84

داستان ایمان فروشوں کی – دوسری قسط

انکی نظر میں سلطان صلاح الدین طفل مکتب تھا ، لیکن جب سلطان صلاح الدین نے انکا سامنا کیا اور باتیں سنی تو ان کا احتجاج سرد پڑگیا ۔ یورپین مورخ لین پول کے مطابق سلطان صلاح الدین ڈسپلن کا بھت ھی سخت ثابت ھوا ۔ اسنے تفریح عیاشی اور آرام کو اپنے اور فوج کے لیے حرام قرار دیا۔ اس نے اپنی تمام جسمانی اور زھنی قوت صرف اس میں خرچ کی کہ ملت اسلامیہ کو پھر سے ایک کر سکیں اور صلیبیوں کو یہاں کی سرزمین سے نکال سکیں۔سلطان صلاح الدین فلسطین پر ھر قیمت سے قبضہ کرنا چاھتا تھا اور یہی مقاصد سلطان صلاح الدین نے اپنی فوج کو دیئے مصر کا وایسراۓ بن کر سلطان نے کہا۔۔۔۔۔۔۔ ” اللہ نے مجھے مصر کی سرزمین دی ھے اور اللہ ھی مجھے فلسطین بھی عطا کرے گا،” مگر مصر پہنچ کر سلطان پر انکشاف ھوا کہ اسکا مقابلہ صرف صلیبیوں سے نھی ھے بلکل اسکے اپنے مسلمان بھائیوں نے اسکی راہ میں بڑے بڑے حسین جال بنا رکھے ھے جو صلیبیوں کے عزائم اور جنگی قوتوں سے زیادہ خطرناک ھے تو یہ تھا ہلکہ سا تعارف ۔

مصر میں جن زعما نے سلطان کا استقبال کیا ان میں ایک ناجی نامی سالار بھت اھمیت کا حامل تھا، سلطان نے سب کو سر سے پاؤں تک دیکھا۔سلطان کے ھونٹوں پر مسکراھٹ اور زبان پر پیار کی چاشنی تھی۔ بعض پرانے افسروں نے سلطان کو ایسی نظروں سے دیکھا جن میں طنز اور تمسخر تها۔ وہ صرف سلطان صلاح الدین ایوبی کے نام سے واقف تھے یا یہ کہ یہ ایک شاھی خاندان کا فرد ھے اور اپنے چچا کا جانشین ھے، وہ یہ بھی جانتے تھے کہ نورالدین زنگی کے ساتھ سلطان صلاح الدین ایوبی کا کیا رشتہ ھے ، ان سب کی نگاھوں میں سلطان صلاح الدین ایوبی کی اھمیت بس اسکے خاندانی بیک گراونڈ کی وجہ سے تھی یا صرف یہ کہ وہ مصر کا وایسراۓ بن کر آیا تھا اس کے سوا انھوں نے سلطان صلاح الدین ایوبی کو کوی وقعت نہ دی، ایک بوڑھے افسر نے اپنے ساتھ کھڑے افسر کے کان میں کہا” “بچہ ھے۔۔۔۔۔ اسے ھم پال لینگے،”

اس وقت کے مورخ یہ نھیں لکھ پائے کہ آیا سلطان صلاح الدین ایوبی نے انکی نظریں بھانپ لی تهیں کہ نهیں ۔ وہ استقبال کرنے والے اس ھجوم میں بچہ لگ رھا تھا، البتہ جب وہ ناجی کے سامنے ھاتھ ملانے کے لیے رکا تو اسکے چہرے پر تبدیلی آگی۔ وہ ناجی سے ھاتھ ملانا چاھتا تھا لیکن ناجی جو اسکے باپ کے عمر کا تھاسب سے پہلے درباری خوشامدیوں کی طرح جھکا پھر ایوبی سے بغل گیر ھوگیا اس نے ایوبی کی پیشانی کو چوم کر کہا۔ “میری خون کا آخری قطرہ بھی آپکی حفاظت کے لیے ھوگا۔ تم میرے پاس زنگی اور شردہ کی امانت ھو” “میری جان عظمت اسلام سے زیادہ قیمتی نهیں محترم اپنے خون کا ایک ایک قطرہ سنبھال کر رکھیں، صلیبی سیاہ گھٹاوں کی طرح چھا رھے ھیں۔” سلطان نے کہا۔

