97

عبداللہ حسین کا ایک تاریخی ناول “اداس نسلیں”

آج سے نصف صدی قبل ایک ایسا ناول لکھا گیا جس نے نہ صرف اردو ادب میں تہلکہ مچا دیا بلکہ وہ ایک نئے وجود میں آنے والے ملک کی کہانی بن گیا ۔ غلامی سے آزادی کے سفر کی کہانی، مرد عورت کی محبت کی کہانی ، مٹی سے عشق کی کہانی ۔ یہ ایک تاریخی ناول تھا جو آج بھی زندہ ہے اور کتنی ہی نسلیں اس کو پڑھ چکی ہیں ۔ بقول عبداللہ حسین کے کہ جب سے ’اداس نسلیں‘ لکھی گئی اس وقت سے اس کتاب کی خوش قسمتی اور ہماری بدقسمتی ہے کہ ہر نسل اداس سے اداس تر ہوتی جا رہی ہے ۔ جب یہ ناول لکھا گیا تو اس کے مصنف ادبی حلقوں سے دور میرے گاؤں داؤد خیل کی ایک سیمنٹ فیکٹری میں میں بطور کیمسٹ کام کرتے تھے ۔ نام ابھی عبداللہ حسین نہیں ہوا تھا بلکہ محمد خان تھا ۔ آٹھ گھنٹے کام کرتے تھے اور آٹھ گھنٹے سوتے تھے، باقی کے آٹھ گھنٹوں میں وہاں کچھ کرنے کو نہیں تھا تو سوچا کہ محبت کی ایک کہانی لکھتے ہیں ۔ عبداللہ حسین نے اعتراف کیا کہ وہ انگریزی پڑھتے تھے اور انھیں اردو زبان نہیں آتی تھی : ’ایک مرتبہ والد نے کہا تھا کہ اگر تم انگریزی نہیں پڑھو گے تو ریلوے سٹیشن پر جو لمبی نیکریں پہن کر چائے بیچتے ہیں، تم بھی وہ کام کرو گے، مجھے چائے بیچنے میں کوئی مسئلہ نہیں تھا، لیکن میلی کچیلی نیکر پہننے سے ڈرتا تھا۔

اس خوف سے انگریزی پڑھتے رہے ۔‘ پہلی جنگِ عظیم کی کہانی، آزادی کے خواب دیکھنے والوں کا قصہ، بٹوارے کی بپتا اور سب سے بڑھ کر محبت کی داستان کے بارے میں پاکستان کے مقبول ترین مصنف مستنصر حسین تارڑ کہتے ہیں کہ اداس نسلیں پہلا پاکستانی ناول ہے ۔ ’میں نے اداس نسلیں اس وقت پڑھنا شروع کیا جب میں نے لکھنا شروع نہیں کیا تھا۔ کیونکہ میں اس وقت قاری تھا۔ تب بھی مجھے یہ محسوس ہوا کہ شاید اسے پہلا پاکستانی ناول کہنا چاہیے ۔ حالانکہ اس سے پیشتر آگ کا دریا لکھا جا چکا تھا ، عزیز احمد کے ناول تھے، بیدی صاحب وغیرہ وغیرہ، لیکن ان میں زیادہ تر ہماری مشترکہ وراثت تھی اور ان میں برصغیر کی جھلکیاں تھیں ۔‘ اس کے دوسری طرف مستنصر حسین تارڑ کے مطابق ’ اداس نسلیں میں سارے کا سارا پسِ منظر پنجاب کا ہے ۔ یہ پہلا ناول تھا جو اپنے ماحول کے حوالے سے تھا ۔ ‘ عبداللہ حسین نے ناول داؤد خیل میں لکھا، مگر اسے چھپوانے کے لیے لاہور پہنچے جہاں ان کی اس ناول کے پبلشر چوہدری نذیر حسین سے ملاقات ہوئی۔ عبداللہ حسین کہتے ہیں کہ پبلشر نے انھیں کہا کہ میں دو تین لوگوں سے پڑھواؤں گا اور پوچھوں گا کہ یہ کیسا ہے اور میں اس کے بعد واپس داؤد خیل چلا آیا ۔ جب عبداللہ حسین واپس گئے تو پبلشر نے کہا کہ انھیں لوگوں نے بتایا ہے کہ یہ اچھا ہے مگر

