107

پاکستان ایک نظریہ! اپنی مٹی پر ہی چلنے کا سلیقہ سیکھو ۔۔۔ نگہت فرمان

کیا اس میں اب کوئی ابہام رہا ہے کہ اسلام، پاکستان کے حصول کی بنیاد بنا۔ وہ اسلام جس نے انسان کو نہ صرف دنیا میں عزت و وقار سے جینے کے گُر سکھائے بل کہ اسے نجات اخروی کا طریقہ بھی بتایا اور یہی نہیں جب اسلام کو اس کی اصل شکل و صورت میں ریاست مدینہ میں نافذ کیا گیا تو سارے عالم نے دیکھا کہ اصل فلاحی ریاست وہی تھی۔ ایسی ریاست جس کے ہر شہری کو بلا امتیاز رنگ و مذہب وہ تمام حقوق حاصل تھے جو کسی بھی مسلم شہری کے تھے۔ حقوق کے لحاظ سے ان میں کوئی امتیاز نہیں تھا۔

اسلام ہی کے نام پر اس وطن عزیز کے لیے لاکھوں لوگوں نے اپنی جان کے نذرانے پیش کیے اور در بہ دری اور خاک بہ سری کی اذیّت برداشت کرتے ہوئے ہجرت کی۔ ہم بہ بانگ دہل یہ کہتے ہیں کہ پاکستان اسلامی نظریے کی وجہ سے وجود میں آیا اور دنیا کے نقشے پر تسلیم کیا گیا۔ اسی لیے مملکت خداداد کا نام بھی اسی مناسبت سے اسلامی جمہوریہ پاکستان رکھا گیا۔ اس کے آئین میں یہ طے کردیا گیا تھا: ’’مسلمانوں کو انفرادی اور اجتماعی حلقۂ ہائے عمل میں اس قابل بنایا جائے گا کہ وہ اپنی زندگی کو اسلامی تعلیمات و مقتضیات کے مطابق، جس طرح قرآن پاک اور سنّت میں ان کا تعین کیا گیا ہے، ترتیب دے سکیں۔‘‘ لیکن جو نظریہ اس ملک کی بنیاد بنا عملا ابتداء ہی سے اس کے مطابق اس ملک کا نظام تشکیل نہ پاسکا۔ اس وقت کے دردمند اہل دانش و بصیرت زعماء نے یہ خدشہ ظاہر کیا تھا اور پھر بدقسمتی سے ہُوا بھی یہی کہ وطن عزیز کو کوئی ایسا اہل، دردمند، زیرک و دانا فرد میسر نہ آسکا جو اس پاک دھرتی کا تعلق اس کی بنیاد یعنی اسلام سے عملی طور پر جوڑتا۔ افسوس اس نظریے کے اثرات تواب ڈھونڈنے سے بھی نہیں ملتے۔ پاکستان جس نظریے کی بنیاد پر وجود میں آیا وہی اس کی بقا کا ضامن ہے، ورنہ اس خطے کا وجود ہی سوالیہ نشان ہے۔ ہم اپنے حالات دیکھ لیں تو ہمیں اندازہ ہوگا کہ اپنی بنیاد سے تعلق توڑ کر ہم نے کتنے گھاٹے اور خسران کا سودا کیا ہے۔ دین کو چھوڑ کر دنیا کی محبت و ہوس نے ہمیں کس مقام پر لا کھڑا کیا۔ خود کو روشن خیال ثابت کرنے کے لیے ہم کن پستیوں و ذلتوں کا شکار ہوگئے۔

