57

شاعری احساسات، جزبات تخیلات کی ترجمان ہے -ذوالقرنین احمد

عالمی یوم شاعری ہر سال 21 مارچ کو منایا جاتا ہے۔1999ء میں یونیسکو کی جانب سے اس دن کو مختص کیا گیا جس کا مقصد پوری دنیا میں شاعری کے متعلق پڑھنے، پڑھانے اس کو چھاپنے اور شاعری کے متعلق آگاہی دینے کا ہے۔
انسان نے اپنی سوچ و خیالات اپنے ساتھ ہونے والے واقعات یا کسی حادثے کو مصوری ، مضمون نگاری، جیسے مختلف فن کے زریعے قید کر لیتا ہے اسی طرح شاعری بھی ایک فن ہے جس کے زریعے انسان اپنے احساساتء جزبات، خیالات، حادثات، یہ کسی خاص شخص کی محبت میں اپنے محبوب کے عشق میں مبتلا ہو نے پر اس کی زبان سے بے ساختہ نکل پڑتے ہیں یا پھر محو خیال یار میں گم ہوکر لفظوں کو جوڑ کر معشوق کے یاد میں تخیلات کی دنیا میں کھو کر محبوب کے حسن کو بیان کرتا ہے شاعری بہت خوبصورت احساس ہے جتنا حساس انسان ہوتا ہے وہ شاعری کو اتنے ہی بہترین انداز میں لکھتا ہے، اپنی سوچ، جزبات ی احساس، تخیل کو اس انداز میں قرطاس کے حوالے کرنا کے قاری کو پڑھتے وقت محسوس ہو کہ یہ کس بنا پر لکھا گیا ہے کس تناظر میں لکھا گیا ہے، اور وہ اس کو پڑھ کر دل میں سکون محسوس کریں۔

شاعری صرف عاشقوں معشوقوں تک محدود نہیں ہے، یہ کافی بڑا میدان ہے جہاں بڑے بڑے شاعروں نے اپنی سوچ و فکر کو مختصر لفظوں میں قید کر کے انسانوں کو بہترین پیغام دیا ہے ۔کسی نے ماں کی ممتا پر کسی نے نسوانی حسن پر، کسی نے صنف نازک کی عصمت پر، کسی نے بادشاہ و قلندر پر، کسی نے غریب فقیر پر ، کسی نے علم و ادب پر، کسی نے حکمت پر ، کسی نے دل و دماغ پر ، کسی نے دنیوی زندگی میں پیش آنے والے عروج و زوال پر، کسی نے اپنے اقدار کو لوگوں میں منتقل کرنے پر، شاعری لکھیں اور آج بھی لکھی جارہی ہے، اسی شاعری کے زریعہ علامہ اقبال نے ملت اسلامیہ کو پیغام خودی اور مستقبل کے حوالے سے آگاہ کیا ، بہادر شاہ ظفر نے انسانوں کو فانی دنیا کی رنگینیوں میں ڈوب کر گمراہ ہونے سے آگاہ کیا، ایسے کئی شعراء نے قیامت تک آنے والے انسانیت کو اپنی شاعری کے زریعے سے مختلف پیغامات دیے، لیکن آج شاعری صرف عشق و محبت میں مقید ہوکر رہی گئی ہے بہت کم سخن ور حضرات ایسے ہے جو اس کے زریعے ایک اچھا پیغام پہنچانے کا کام کررہے ہے یکجہتی ، آپسی اتحاد اور منتشر ملت اسلامیہ کو اپنے ماضی کا سبق یاد دلاتی ہے اخوت و بھائی چارگی کا درس دیتی ہے

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

Leave a Reply