79

داستان ایمان فروشوں کی – قسط نمبر 4

علی بن سفیان نے ناجی کی تخریب کاری کی تفصیل بتانی شروع کردی کہ ناجی نے کس طرح بڑے بڑے عہدیداروں کو ھاتھ میں لیا اور انتظامیہ میں من مانی کرتا رھا۔ اور کہا “اور جس سوڈانی سپاہ کا وہ سپہ سالار ھے وہ ھماری بجاۓ ناجی کی وفادار ھے کیا آپ اسکا کوئی علاج سوچ سکتے ھیں” ” صرف سوچ ھی نہیں سکتا علاج شروع بھی کر چکا ھوں،مصر سے جو سپاہ بھرتی کیئے جا رہے ھیں وہ سوڈانی باڈی گارڈز میں گڈ مڈ کردونگا پھر یہ فوج نہ سوڈانی ھوگی اور نہ مصری ، ناجی کی یہ طاقت بکھر کر ھماری فوج میں جذب ھوجاے گی ۔ ناجی کو میں اسکے اصل ٹھکانے پر لے آونگا۔” سلطان صلاح الدین ایوبی نے کہا ” اور میں یہ وثوق سے کہہ سکتا ھوں کہ ناجی نےصلیبیوں کے ساتھ بھی گٹھ جوڑ کر رکھا ھے علی بن سفیان نے کہا آپ ملت اسلامیہ کو ایک مضبوط مرکز پر لاکر اسلام کو وسعت دینا چاھتے ھیں مگر ناجی آپکے خوابوں کو دیوانے کا خواب بنا رھا ھے” تم اس سلسلے میں کیا کر رہےھوں۔” سلطان صلاح الدین ایوبی نے کہا

” یہ مجھ پر چھوڑ دیں” علی نے کہا میں جو کرونگا وہ آپکو ساتھ ساتھ بتاتا رھونگا آپ مطمئن رھیں میں نے اس کے گرد جاسوسوں کی ایسی دیوار چن دی ھے جس کی آنکھ بھی ھے کان بھی اور یہ دیوار متحرک ھے۔ یوں سمجھ لیں کہ میں نے اسکو اپنے جاسوسی کے قلعے میں قید کرلیا ھے” سلطان صلاح الدین ایوبی کو علی بن سفیان پر اس قدر بھروسہ تھا کہ اس نے علی سے اسکے درپردہ کاروائ کی تفصیل نہ پوچھی، علی نے سلطان سے پوچھا” معلوم ھوا ھے وہ آپکو جشن پر بلانا چاھتا ھے اگر یہ ٹھیک بات ھے تو اسکی دعوت اس وقت قبول کرلیں جب میں آپکو کہونگا ” ایوبی اٹھا اور اپنے ھاتھ پیچھے کر کے ٹہلنے لگا اسکی آہ نکلی وہ رک گیا اور بولا ” بن سفیان ۔۔!! زندگی اور موت اللہ کے ھاتھ میں ھے بے مقصد زندگی سے بہتر نہیں کہ انسان پیدا ھوتے ھی مر جائے ؟ کھبی کھبی یہ بات دماغ میں آتی ھے کہ وہ لوگ کتنے خوش نصیب ہیں جن کی قومی حس بے حس ھوچکی ھوتی ھے اور جن کا کوئی کردار نہیں ھوتا بڑے مزے سے جیتے ہیں اور اپنی آئی پر مر جاتے ہیں” ۔

