109

کرائسٹ چرچ میں مسلمانوں کے جنونی قاتل برینٹن کے بارے میں ہوشربا انکشافات جمیل فاروقی کی زبانی

وہ دانائے سُبل ، ختم الرسل ، مولائے کُل ، خاتم النبین، ہادیءِ مساکین ، رحمت اللعالمین ، سرور دوجہاں ، تاجدارِ کون ومکاں ، امام الابنیا ، وارثِ شہدائے کربلا ، وارثِ امت المسلمین ، ہادی ء برحق ، وہ آمنہ بی بی کے بطن سے ارض وسماء کو خوشبووں سے معطر کرنیوالا ، وہ کافرومسلم کے دلوں میں اپنی دیانت سے گھر کرنے والا ، دشمنوں کو شفقت سے شیروشکر کرنے والا ، وہ جس کے آنے سے قیصروکسریٰ کے محلوں کے درودیوار ہل گئے ، وہ جس کے جانے سے نبوت کے در ہمیشہ کے لئے سِل گئے. وہ امن کا داعی ، وہ مذہب اسلام اور دین ابراہیمی کا سپاہی ، وہ دُرِیتیم ، حامیءِ مسکین ، غریبوں کا والی ، غلاموں کا مولا ٰ، محبوبِ خدا ، محمد مصطفےٰ ، نبی آخرالزماں ، سردارِ دو جہاں ﷺ، وہ جن کے ہونے سے ہم اور جن کے ہونے سے یہ کُل کائنات ہے ان پہ لاکھوں ، کروڑوں درود وسلام ! بعد ازسلام ، تہہ خانہءِ دلِ بے قرار سے اٹھتا ہوا غم و الم کا دھواں ، کئی وسوسے ، ہزاروں سوال ۔۔ شکستہ امیدیں ، آنکھیں پُر ملال ۔۔اور سر جھکائے پوچھے جاتے ہیں سب شہیدوں کے لال۔۔… یا نبی دیکھئے کہ آپ کی امت پہ کیا وقت آیا ہے ۔ کہ ہمارے ہی آباواجداد کے ماننے والوں نے ہم پہ کیا ظلم ڈھایا ہے ۔ نیوزی لینڈ مساجد پر ہونے والے خونیں حملے پر ہم شکوہ کریں تو کس سے کریں۔

ہم تو اس نبی کی امت ہیں جنہوں نے غزوات کے غیر مسلم قیدیوں تک پر رحم کرتے ہوئے حسن سلوک کا درس دیا لیکن غضب دیکھئے کہ مذہبِ عیسائیت کے پیروکارنے مسجد کے اند ر کیا قہر ڈھایا ہے۔ جگہ جگہ گولیوں کے خول ، قطار اندر قطار لاشے ۔۔ مردود کی بے دردری اور بے حسی کی انتہا ۔۔کہ نہتے انسانوں کو گولیوں سے بھونتا رہا اور جب وہ دنیا سے رخصت ہوچلے تو متواتر اُن کی لاشوں پرآتشیں اسلحے سے بارود داگلتا رہا ۔بات یہاں تک بھی ہوتی تو شاید صبر آجاتا لیکن اس تمام واقعے کو سماجی رابطے کی ویب سائیٹ پر براہ راست براڈکاسٹ کرنا محض اتفاقیہ نہیں ہے ، اس اہم ترین پہلو کو مدِنظر رکھتے ہوئے ناچیز واقعے کے فورا بعد سے اس کھوج میں لگا ہوا تھا کہ برینٹن ٹیرنٹ (Brenton tarrant) نے ایسا کیا تو آخر کیوں کیا ! اور پھرجیسے جیسے باتوں کی کھوج لگتی گئی ، حقائق کی گتھیاں سلجھتی گئیں ۔ کہنے کو تو کرائسٹ چرچ کی مساجد پر حملہ محض ماس شوٹنگ یا نفسیاتی پاگل پن کا شاخسانہ لگتا ہے لیکن اندر کے حقائق انتہائی بھیانک اور خوفناک ہیں ۔ مغربی اور یورپی میڈیا دہشت گرد کو چاہے کتنا ہی مظلوم اور بیمارکیوں نہ ظاہر کرے لیکن مغربی ٹھیکیداروں کا دہشت اور مینٹل النس (mental illness)کا لٹمس ٹیسٹ پاس کرکے ذہنی مریض کا درجہ پانے والے انسان نما اس حیوان کامعاملہ ہی کچھ اور ہے۔