ناجی جواب میں مسکرایا جیسے سلطان نے کوی لطیفہ سنایا ھو، سلطان صلاح الدین اس تجربہ کار سالار کی مسکراھٹ کو غالبا نهیں سمجھ سکا۔ ناجی فاطمی خلافت کا پروردہ سالار تھا، وہ مصر میں باڈی گارڈز کا کمانڈر انچیف تھا۔جس کی نفری پچاس ھزار تھی اور ساری کی ساری نفری سوڈانی تھی۔یہ فوج اس وقت کے جدید ھتهیاروں سے لیس تھی اور یہی فوج ناجی کا ھتهیار بن گی تھی جس کے زور پر ناجی بے تاج بادشاہ بن گیا تھا، وہ سازشوں اور مفاد پرستوں کا دور رھا ، اسلامی دنیا کی مرکزیت ختم ھوگی تھی، صلیبیوں کی بھی نہایت دلکش تحزیب کاریاں شروع رهیں۔زر پرستی اور تعیش کا دور دورہ تھا۔جس کے پاس ذرا سی بھی طاقت تھی وہ اسکو دولت اور اقتدار کے لیے استعمال کرتا تھا۔سوڈانی باڈی گارڈ فوج کا کمانڈر ناجی مصر میں حکمرانوں اور دیگر سربراھوں کے لیے دھشت بناھوا تھا۔ اللہ نے اسکو سازش ساز دماغ دیا تھا۔ناجی کو اس دور کا بادشاہ ساز کہا جاتا تھا بنانے اور بگاڑنے میں خصوصی مہارت رکھتا تھا۔

اس نے سلطان صلاح الدین کو دیکھا تو اسکے چہرے پر ایسی مسکراھٹ آئی جیسے ایک کمزور اور نحیف بھیڑ کو دیکھ کر ایک بھیڑیئے کے دانت نکل آتے هیں، سلطان صلاح الدین اس کا زہر خندہ سمجھ نھی سکا۔۔ سلطان صلاح الدین کے لیے سب سے زیادہ اھم آدمی ناجی ھی تھا۔ کیونکہ وہ پچاس ھزار باڈی گارڈز کا کمانڈر تها ۔ اور سلطان صلاح الدین کو فوج کی بھت اشد ضرورت تھی۔ سلطان صلاح الدین سے کہا گیا کہ حضور بڑی لمبی مسافت سے تشریف لاے ھیں پہلے آرام کر لیں تو سلطان صلاح الدین نے کہا، ” میرے سر پر جو دستار رکھی گی ھے میں اسکے لایق نہ تھا اس دستار نے میری نیند اور آرام ختم کردی ھے کیا آپ حضرات مجھے اس چھت کے نیچے لیکر نھی جاینگے جس کے نیچے میرے فرایض میرا انتظار کر رھے ھیں۔” “کیا حضور کام سے پہلے طعام لینا پسند کرینگے” اسکے نایب نے کہا
سلطان صلاح الدین نے کچھ سوچا اور اسکے ساتھ چل پڑا۔۔ لمبے ٹرنگے باڈی گارڈز اس عمارت کے سامنے دو رویہ دیوار بن کر کھڑے تھے جس میں کھانے کا انتظام کیا گیا تھا۔
سلطان صلاح الدین نے فوجیوں کی قد بت اور ھتهیار دیکھے تو اسکے چہرے پر رونق آگی۔لیکن دروازے میں قدم رکھتے ھی یہ رونق ختم ھوی وھاں چار نوجوان لڑکیاں جن کے جسموں میں زھد شکن لچک اور شانوں پر بکھرے ھوے ریشمی بالوں میں قدرت کا حسن سمویا ھوا تھا ھاتھوں میں پھولوں کی پتیوں سے بھری ھوی ٹوکریاں لیں ھوے کھڑی تھی۔انھوں نے سلطان صلاح الدین کے قدموں میں پتیاں پھینکنا شروع کیں اور اسکے ساتھ دف کی تال پر طاوس درباب اور شہنایئوں کا مسحور کن نغمہ ابھرا۔سلطان صلاح الدین نے راستے میں پھولوں کی پتیاں دیکھ کر قدم پیچھے کر لیے، ناجی اور اسکا نایب سلطان صلاح الدین کے دایئں بایئں تھے۔ وہ دونوں جھک گیے اور سلطان صلاح الدین کو آگے بڑھنے کی دعوت دی۔۔ یہ وہ انداز تھا جو مغلوں نے ھندوستان میں رائج کیا تھا،