وہ بد نصیب ھے امیر محترم ” علی بن سفیان نے کہا ” ہاں بن سفیان میں جب انہیںں خوش نصیب کہتا ھوں تو پتہ نہیں کون میرے کانوں میں یہ بات ڈال لیتا ھے جو تم نے کہی مگر سوچتا ھوں کہ اگر ھم نے تاریخ کا دھارا اس موڑ پر نہ بدلہ تو ملت اسلامیہ صحراؤں وادیوں میں گم ھو جاے گی ملت کی خلافت تین حصوں میں تقسیم ھوگئ ھے امیر من مانی کر رہے ھیں اور صلیبیوں کا آلہ کار بن رہے ھیں مجھے اس بات کا ڈر بھی ھے کہ اگر مسلمان زندہ بھی رہے تو وہ ھمیشہ صلیبیوں کے غلام اور آلہ کار بنیں گے وہ اسی پر خوش ھونگے کہ وہ زندہ ہیں مگر قوم کی حیثیت سے وہ مردہ ھونگے زرا نقشہ دیکھو علی۔۔۔! آدھی صدی میں ھماری سلطنت کا نقشہ کتنا سکڑ کر رہ گیا ھے وہ خاموش ھوگیا اور ٹہلنے لگا اور پھر سر جھٹک کر علی کو دیکھنے لگا ” جب تباھی اپنے اندر سے اٹهے تو اسے روکنا محال ھوتا ھے اگر ھمارے خلافتوں اور امارتوں کا یہی حال رھا تو صلیبیوں کو ھم پر حملہ کرنے کی ضرورت پیش نہیں آئے گی،،

وہ آگ جس میں ھم اپنا ایمان اپنا کردار اپنی قومیت جلا رہے ھیں اس میں صلیبی آھستہ آھستہ تیل ڈالتے رھینگے، انکی سازشیں ھمیں آپس میں لڑاتی رھیں گی، میں شاید اپنا عزم پورا نہ کر سکوں ۔ میں شاید صلیبیوں سے شکست بھی کھاجاوں لیکن میں قوم کے نام ایک وصیت چھوڑنا چاھتا ھوں وہ یہ ھے کہ کسی غیر مسلم پر کھبی بھروسہ نہیں کرنا، انکے خلاف لڑنا ھے تو لڑ کر مر جانا ، کسی غیر مسلم کے ساتھ کوئی سمجھوتہ کوئی معاھدہ نہ کرنا” ” آپکا لہجہ بتا رھا ھے کہ جیسے آپ اپنے عزم سے مایوس ھوگیے ھے” علی بن سفیان نے ” مایوس نہیں جذباتی۔۔۔۔ علی۔۔۔ میرا ایک حکم متعلقہ شعبہ تک پنچاو بھرتی تیز کردو اور کوشیش کرو کہ فوج کے لیے ایسے آدمی زیادہ سے زیادہ بھرتی کرو جنکو جنگ و جدل کا پہلے سے تجربہ ھوں۔ھمارے پاس اتنی لمبی تربیت کا وقت نہیں، بھرتی ھونے والوں کے لیے مسلمان ھونا لازمی قرار دو، اور تم اپنے لیے زھن نشین کردو کہ ایسے جاسوسوں کا دستہ تیار کرو جو دشمن کے علاقے میں جا کر جاسوسی بھی کریں۔

اور شب خون بھی ماریں یہ جانبازوں کا دستہ ھوگا ، انہیںں خصوصی تربیت دو ، ان میں یہ صفات پیدا کرو کہ وہ اونٹ کی طرح صحرا میں زیادہ سے زیادہ عرصہ پیاس برداشت کر سکے۔ انکی نظریں عقاب کی طرح تیز ھوں ۔ ان میں صحرائ لومڑی کی مکاری ھو اور وہ دشمن پر چیتے کی طرح جھپٹنے کی مہارت و طاقت کے مالک ھوں ان میں شراب اور حشیش کی عادت نہ ھو اور عورت کے لیے وہ برف کی طرح یخ ھوں ،، بھرتی تیز کرادو علی سفیان۔۔۔۔۔۔۔۔اور یاد رکھو میں ھجوم کا قائل نہیں ، مجھے لڑنے والوں کی ضرورت ھے خواه تعداد تھوڑی ھو ، ان میں قومی جذبہ ھو اور وہ میرے عزم کو سمجھتے ھوں ، کسی کے دل میں یہ شبہ نہ ھو کہ اسے کیوں لڑایا جا رھا ھے۔
٭؎٭؎٭؎٭؎٭؎٭؎٭؎٭؎٭؎٭؎٭؎٭
اگلے دس دنوں میں ہزارھا تربیت یافتہ سپاھی امارت مصر کی فوج میں آگیے اور ان دس دنوں میں ذکوئی کو ناجی نے ٹریننگ دے دی کہ وہ سلطان کو کون کون سے طریقے سے اپنے حسن کی جال میں پھنسا کر اسکی شخصیت اور اسکا کردار کمزور کر سکتی ھے ۔