برینٹن کا تعلق آسٹریلیا سے ہے۔اس کا باپ روڈنی ٹیرنٹ (Rodney Tarrant)کینسر کے مرض کا شکا ر ہونے کے بعد دوہزار دس میں انتقال کرگیاتھا۔ برینٹن پڑھنے لکھنے میں زیادہ دلچسپی نہیں رکھتا تھا جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ وہ اپنی ابتدائی تعلیم یعنی اسکولنگ مکمل ہونے کے فورا بعد سےنیوزی لینڈمیں واقع گریفٹن کے شمالی شہر نیو ساوتھ ویلز کے ایک جِم (Gym)میں فٹنس ٹرینر کے طور پر کام کرنے لگا ۔ وہ زیادہ تر خواتین کی جسمانی تربیت اور فٹنس کا اہتما م کرتا تھااور کئی لڑکیوں کے ساتھ اس کے والہانہ تعلقات تھے۔ بگ ریور(Big River) نامی جس فٹنس جم میں برینٹن کام کرتا تھا وہاں ہر طرح کی کمیونٹی کے لوگ خصوصا خواتین ٹریننگ کے لئے جاتی تھیں۔ مختلف مغربی چینلز نے برینٹن کے قریب ترین جن دوستوں سے بات کرکے ملزم کے لئے ہمدردانہ سوچ اجاگرکرنے کی کوشش کی ہے وہ تمام کے تما م یا تو عیسائی کمیونٹی کے ہیں یا وہ ہیں جنہیں برینٹن ’وائٹ فیملی‘ کا لقب دیتا تھا۔ برینٹن کا تعلق معاشی طور پر کمزور ترین گھرانے سے تھا اس لئے اسے پیسہ جمع کرنے کا بہت شوق تھا۔ اسی پیسہ جمع کرنے کے شوق میں برینٹن نے مشرقی ایشیا ء ، جنوب مشرقی ایشیا ، شمالی کوریا اور دیگر ممالک کے سیاحتی دورے بھی کئے ۔ برینٹن کے سفید فام دوست اسے ڈیسنٹ اور سلجھا ہوا ٹرینر مانتے ہیں ۔

لیکن جو برینٹن کی کمیونٹی سے باہر کے لوگ تھے انہیں اس بگڑے ہوئے آسٹریلوی نوجوان کی اصلیت کا پتہ تھا ۔ جب یہ واقعہ ہوا ہے تو اس کے ٹھیک تین گھنٹے بعد ناچیز نےبرینٹن کے اسکول کے دوستوں سے بذریعہ سماجی رابطے کی ویب سائیٹ بات چیت شروع کی ۔ نام نہ بتانے کی شرط پر انہوں نے مجھے برینٹن کی ایک پرانی دوست کی آئی ڈی اور رابطے کی تفصیلات شئیر کیں ۔ اس لڑکی کا تعلق تیسری دنیا کے ممالک میں سے ایک ملک سے ہے۔ برینٹن کے دوستوں سے ملنے والی ابتدائی اطلاعات کے مطابق مذکورہ لڑکی لادین تھی اور کام کی غرض سے نیو ساوتھ ویلز سٹی کے ایک کیفے میں ملازم تھی، دوسال قبل اُس کی برینٹن سے لڑائی اس وقت شدت اختیار کر گئی تھی جب برینٹن نے اُس لڑکی کے دیگر مسلمان دوستوں کو کیفے میں جاکر برا بھلا کہا اور جان سے مارنے کی دھمکی دی۔ جس مذکورہ لڑکی کا ذکر یہاں کیا جا رہا ہے اس کے مطابق برینٹن عیسائیت کا کٹر پیروکار اور اسلام کا شدید مخالف تھا۔ اس کے منہ سے ہر وقت مسلمانوں کے خلاف بات نکلتی تھی۔ مذکورہ لڑکی کے مطابق برینٹن کے صرف تین شوق تھے ۔ اچھی لڑکیوں سے دوستی کرنا ، معروف گیم کاونٹر اسٹرائیک(Counter Strike) کھیلنا اور مسلمانوں کے خلاف مغلظات بکنا ۔ وہ اکثر غسل خانے میں چارلس مارٹل مائی لو ( Charles Martel my Love ) اور اینٹون لیوڈن دی گریٹ ( Anton Ludin the great )جیسے نام لے کر گنگناتا اور قہقہے لگاتا تھا ۔