” صلاح الدین پھولوں کی پتیاں مسلنے نھی آیا” ایوبی نے ایسی مسکراھٹ سے کہا جو لوگوں نے بھت ھی کم کسی کے ھونٹوں پر دیکھی تھی۔ ” ھم حضور کے قدموں میں آسمان سے تارے بھی نوچ کر بچھا سکتے هیں” ناجی نے کہا اگر میری راہ میں کچھ بچھانا ھی چاھتے ھو تو وہ ایک ھی چیز ھے جو مجھے بھت بھاتی ھے۔” سلطان صلاح الدین نے کہا “آپ حکم دیں ۔۔ وہ کونسی چیز ھے جو سلطان کے دل کو بھاتی ھے” ناجی کے نایب نے کہا۔ “صلیبیوں کی لاشیں۔۔ ۔سلطان صلاح الدین نے مسکرا کر کہا۔ مگر جلد ھی یہ مسکراھٹ ختم ھو گی۔ اس کے آنکھوں سے شغلے نکلنے لگے۔ اس نے دھیمی آواز میں جس میں غضب اور عتاب چھپا ھوا تھا کہا۔۔۔” “مسلمانوں کی زندگی پھولوں کی سیج نھیں، جانتے نھی ھو صلیبی سلطنت ملت اسلامیہ کو چوںک کی طرح کھا رھی ھے ۔ اور جانتے ھو کہ وہ کیوں کامیاب ھو رھے ھیں ؟

صرف اسلیئے کہ ھم نے پھولوں کی پتیوں پر چلنا شروع کیا ۔ ھم نے اپنی بچیوں کو ننگا کر کہ انکی عصمتیں روند ڈالی ۔ میری نظریں فلسطین پر لگی ھوئی ھے تم میری راہ میں پھول ڈال کر مصر سے بھی اسلامی جھنڈا اتروا دینا چاھتے ھو کیا۔۔؟ سلطان صلاح الدین نے سب کو ایک نظر سے دیکھا اور دبدبے سے کہا۔اٹھا لو یہ پھول میرے راستے سے ، میں نے ان پر قدم رکھا تو میری روح چھلنی ھو جاے گی ، ھٹا دو ان لڑکیوں کو میری آنکھوں سے ایسا نہ ھو کہیں میری تلوار ان کی زلفوں میں الجھ کر بیکار ھو جاے”
“حضور کی جاہ حشمت”

“مجھے حضور نہ کہو” سلطان صلاح الدین نے بولنے والے کو یوں ٹوک دیا جیسے تلوار سے کسی کی گردن کاٹ دی ھو سلطان صلاح الدین نے کہا ” حضور وہ ھے جن کے نام کا تم کلمہ پڑھتے ھوں، جن کا میں غلام بے دام ھوں۔ میری جان فدا ھو اس حضور پر جن کے مقدس پیغام کو میں نے سینے پر کندہ کر رکھا ھے میں یہی پیغام لیکر مصر آیا ھوں۔ صلیبی مجھ سے یہ پیغام چھین کر بحیرہ روم میں ڈبو دینا چاھتے ھیں ، شراب میں ڈبو دینا چاھتے ھیں، میں بادشاہ بن کر نھی آیا۔” لڑکیاں کسی کے اشارے پر پھولوں کی پتیاں اٹھا کر وھاں سے ھٹ گی تھیں، سلطان تیزی سے دروازے کے اندر چلا گیا۔ایک وسیع کمرہ تھا جس میں ایک لمبی میز رکھی گی تھی، جس پر رنگا رنگ پھول رکھے ھوئی تھے ان کے بیچ بروسٹ کیے گیے بکروں کے بڑے بڑے ٹکڑے سالم مرغ اور جانے کیا کیا رکھا گیا تھا، سلطان صلاح الدین رک گیا اور اپنے نایب سے کہا کہ ” کیا مصر کا ھر ایک باشندہ ایسا ھی کھانا کھاتا ھے” ۔ ” نھی حضور غریب تو ایسے کھانے کا خواب بھی نھی دیکھ سکتے،” نایب نے کہا