ناجی کے ھمراز دوستوں نے جب ذکوئی کو دیکھا تو انھوں نے کہا کہ مصر کے فرعون بھی اس لڑکی کو دیکھ لیتے تو وہ خدائ کے وعدے سے دستبردار ھو جاتے ، ناجی کا جاسوسی کا اپنا نظام تھا ، بہت تیز اور دلیر ،، وہ معلوم کر چکا تھا کہ علی بن سفیان سلطان کا خاص مشیر ھے۔ اور عرب کا مانا ھوا سراغرساں ، اس نے علی کے پیچھے اپنے جاسوس چھوڑ دیئے تھے اور علی کو قتل کرنے کا منصوبہ بھی تیار کیا تھا ۔ ذکوئ کو ناجی نے سلطان صلاح الدین ایوبی کو اپنے جال میں پھنسانے کے لیے تیار کیا تھا ، لیکن وہ محسوس نہیں کر سکا کہ مراکش کی رھنے والی یہ لڑکی خود اسکے اپنے اعصاب پر سوار ھو گئ ھے ، وہ صرف شکل و صورت ھی کی دلکش نہیں تھی ، اسکی باتوں میں ایسا جادو تھا کہ ناجی اسکو اپنے پاس بٹھا کر باتیں ھی کیا کرتا تھا اس نے دو ناچنے گانے والیوں سے نگاہیں پھیر لی ، جو اسکی منظور نظر تھیں ، تین چار راتوں سے ناجی نے ان لڑکیوں کو اپنے کمرے میں بلایا بھی نہیں تھا،

ناجی سونے کے انڈے دینے والی مرغی تھی جو انکی آغوش سے ذکوئی کی آغوش میں چلا گیا تها ، انھوں نے ذکوئی کو راستے سے ھٹانے کی ترکیبیں شروع کردی ، وہ آخر اس نتیجے پر پہنچیں کہ اسے قتل کیا جاے ، لیکن اسکو قتل کرنا اتنا آسان نہ تھا ، کیونکہ ناجی نے اسے جو کمرہ دیا تھا اس پر دو محافظوں کا پہرہ ھوا کرتا تھا ، اسکے علاوہ یہ دونوں لڑکیاں اس مکان سے بلااجازت نہیں نکل سکتی تھی جو ناجی نے انہیںں دے رکھا تھا ، انھوں نے حرم کی نوکرانی کو اعتماد میں لینا شروع کیا ، وہ اسکے ھاتھوں ذکوئی کو زھر دینا چاھتی تھیں۔۔ علی بن سفیان نے سلطان صلاح الدین ایوبی کا محافظ دستہ بدل دیا ، یہ سب امیر مصر کے پرانے باڈی گارڈز تھے ، اسکی جگہ علی نے ان سپاھیوں میں باڈی گارڈز کا دستہ تیار کیا جو نئے آئے تھے ، یہ جانبازوں کا نیا دستہ تھا جو سپاہ گری میں بھی تاک تھا ، اور جذبے کے لحاظ سے ھر سپاھی اس دستے کا اصل میں مرد مجاھد تھا ۔ ناجی کو یہ تبدیلی بلکل بھی پسند نہیں تھی۔۔