مذکورہ لڑکی کے مطابق یہ برینٹن کی معمول کی عادت تھی ، اسے یہ دونوں نام بہت پسند تھے ۔ معاشی معاملات پر بات کرتے ہوئے وہ اکثر کہتا تھا کہ جتنا پیسہ یہودیوں اور گوروں کے پاس ہے ۔ مسلمانوں کے پاس ہو ہی نہیں سکتا ۔ برینٹن کے مطابق دنیا کے وسائل کے زیادہ تر حصے پر مسلمان قابض ہیں اور یہ سب ان کی عسکریت پسندی کی وجہ سے انہیں ملا ہے۔ جبکہ مذکورہ لڑکی کے مطابق اس کا یہ بھی ماننا تھا کہ مسلمانوں کے پاس موجود وسائل پر عیسائیوں اور یہودیوں کا حق ہے ۔ مزکورہ لڑکی سے بات کے دوران جو چیز زیادہ تشویش ناک لگی ۔ اس کا تعلق مسجد میں ہونیوالے اس ہولناک حملے سے تھا ۔ وہ یہ کہ برینٹن اکثر کاونٹر اسٹرائیک ویڈیو گیم کھیلتے ہوئے یہ بات بار بار دہراتا تھا کہ میں چاہتا ہوں کہ مسلمانوں کو اسی طرح بھون ڈالوں جیسے کاونٹر اسٹرائیک والا بندوق بردار مارتاہے (i wanna kill muslims the way gunman kills in the Counter Strike) کاونٹر اسٹرائیک گیم سے رغبت والے معاملے کی تصدیق کے لئے ناچیز نے برینٹن کے دیگر دوستوں سے تصدیق چاہی تو جواب یہی ملا کہ وہ کاونٹر اسٹرائیک کا دیوانہ تھا اور اکثر جوائے اسٹک پر ان کے ساتھ یہ ویڈیو گیم کھیلتا تھا، مذکورہ لڑکی کے مطابق اسے اندازہ تھا کہ برینٹن پیسے کے لئے ایسا کوئی بھی ایڈونچرکر سکتا ہے ۔

اور کرائسٹ چرچ حملے میں ٹی وی میں اس کی تصاویر دیکھ کر اسے کوئی حیرت نہیں ہو ئی ۔ برینٹین کی دیرینہ سابقہ دوست نے یہ بھی انکشاف کیا کہ برینٹن اکیلا ایسا نہیں کر سکتا تھا اس کی باقاعدہ تربیت ہوئی ہوگی اور معاملے میں بین الاقومی عناصر کے ملوث ہونے کو خارج از امکان قرار نہیں دیا جا سکتا, لڑکی کے مطابق برینٹن سے یہ کاونٹر اسٹرائیک ممکنہ مشن کے طور پر کرائی گئی ہے, ملزم کی سابقہ دوست سے ایسی اہم معلومات ملنے کے بعداتنے بڑے اور منصوبہ بندی کے تحت کئے گئے حملے کی گتھی سلجھانا زیادہ مشکل کام نہیں ہے۔ اتنا منظم حملہ کسی نفسیاتی مرض میں مبتلا شخص یا کوئی دیوانہ کر ہی نہیں سکتا ۔ یہ ایک شخص کے اندر کا غصہ اور نفرت ہے جسے منصوبہ بندی کے تحت استعمال کیا گیا ہے۔بندوق پر ہر جگہ کچھ نہ کچھ تحریر تھا اور برینٹن کو معلوم تھا کہ اس کی ویڈیو بن رہی ہے، براڈکاسٹ بھی ہو رہی ہے اور یہ منظر عام پر بھی آئے گا ۔ بندوق پر تحریر ناموں میں سے دو کے ساتھ والہانہ رغبت کی تصدیق برینٹن کی پرانی دوست نے کردی ہے جب کہ باقی نام بھی مسلمانوں کے قتل عام کے لئے جانے جاتے ہیں ۔ اینٹون لیوڈن پیٹرسن سویڈن کے مہاجر طالبعلموں کو قتل کرنے کی وجہ سے مشہور ہے جبکہ چارلس مارٹل اس فرنگی فوجی سپہ سالار کانام ہے

