60

کرائسٹ چرچ حملے میں ہلاک ہونے والے سہیل شاہد کی والدہ غم سے نڈھال: ’پانچ دن ہو گئے ہیں میرے بیٹے کا فون نہیں آیا’

’ایک دن بھی ایسا نہیں ہوتا تھا جب میرا بچہ میرے ساتھ فون پر بات نہیں کرتا تھا۔ ایک دن بھی ناغہ نہیں کرتا تھا۔ صبح دس، گیارہ بجے فون آجاتا تھا۔ اب پانچ دن ہو گئے ہیں میرے بیٹے کا فون نہیں آیا۔’ یہ کہنا ہے کرائسٹ چرچ میں مساجد پر ہونے والے حملوں کے نتیجے میں ہلاک ہونے والے سہیل شاہد کی والدہ کا جو اپنے بیٹے کی موت کی خبر سن کر غم سے نڈھال ہیں اور بات بے بات اس کو یاد کرتی ہیں۔ پاکستان کے صوبہ پنجاب کے شہر لاہور سے تعلق رکھنے والے سہیل شاہد دو برس قبل ہی بہتر مستقبل اور اچھے روزگار کے لیے نیوزی لینڈ منتقل ہوئے تھے۔

سہیل نے سنہ 2008 میں پنجاب یونیورسٹی سے کیمیکل انجینئرنگ کی ڈگری حاصل کی اور چند برس ملک میں نوکری کرنے کے بعد وہ سنہ 2017 میں نیوزی لینڈ چلے گئے۔ وہاں وہ ایک مقامی کمپنی میں پروڈکشن منیجر کے طور پر کام کر رہے تھے۔ چند برس قبل ان کی شادی ہوئی اور انھوں نے سوگواران میں بیوی اور دو بیٹیاں چھوڑی ہیں جن میں سب سے چھوٹی بیٹی کی عمر دو سال ہے۔ ان کے بھائی نبیل شاہد کا کہنا ہے کہ سہیل شاید کرائسٹ چرچ مسجد حملے میں ہلاک ہونے والے پہلے لوگوں میں سے تھے۔ ان کی ہلاکت سے قبل اُن کی اپنی والدہ سے بات ہوئی اور انہوں نے بتایا کہ وہ اپنا پاسپورٹ ساتھ رکھیں گے اور ٹکٹیں خرید لیں گے تاکہ جلد ہی ان سے ملنے لاہور آ سکیں۔ سہیل شاہد کی والدہ کہتی ہیں کہ اس حملے میں ہلاک ہونے والے لوگ معصوم تھے۔ ’نیوزی لینڈ ان کا ملک نہیں تھا، وہ وہاں صرف روزگار کی تلاش میں گئے تھے۔‘’ہلاکت کی خبر والدہ سے 36 گھنٹے چھپائی‘ سہیل کے بھائی نبیل شاہد نے واقعے کے بعد چھتیس گھنٹے تک یہ خبر اپنی والدہ سے اس انتظار میں چھپائے رکھی کہ شاید یہ غلط ہو۔ نبیل کا کہنا تھا کہ ’میں نے کم از کم چھتیس گھنٹے تک اپنی والدہ کو نہیں بتایا۔ 36 گھنٹے انتظار کرتا رہا،

میں سارا دن یہاں گلیوں میں اپنا فون لے کر بیٹھا رہا کہ انہیں پتہ نہ چلے، ہو سکتا ہے اچھی خبر آ جائے، کسی نے اٹھا لیا ہو، یا اس (مبینہ دہشت گرد) کو ترس آ گیا ہو تھوڑا سا۔’ غم سے نڈھال سہیل شاہد کی والدہ اپنے بیٹے کو بات بے بات یاد کرتی ہیں۔ خاندان کے افراد نے ان کے بیٹے کی ہلاکت کی خبر ان سے 36 گھنٹے تک چھپائی
وہ کہتے ہیں کہ سہیل شاہد مسجد میں اپنے دوست کے ہمراہ تھے۔’تقریباً ایک بج کر بیالیس منٹ پر دہشت گرد اندر آیا۔ اس کے آنے سے پہلے سہیل بھائی داخل ہو گئے تھے۔ وہاں داخل ہوتے وقت بھی انھوں نے اپنے دوست کو پاکستان جانے کے بارے میں بتایا۔ وہ اس قدر پرجوش تھے۔ دوست وضو خانے میں وضو کر رہا تھا۔ سہیل صاحب پہلے ہی وضو کر کے اندر جا چکے تھے۔ انھوں نے اندر جا کر نماز کے لیے نیت باندھی تو اتنی دیر میں اس نے فائرنگ شروع کر دی۔ مجھے یقین تو نہیں، مگر میرے خیال میں شاید وہی پہلے شخص تھے جن کو سب سے پہلے گولی لگی۔’ نبیل کی شادی چند برس قبل ہوئی تھی اور انھوں نے سوگواران میں بیوی اور دو بیٹیاں چھوڑی ہیں جن میں سب سے چھوٹی بیٹی کی عمر دو سال ہے۔
انصاف کی امید ‘جس طرح ان کی وزیر اعظم ہیں، میں ان کا بہت شکر گزار ہوں جس طرح وہ فیملی سمجھ کر فرداً فرداً مل رہی ہیں۔ تو مجھے سو فیصد یقین ہے اور میں سب کو یقین دلاتا ہوں کہ انشا اللہ انصاف ہو گا۔’

ان کی والدہ کہتی ہیں کہ وہ اپنے دیگر بیٹوں کے ہمراہ رواں ہفتے نیوزی لینڈ جائیں گی جہاں سہیل شاہد کی تدفین کی جائے گی۔ لیکن انھوں نے نیوزی لینڈ کی حکومت سے بھی مطالبہ کیا ہے کہ سہیل شاہد کی کمسن بچیوں اور بیوہ کی مدد اور کفالت کی جائے اور انھیں قانونی کارروائی کے بعد اپنی پوتیوں کے ساتھ رہنے کے لیے ویزے کی فراہمی یقینی بنائی جائے۔ ‘میں یہ کہنا چاہوں گی کہ ان کا خیال رکھیں ان کے ساتھ تعاون کریں اور مجھے کچھ نہیں چاہیے۔ ظاہر ہے میرا بیٹا تو اب آئے گا نہیں۔ وہ تو چلا گیا۔’ واضح رہے کہ گذشتہ جمعے کو کرائسٹ چرچ کی دو مساجد پر ہونے والے حملے میں 50 افراد ہلاک جبکہ درجنوں زخمی ہوئے ہیں۔ اس واقعے میں 28 سالہ آسٹریلین شہری برینٹن ٹیرنٹ کو قتل کا مجرم قرار دیا جا رہا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

Leave a Reply