لیکن اس نے سلطان صلاح الدین ایوبی کے سامنے اس تبدیلی کی بے حد تعریف کی ، اور اسکے ساتھ ھی درخواست کی کہ سلطان صلاح الدین ایوبی اسکی دعوت کو قبول کریں ، سلطان صلاح الدین ایوبی نے اسکو جواب دیا کہ وه ایک آدھے دن میں اسکو بتاے گا کہ وہ کب ناجی کی دعوت قبول کرے گا ۔ ناجی کے جانے کے بعد سلطان صلاح الدین ایوبی نے علی سے مشورہ کیا کہ وہ دعوت پر کب جاے ۔ علی نے مشورہ دیا کہ اب وہ کسی بھی روز دعوت کو قبول کریں۔۔ دوسرے دن سلطان صلاح الدین ایوبی نے ناجی کو بتایا کہ وہ کسی بھی رات دعوت پر آسکتا ھے ، ناجی نے سلطان صلاح الدین ایوبی کو تین دن کے بعد کی دعوت دی اور بتایا کہ یہ دعوت کم اور جشن زیادہ ھوگا اور یہ جشن شہر سے دور صحرا میںمشعلوں کی روشنی میں منایا جاے گا،ناچ گانے کا انتظام ھوگا، باڈی گارڈز کے گھوڑے اپنا کرتب دکھائینگے ،، شمشیر زنی اور بغیر تلوار کے لڑائیوں کے مقابلے ھونگے اور سلطان صلاح الدین ایوبی کو رات وھیں قیام کرنا پڑے گا ،

رہایش کے لیے خیمے نصب ھونگے ، سلطان صلاح الدین ایوبی پروگرام کی تفصیل سنتا رھا اس نے ناچنے گانے پر اعتراض نہیں کیا تھا ، ناجی نے ڈرتے اور جھجکتے ھوے کہا ” فوج کے بیشتر سپاھی جو مسلمان نہیں یا جو ابھی نیم مسلمان ھیں کھبی کھبی شراب پیتے ھیں ، وہ شراب کے عادی نہیں لیکن وہ اجازت چاھتے ھیں کہ جشن میں انہیںں شراب پینے کی اجازت دی جاۓ ” “آپ ان کے کمانڈر ھیں آپ چاھیں تو ان کو اجازت دے دیں نہ چاھیں تو میں آپ پر اپنا حکم مسلط نہیں کرنا چاھتا ” سلطان صلاح الدین ایوبی نے کہاؔ : سلطان صلاح الدین ایوبی کا اقبال بلند هو میں کون ھوتا ھوں اس کام کی اجازت دینے والا جس کو آپ سخت ناپسند کریں ” ناجی نے کہا
” انہیںں اجازت دے دیں کہ جشن کی رات ھنگامہ آرائی اور بدکاری کے سوا سب کچھ کر سکتے ھے اگر شراب پی کر کسی نے ھلہ گلہ کیا تو اس کو سخت سزا دی جاے گی” سلطان صلاح الدین ایوبی نے کہا ۔

یہ خبر جب سلطان صلاح الدین ایوبی کے سپاھیوں تک پہنچی کہ ناجی سلطان صلاح الدین ایوبی کے اعزاز میں جشن منعقد کررھا ھے اور اس میں ناچ گانا بھی ھوگا شراب بھی ھوگی اور سلطان صلاح الدین ایوبی نے اس جشن کی دعوت ان سب خرافات کے باوجود بھی قبول کی ھے تو وہ ایک دوسرے کا منہ دیکھتے رہے ۔ کسی نے کہا کہ ناجی جھوٹ بولتا ھے اور دوسروں پر اپنا رعب ڈالنا چاھتا ھے اور کسی نے کہا ناجی کا سلطان صلاح الدین ایوبی پر بھی داؤ چل گیا ۔ یہ راۓ ناجی کے ان افسروں کو بھی پسند آی جو ناجی کے ھم نوا اور ھم پیالہ تھے ، سلطان صلاح الدین ایوبی نے چارج لیتے ھی ان کی عیش و عشرت ، شراب اور بدکاری حرام کردی تھی ، سلطان صلاح الدین ایوبی نے ایسا سخت ڈسپلن رائج کیا کہ کسی کو بھی پہلے کی طرح اپنے فرایض سے کوتاھی کی جرأت نہیں ھوتی تھی ، وہ اس پر خوش تھے کہ نیے امیر مصر نے ان کو رات کی شراب کی اجازت دی تھی تو کل وہ بھی خود ان سب چیزوں کا رسیا ھو جاے گا ،، صرف علی بن سفیان تھا جسے معلوم تھا کہ سلطان نے ان سب خرافات کی اجازت کیوں دی تھی ۔