جس نے معرکہ بلادالشہدا ء میں مسلمانوں کو شکست دی تھی، اس معرکے میں اسپین میں قائم خلافت بنو امیہ کو فرنگیوں کے ہاتھوں شکست ہوئی تھی ۔ بندوق پرباقی جتنے نام یا نمبرز تحریر تھے ان سب کا تعلق کہیں نہ کہیں سے مسلمانوں کے خلاف بغاوت یا قتل عام سے جا ملتا ہے۔ ان سب کا تذکرہ یہاں کیا جائے تو کتاب تحریر ہوجائے ۔ قصہ مختصر یہ کسی ایک شخص کی کاروائی نہیں ہے ۔ مبینہ مشن کاونٹر اسٹرائیک ایک دن میں تیار کیا گیا منصوبہ ہو ہی نہیں سکتا۔ صاف لگ رہا ہے کہ بین الاقوامی ایجنسیوں نے برینٹن کو انتہائی بری طرح استعمال کیا ہے ۔ اور اب انتہائی معصومانہ طریقے سے اسے ذہنی مریض یا نفسیاتی ڈکلئیر کر کے کلین چٹ دینے کی کوشش بھی کی جارہی ہے۔ حملے کے بعد امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا یہ ٹویٹ کہ ریاست ہائے متحدہ امریکہ نیوزی لینڈ والوں کے ساتھ کھڑی ہے ۔ اس بات کی غمازی کرتا ہے کہ دجالی قوتوں کی بین الاقوامی جنگ کا نشانہ صرف مسلمان ہی ہیں ۔ جبکہ آسٹریلیا کے Senator کی جانب سے جاری پریس ریلیز میں مسلمانوں کے خلاف نفرت کی ایک وجہ نیوزی لینڈ میں مسلمانوں کی بڑھتی ہوئی تعدادبتایا جانا انتہائی شرمناک اور کھلے عام جنگ کا اعلان ہے ۔ ایسا لگ رہا ہے جیسے دنیا کی بڑی طاقتیں مسلمانوں کے خلاف اس نفرت انگیز حملے کو سپورٹ کر رہی ہیں ۔

سماجی رابطے کی ویب سائیٹ پر لائیو اسٹریمنگ کے نیچے درج کمنٹس کو پڑھیں تو دل دہل جائیں ۔ اکثر برینٹن کو تمغہ دینے پر تلے ہوئے تھے ۔اور یہ وہ لوگ ہیں جو انسانیت کا پرچار کرتے تھکتے نہیں ہیں۔ حیرت ہے کہ ایک درندہ جو کاونٹر اسٹرئیک مشن میں ایک دفعہ مار دئیے گئے لوگوں پر پھر تاک تاک کے گولیاں برساتا ہے اس کی درندگی پر کسی کی غیرت نہیں جاگتی۔ برینٹن اور اس کی حامی قوتوں کا مشن کاونٹر اسٹرئیک تمام ہوا۔ مسلمانوں کے زخموں پر نمک پاشی کرنے کے بعد اُسے عالمی میڈیا کی توجہ چاہیے تھی ، وہ بھی مل گئی لیکن برینٹن اور اس کی مبینہ تربیت میں شامل ایجینسیوں کو شاید علم نہیں کہ چاہے گیم سے متاثر ہو کر اسٹرائیک کی جائے یا ایجنسیوں کی ایما پر ، ہر اسٹرائیک کا جواب کاونٹر اسٹرائیک سے آتا ہے اور مسلمانوں کی جوابی کاونٹر اسٹرائیک کے ممکنہ وار کی شدت کا انہیں اندازہ نہیں۔ امن پسند امت کے لئے ایسے حالات پہلے بھی تھے لیکن اب حالات کی سنگینی اور بھی بڑھ چکی ہے۔اللہ کرے کہ مسلمان صبر کا دامن تھامے رہیں ۔ رب ذوالجلال اپنے پیارے حبیب ﷺ کے صدقے دنیا بھر کے مسلمانوں کی حفاظت فرمائے اور جو حالت نماز میں شہید ہوئے ان کے درجات بلند فرمائے ۔ آمین

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

Leave a Reply