اقبال عظیم نے اسی دردمندی سے کہا تھا:
اپنی مٹی پر ہی چلنے کا سلیقہ سیکھو
سنگِ مرمر پہ چلوگے تو پھسل جائو گے
ہم اگر صرف پھسلتے تب بھی غنیمت تھا اور ہمارے سنبھلنے کے امکانات تھے کہ ہم اپنے اصل سے رجوع کرلیتے، لیکن ہم تو نہ صرف پھسلے بل کہ تباہی و بربادی کی دلدل میں دھنستے چلے گئے اور اب افسوس ناک اور قابل ماتم ہے یہ بات کہ ہم ذلّت کی پاتال میں گر کر سسک رہے ہیں اور افسوس اس بات پر بھی کہ اب بھی ہم نادانوں کو اس ذلّت آمیز حالت سے نکلنے کا احساس تک نہیں۔ بدنصیبی ہی کہنا چاہیے کہ ہمیں اسلامی طرز معاشرت سے دور دور تک کوئی واسطہ اور سروکار نہیں، بل کہ صورت حال اتنی اندوہ ناک ہوگئی ہے کہ ہمیں کسی رشتے کسی قدر و تعلق کا احترام تک نہیں رہا۔ بھائی بھائی کا دشمن ہے، حلال حرام کا فرق ہم نے مٹا دیا ہے، اپنی نفسانی خواہشات کی تسکین کو جائز سمجھ کر بیٹی باپ کے سامنے نہ صرف کھڑی ہوگئی ہے بل کہ ہم سب ہی نے اپنی تمام حدود کو پار کرلیا ہے۔ اور سچ تو یہ ہے کہ ہم سب ہی حصہ بہ قدر جثہ اس عظیم ملک کی تباہی میں شریک ہیں۔ مغربی تہذیب کو اپناتے ہوئے ہمیں یہ یاد بھی نہیں رہا کہ شاعر مشرق، حکیم الامت علامہ اقبال نے تو مغرب کو مخاطب کرتے ہوئے کئی دھائیوں قبل ہی انہیں متنبہ کیا تھا : تمہاری تہذیب، اپنے خنجر سے آپ ہی خودکشی کرے گی
جو شاخ نازک پہ آشیانہ بنے گا، ناپائیدار ہوگا

اہل مغرب کی تو رہنے دیجیے، ہم تو اسلام کو چھوڑ کر اغیار کی تہذیب اپناتے ہوئے اجتماعی خودکشی کے مرتکب ہوئے، یہ صورت حال انتہائی غور و فکر طلب اور تشویش ناک ہے۔ کوئی بھی عمارت اس وقت تک پائیدار نہیں بنتی جب تک اس کی بنیادیں مضبوط نہ ہوں۔ تبدیلی کے نعرے اور اعلانات تو ہم بچپن سے سنتے آرہے ہیں لیکن اس کی عملی صورت گری ہم سے کوسوں دور ہے۔ وقت تیزی سے گزر رہا ہے اور وہ تو کسی کے روکے کبھی نہیں رکا، ہم سمجھتے ہیں کہ ہم وقت کو ضایع کر رہے ہیں جب کہ حقیقت یہ ہے کہ وقت کی ناقدری نے ہمیں ضایع کیا ہے اور اب ہم فنا کی جانب تیزی سے پیش رفت کر رہے ہیں۔ وقتی کام یابی پر خوشیاں منانے کے بہ جائے اگر ہم سرسری سا بھی اپنا جائزہ لیں تو ہمیں دکھائی دے گا کہ اقوام عالم میں ہماری کوئی عزت اور کوئی اہمیت نہیں۔ کیا ہم اتنی سادہ سی بات بھی نہیں جانتے کہ غلامانہ ذہنیت و مرعوبیت دنیا میں کسی کو بھی عزت نہیں دلوا سکتی۔ موجودہ حکومت چوں کہ ریاست مدینہ کا نعرہ لگاتے ہوئے آئی ہے، گو کہ عملی اقدامات تو فی الحال خوش آئند نہیں لیکن دُور کہیں مبہم امید پیدا ضرور ہوئی ہے کہ شاید یہ قیادت پاکستان کو اس کی بنیادوں سے جوڑنے میں کام یاب ہوجائے اور ایسا نظام تشکیل کرنے میں کام یاب ہوجائے جو لا الہ اللہ سے مطابقت رکھتا اور ریاست مدینہ کا مکمل عکاس ہو۔

جہاں ہر انسان کو بلاامتیاز انسانی حقوق حاصل ہوں۔ جہاں وقت کے حکم ران کا دامن پکڑنے میں کسی سائل کو ذرا سا بھی خوف نہ ہو، جہاں ہر انسان عورت ہو یا مرد کو اس کے تمام حقوق ہوں۔ جہاں عورتوں کو شمع محفل اور کوئی پروڈکٹ سمجھنے کے بہ جائے اس کی تکریم کی جاتی ہو، جہاں عورتیں مطمعن ہوکر نئی نسل کی تربیت کرسکیں، جہاں کسی کو بھی یہ فکر نہ ہو کہ وہ کھائے گا کہاں سے۔ ایسی فلاحی ریاست جہاں خواتین کو کوئی بھی طالع آزما اور بیرونی چندہ خور انجمنیں اپنے مکروہ منصوبے کو عملی جامہ پہنانے کے لیے حقوق نسواں کے نام نہاد نعرے کے تحت سڑکوں پر لاسکیں۔ ایسی ریاست جو بلا تفریق مرد و زن سب ہی کے حقوق کا تحفظ کرے اور سب کو ملکی ترقی میں شامل کرتے ہوئے اس وطن عزیز کو عروج کی جانب گام زن کرسکے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

Leave a Reply