جشن کی شام آگئ ، ایک تو چاندنی رات تھی ، صحرا کی چاندنی اتنی شفاف ھوتی ھے کہ ریت کے زرے بھی نظر آجاتے ھیں ، دوسرے ھزارھا مشعلوں نے وہاں صحرا کی رات کو دن بنا دیا تھا ، باڈی گارڈز کا ھجوم تھا جو ایک وسیع میدان کے گرد دیواروں کی طرح کھڑا تھا ، ایک طرف جو مسند سلطان صلاح الدین ایوبی کے لیے رکھی گئ تھی وہ کسی بہت بڑے بادشاہ کا معلوم ھوتا تھا ، اسکے دایئں بایئں بڑے مہمانوں کے لیےنشستیں رکھی گی تھی ، اس وسیع و عریض تماش گاہ سے تھوڑی دور مہمانوں کے لیے نہایت خوبصورت خیمے نصب تھے ، ان سے ھٹ کر ایک بڑا خوبصورت خیمه سلطان صلاح الدین ایوبی کے لیے نصب کیا گیا تھا جہاں اسے رات بسر کرنی تھی۔ ۔ علی بن سفیان نے سورج غروب ھونے سے پہلے وہاں جاکر محافظ کھڑے کردیئے تھے ۔ جب علی بن سفیان وہاں محافظ کھڑے کر رھا تھا تو ناجی ذکوئی کو آخری ھدایات دے رھا تھا ۔ اس شام ذکوئی کا حسن کچھ زیادہ ھی نکھر آیا تھا ۔

اسکے جسم سے عطر کی ایسی بھینی بھینی خوشبو اٹھ رھی تھی ۔ جس میں سحر کا تاثر تھا اس نے بال عریاں کندھوں پر پھیلا دیے تھے ۔ سفید کندھوں پر سیاھی مائل بھورے بال زاھدوں کی نظروں کو گرفتار کرتے تھے ۔ اسکا لباس اتنا باریک تھا کہ اسکے جسم کے تمام نشیب و فراز دکھائی دیتے تھے ، اسکے ھونٹوں پر قدرتی تبسم ادھ کھلی کلی کی طرح تها ،، ناجی نے اسکو سر سے پاؤں تک دیکھا ” تمھارے حسن کا شاید سلطان صلاح الدین ایوبی پر اثر نہ ھو تو اپنی زبان استعمال کرنا ، وہ سبق بھولنا نہیں جو میں اتنے دنوں سے تمھیں پڑھا رھا ھوں ۔ اور یہ بھی نہ بھولنا کہ اسکے پاس جاکر اسکی لونڈی نہ بن جانا ۔ انجیر کا وہ پھول بن جانا جو درخت کی چھوٹی پر نظر آتا ھے مگر درخت پر چڑھ کر دیکھو تو غایب ۔ اسے اپنے قدموں میں بٹھا لینا میں تمھیں یقین دلاتا ھوں کہ تم اس پتھر کو پانی میں تبدیل کرسکتی ھوں ۔ اس سرزمین میں قلوپطرہ نے سینرز جیسے مرد آھن کو اپنے حسن و جوانی سے پگهلا کر مصر کی ریت میں بہادیا۔