آپ کو کوئی جانتا ہی نہیں ہے تو میں نے کہا کہ ’ادھر بینڈ باجا بجا کے میرا جلوس نکال دو سب کو پتہ چل جائے گا ۔‘ عبداللہ حسین کے مطابق پبلشر نے مشورہ دیا کہ وہ ایک رسالہ نکالتے ہیں ’سویرا‘ اس میں کچھ کہانیاں لکھ کر دیں ، تاکہ لوگ نام سے واقف ہوں ۔ ’تو میں چونکہ کینیڈا سے نیا نیا پڑھ کے آیا تھا تو میں نے وہاں کی ایک کہانی ندی کے نام سے لکھی جو میری پہلی کہانی تھی۔ تو پشاور سے لے کر بمبئی تک ہر ایک نے وہ پڑھی تو چوہدری نذیر نے مجھے کہا کہ آپ کی تو پہلی کہانی ہی چل پڑی ہے اب اور نہ بھی لکھیں تو کوئی بات نہیں ہم چھاپ دیتے ہیں۔ اور وہ راتوں رات مشہور ہو گئی اور مجھے خط آئے کرشن چندر ، راجندر سنگھ بیدی، اوپندر ناتھ اشک وغیرہ کے۔‘چوہدری نذیر کے دوست شیخ صلاح الدین نے ان کے بیٹے سے کہا کہ اپنی ابا سے جا کر کہوں کہ اس ناول کو جلد شائع کریں کیونکہ ’ یہ بڑا عظیم ناول ہے اور اس ناول کے پائے کا ناول ڈی ایچ لارنس کے بعد یورپ کی بھی کسی زبان میں شائع نہیں ہوا ۔‘’’ اداس نسلیں‘‘ 1963 میں پہلی بار شائع ہوا اور اسے 1963 میں آدم جی انعام سے نوازا گیا۔ اداس نسلیں کا موضوع برطانوی ہندوستان ہے ۔ یہ ناول اپنے اندر ایک عہد کی تاریخ سموئے ہوئے ہے ۔ ناول کے واقعات کی ابتدا 1857ء کی جنگ آزادی سے ہوتی ہے اور اختتام قیام پاکستان پر ہوتا ہے ۔

ناول میں 1857ء کی جنگ آزادی، جاگیردارانہ ذہنیت کا پھیلاؤ ، کانگریس کی سیاست ، آل انڈیا مسلم لیگ کی جدوجہد ، جلیانوالہ باغ قتل عام ، مسلم تشخص کا احساس ، دوسری جنگ عظیم اور اس کے ہندوستان پر اثرات ، ہندوستان میں آزادی کی جدوجہد ، تقسیم ہند کے فسادات اور قیام پاکستان کے واقعات کو خاص کر اجاگر کیا گیا ہے ۔ عبداللہ حسین کہتے ہیں کہ جب لکھنا شروع کیا تو جو اردو رائج الوقت تھی اس میں بڑے مشکل الفاظ تھے ، لچھے دار زبان مجھے نہیں آتی تھی، جو الٹی سیدھی زبان آئی اس کو لکھتا گیا ، مجھے تو پتہ نہیں تھا کہ اس کو کوئی پڑھے گا یا شائع بھی کرے گا ۔ اردو کے ایک معروف نقاد مظفر علی سید نے تو یہ تک کہہ دیا کہ پہلے عبداللہ حسین کو اردو سیکھنی چاہیے پھر ناول لکھنا چاہیے ۔ کچھ عرصے بعد ہی عبداللہ حسین اور مظفر علی سید کا آمنا سامنا ہوا تو عبداللہ حسین کہتے ہیں کہ انھوں نے مظفر سے کہا کہ ’میں نے تو آپ کا ریویو سنا تھا پشاور کے ریڈیو سے جس میں آپ نے بڑی تنقید کی تھی، آپ نے کہا تھا کہ اس نے عجیب و غریب زبان لکھی ہے اس کو اردو سیکھنی چاہیے تھی کہ ناول لکھنے سے پہلے ۔‘ نصف صدی سے زیادہ عرصے سے یہ ناول کیسے زندہ ہے اور ایک نئے ملک کی پہچان کیونکہ بنا ؟ مستنصر حیسن تارڑ کہتے ہیں کہ ’ جو پہچان تھی

اس نئی سرزمین کی وہ پہلی مرتبہ اسٹیبلش ہوئی اور جو لوگ اسے پڑھتے ہیں اس میں انھیں اپنی پہچان نظر آتی ہے، ان کرداروں میں، ان کی سائیکی میں، اس کی لینڈ سکیپ میں، جس طرح میں نے کہا کہ وہ جانا پہچانا لینڈ سکیپ ہے تو ایک وجہ تو یہ ہے ۔‘ ’دوسرا انھوں نے اس ناول میں زبان پر زور نہیں دیا بلکہ اس میں انھوں نے اظہار، جذبات پر یا جو کردار ہیں ان کی نفسیات پر زیادہ توجہ دی ہے ، چنانچہ وہ آسانی سے لوگوں کی سمجھ میں آ جاتی ہے۔ اور آپ اس چیز کو ملکیت سمجھتے ہیں جس میں آپ اپنی جھلک دیکھتے ہیں اپنے اظہار کی یا اپنے لب و لہجے کی یا اپنے ماحول کی یا روایات کی۔‘ یونیسکو نے “اداس نسلیں ” کو انگریزی ترجمے کے لیے منتخب کیا ۔ برطانیہ میں اپنے دورانِ قیام عبد اللہ حسین نے “اداس نسلیں ” کا انگریزی ترجمہ The Weary Generations کے نام سے کیا تھا ۔ اس کی اشاعت سے انگریزی حلقوں میں بھی اس کی خوب پزیرائی ہوئی۔ ہندوستان میں ہارپر کولنز اور پاکستان میں سنگ میل پبلی کیشنز نے اسے چھاپا ۔ بلاشبہ یہ ناول عالمی ادب کے معیار پر پورا اترتا ہے ۔ 50 سال بعد بھی عبداللہ حسین کہتے ہیں کہ انھیں نوجوان لڑکے اور لڑکیاں ملتے ہیں جو کہتے ہیں کہ انہوں نے حال ہی میں یہ ناول پڑھا ہے اور ایسا لگتا ہے جیسے آج ہی کے بارے میں لکھا گیا ہو ۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

Leave a Reply