” تم کس قوم کے فرد ھوں سلطان صلاح الدین نے کہا کیا ان لوگوں کی قوم الگ ھے جو ایسے کھانوں کا خواب بھی نھی دیکھ سکتے۔” کسی طرف سے کوی جواب نھی آیا
” اس جگہ جتنے ملازم ھیں اور جتنےسپاھی ڈیوٹی پر ھیں ان سب کو بلاو اور یہ کھانا انکو دے دو۔” سلطان صلاح الدین نےلپک کر ایک روٹی اٹھا اس پر دو تین بوٹیاں رکھی اور کھڑے کھڑے کھانے لگا،نہایت تیزی سے روٹی کھا کر پانی پیا اور باڈی گارڈزکے کمانڈر ناجی کو ساتھ لیکر اس کمرے میں چلاگیا جو وایسراۓ کا دفتر تھا، 2 گھنٹے بعد ناجی دفتر سے نکلا دوڑ کر اپنے گھوڑے پر سوار ھوا ایڑئ لگائ اور نظروں سے اوجھل ھوا۔ رات ناجی کے دو کمانڈر جو اسکے ھمراز تھے بیٹھے اسکے ساتھ شراب پی رھے تھے، ناجی نے کہا ”

جوانی کا جوش ھے تھوڑے دنوں میں ٹھنڈا کرادونگا، کم بخت جو بھی بات کرتا ھے کہتا ھے رب کعبہ کی قسم۔۔ صلیبیوں کو ملت اسلامیہ سے باھر نکال کر ھی دم لونگا۔”
” صلاح الدین ایوبی” ایک کمانڈر نے طنزیہ کہا ۔ ” اتنا بھی نھی جانتا کہ ملت اسلامیہ کا دم نکل چکا ھے اب سوڈانی حکومت کرینگے”
” کیا آپ نے اسے بتایا نھی کہ یہ پچاس ھزار کا لشکر سوڈانی ھے اور یہ لشکر جسے وہ اپنی فوج سمجھتا ھے صلیبیوں کے خلاف نھیں لڑے گا۔” دوسرے کمانڈر نے ناجی سے پوچھا
“تمھارا دماغ ٹھکانے ھے اوروش ۔۔۔؟ میں اسے یقین دلا آیا ھوں کہ یہ 50 ھزار سوڈانی شیر صلیبیوں کے پرخچے اڑا دینگے ۔۔۔ لیکن۔۔۔۔۔۔ ” ناجی چپ ھوکر سوچ میں پڑ گیا

” لیکن کیا” ” اس نے مجھے حکم دیا ھے کہ مصرکے باشندوں کی ایک فوج تیار کرو۔ اس نے کہا ھے کہ ایک ھی ملک کی فوج ٹھیک نھی ھوتی اس نے بولا کہ مصر کی فوج بناکر ان میں شامل کردو” ناجی نے کہا ” تو آپ نے کیا جواب دیا۔؟”
” میں نے کہا کہ حکم کی تعمیل ھوگی لیکن میں اس حکم کی تعمیل نھی کرونگا، ناجی نے جواب دیا، مزاج کا کیسا ھے” اوروش نے کہا ” ضد کا پکا معلوم ھوتا ھے” ناجی نے کہا ” آپکے دانش اور تجربے کے آگے تو وہ کچھ بھی نھیں لگتا نیا نیا امیر مصر بن کر آیا ھےکچھ روز یہ نشہ طاری رھے گا” دوسرے کمانڈر نے کہا ” میں یہ نشہ اترنے نھی دونگا اسی نشے میں ھی بدمست کر کہ مارونگا” ناجی نے جواب کہا۔

جاری ہے….

پانچویں قسط
چوتھی قسط
تیسری قسط
دوسری قسط
پہلی قسط

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

Leave a Reply