قلوپطرہ تم سے زیادہ خوبصورت نہیں تھی میں نے تم کو جو سبق دیا ھے وہ قلو پطرہ کی چالیں تھی، عورت کی یہ چالیں کھبی ناکام نہیں ھو سکتی۔” ناجی نے کہا ۔ ذکوئی مسکرا رھی تھی اور بڑے غور سے سن رھی تھی مصر کی ریت نے ایک اور حسین قلوپطرہ کو حسین ناگن کی طرح جنم دیا تھا مصر کی تاریح اپنے آپ کو دھرانے والی تھی سورج غروب ھوا تو مشعلیں جل گئیں سلطان صلاح الدین ایوبی گھوڑے پر سوار آگیا ۔ سلطان کے آگے پیچھے دایئں بایئں اس محافظ دستے کے گھوڑے تھے جو علی بن سفیان نے منتحب کیئے تھے ، اسی دستے میں سے ھی اس نے دس محافظ شام سے پہلے ھی یہاں لاکر سلطان صلاح الدین ایوبی کے خیمے کے گرد کھڑے کردیئے تھے ، سازندوں نے دف کی آواز پر استقبالیہ دھن بجائ اور صحرا” امیر مصر سلطان صلاح الدین ایوبی زندہ باد ” کے نعروں سے گونجنے لگا ناجی نے آگے بڑھ کر استقبال کیا اور کہا” آپ کے جانثار عظمت اسلام کے پاسبان آپکو بسروچشم خوش آمدید کہتے ھیں ۔

ان کی بے تابیاں اور بے قراریاں دیکھیں آپ کے اشارے پر کٹ مریں گے ۔” اور خوشامد کے لیے اسکو جتنے الفاظ یاد آئے ناجی نے کہہ دیئے۔جونہی سلطان صلاح الدین ایوبی اپنی شاھانہ نشست پر بیٹھا ۔ سر پٹ دوڑتے گھوڑوں کی ٹاپوں کی آوازیں سنایی دینے لگی گھوڑے جب روشنی میں آئے تب اس نے دیکھا کہ چار گھوڑے دایئں سے اور 4 بایئں سے آرہے تھے ھر ایک پر ایک ایک سوار تھا اور ان کے پاس ھتیار نہیں تھے وہ ایک دوسرے کے آمنے سامنے آرہے تھے صاف ظاھر تھا کہ وہ ٹکرا جاینگے کسی کو معلوم نہیں تھا کہ وہ کیا کرینگے وہ ایک دوسرے کے قریب آئے تو سوار رکابوں میں پاؤں جماے کھڑے ھوے پھر انھوں نے لگامیں ایک ایک ھاتھ میں تھام لی اور دوسرے بازو پھیلا دیئے دونوں اطرف کے گھوڑے بلکل آمنے سامنے آگیئے اور سواروں کی دونوں پارٹیاں ایک دوسرے سے الجھ گئیں ۔ سواروں نے ایک دوسرے کو پکڑنے اور گرانے کی کوشیش کی سب گھوڑے جب آگے نکل گیے تو دو سوار جو گھوڑوں سے گر گیئے تھے

ریت پر قلابازیاں کھا رہے تھے ، ایک طرف کے ایک سوار نے دوسری طرف کے ایک سوار کو ایک بازو میں جکڑ کر اسے گھوڑے سے اٹھا لیا تھا اور اسے اپنے گھوڑوں پر لاد کر لے جا رھا تھے ، ھجوم نے اس قدر شور برپا کیا تھا کہ اپنی آواز خود کو سنائی نہیں دے رھی تھی ۔ یہ سوار اندھیرے میں غائب ھوئے تو دونون اطرف سے اور چار چار گھوڑ سوار آئے اور مقابلہ ھوا اس طرح آٹھ مقابلے ھوئے اور اسکے بعد شتر سوار آئے پھر گھوڑ سواروں اور شتر سواروں نے کئ کرتب دکھاے ۔ اسکے بعد تیغ زنی اور بغیر ھتیاروں کے لڑائ کے مظاھرے ھوے جن میں کئ ایک سپاھی زخمی ھوے سلطان صلاح الدین ایوبی شجاعت اور بہادری کے ان مقابلوں میں جذب ھوکر رہ گیا تھا اسے ایسے ھی بہادر فوج کی ضرورت تھی سلطان صلاح الدین ایوبی نے علی بن سفیان کے کان میں کہا ” اگر اس فوج میں اسلامی جذبہ بھی هو تو میں اسی فوج سے ھی صلیبیوں کو گھٹنوں بٹھا سکتا ھوں—–

جاری ہے

تیسری قسط
دوسری قسط
پہلی قسط

پانچویں قسط

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

Leave a Reply