریعے جیسا چاہیں اپنے ملک کا چہرہ لوگوں کے سامنے لاتے ہیں ۔اس کی پالیسیوں کو مثبت یا منفی انداز میں پیش کیا جاتا ہے۔پرنٹ میڈیا اور الیکٹرانک میڈیا ہمارے ملک میں بھی کس طرح لوگوں کی زندگیوں پر اثرانداز ہو رہا ہے ۔

اس کا اندازہ آپ کو طلاق کی بڑھتی ہوئی شرح ، بچوں سے زیادتی کے واقعات میں اضافہ اور بڑھتی ہوئی فحاشی اور عریانی سے بخوبی ہو رہا ہو گا ۔ مشرف دور سے ترقی کے نام پر میڈیا گروپس کو سب کچھ پیش کرنے اور لبرل ازم کا پرچار کرنے کی جو کھلی چھوٹ دی گئی ۔ اس نے میڈیا کے اس بے لگام بیل کو گویا تباہی مچانے کی مکمل آزادی دے دی ۔ آج جو کچھ ہمارے الیکٹرانک میڈیا پر دکھایا جا رہا ہے اس سے محسوس یہ ہوتا ہے کہ شاید پورے ملک میں خوشحالی اور ترقی کا ایسا دریا بہہ رہا ہے کہ اس میں ہر شخص کروڑوں میں کھیل رہا ہے۔ ہر گھر میں شراب کباب چل رہی ہے، ہرعورت اور مرد اپنے شریک حیات کو دھوکہ دے کر دوسرے کے ساتھ ٹائم پاس کر رہے ہیں ۔ اور تو اور اب تو مذہبی اقدار کو بھی نشانہ بنایا جارہا ہے۔مذہب کو ڈھونگ کے طور پر پیش کر کے لوگوں کے دلوں میں مذہب سے نفرت پیدا کی جارہی ہے ۔ خواہشات کے حصول کے لئے ہر جائز و ناجائز ذرائع کو استعمال کرنے کی ترغیب دی جارہی ہے ۔ فحش لباس ، فحش جملے،گھٹیا اسکرپٹ کے ساتھ عریانی کا تڑکا لگا کر مارکیٹ میں پیش کر دیا جاتا ہے

اور لوگ اسے قبول کرنے پر مجبور ہیں ۔ کیونکہ اس بات کو جاننے کے باوجود کہ یہ سب ہماری معاشرتی اقدار کو کھوکھلا کر رہا ہے ہم اور آپ آواز اٹھانے کو تیار نہیں ہیں ۔مارننگ شو ز میں اب ڈانس کمپٹیشن مستقل ہر چینل پر پیش کیے جارہے ہیں جس میں ٹیلنٹ ہنٹ کے نام پر لڑکے لڑکیوں کی جوڑی بنا کر ان کو رقص کی تربیت دی جارہی ہے۔اپنی خواہشات اور ہوس کو ضرورت کا لبادہ اوڑھا کراس انداز میں چیزوں کی مارکیٹنگ کی جارہی ہے کہ غریب تو بے چارہ ان سب کے لالچ میں خودکشی پر مجبور ہو گیا ہے۔ بچوں کے ذہنوں کو اس حد تک اپنے قابو میں کر لیا گیا ہے کہ اپنی بات منوا نے کے لئے ہر حد سے گزرنے کو تیار ہیں ۔ کیا یہ ایک اسلامی معاشرے یا اسلامی جمہوریہ پاکستان کا عکاس میڈیا ہے؟ یا یہ کسی اور کے ایجنڈے پر اپنی نسل کو تباہ کرنے کا بیڑا اٹھائے ہوئے ہے۔ معاشرے کے بنانے اور بگاڑنے میں یہ میڈیا بالکل اتنا ہی ذمہ دار ہے جتنا گھر کا کوئی بڑا اپنی نسل کی تربیت کا ذمہ دار ہوتا ہے۔ایک بڑے کی طرح اپنی اگلی نسل کی ذہنی آبیاری میڈیا کے اولین فرائض میں سے ایک فرض ہے۔

سوشل میڈیا ،انٹرنیٹ، اور الیکٹرانک میڈیا کے بے جا اور بے حد استعمال نے عوام سے اچھے برے کا شعور چھین لیا ہے ۔ ان کو باشعور بنانے کے لیے دوبارہ سے ایسے پروگرام پیش کرنے ہوں گے جو ذہنی صلاحیتوں کو جلا بخشے۔اس کے لیے ترکی کی مثال ہمارے سامنے ہے۔ترکی کے آزاد اور مادر پدر آزاد معاشرے کو لگام ڈالنا جوئے شیر لانے کے مترادف تھا ۔ لیکن سلام ہے اردوان کو جنہوں نے میڈیا کو اپنا ہتھیار بنا کر اس جنگ کو جیتنا شروع کر دیا ہے اپنے اسلاف کی تاریخ پر ڈرامے بنا کر اس میں اسلامی ہیروز کو اتنے جاندار انداز میں پیش کیا ہے کہ پوری دنیا کے لوگ ان ڈراموں کے دیوانے ہو گئے ہیں۔ انہوں نے اپنی نئی نسل کی ذہنی تربیت شروع کر دی ہے۔ پرانی نسل کو بدلنے میں وقت ضائع کرنے کے بجائے نئ نسل پر کام کیا جارہا ہے اور اس میں وہ اسی فیصد کامیاب بھی ہو گئے ہیں ۔ان ڈراموں نے مغرب کے ایوانوں میں کھلبلی مچا دی ہے ۔ وہ سمجھ گئے ہیں کہ اردوان ان کے ساتھ ہاتھ کر گیا ہے۔ان کے منہ سے جیت کا نوالہ چھین لیا گیا ہے ۔ہمیں بھی اپنی نسل کو بچانے کے لئے کچھ ایسی ہی تیاری کرنی
ہوگی ۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

Leave a Reply