171

داستان ایمان فروشوں کی – قسط نمبر 6

نصف شب کے بعد سلطان صلاح الدین ایوبی اپنے خیمے میں داخل ھوا جو ناجی نے نصب کیا تھا اندر اس نے قالین بچھا دیئیے تھے پلنگ پر چیتے کی کهال کی مانند پلنگ پوش تھا فانوس جو رکھوایا تھا اسکی ھلکی نیلی روشنی صحرا کی شفاف چاندنی کی مانند تھی اور اندر کی فضا عطر بیز تھی خیمے کے اندر ریشمی پردے آویزاں تھے ناجی سلطان صلاح الدین ایوبی کے ساتھ خیمے میں اندر گیا اور کہا ” اسے ذرا سی دیر کے لیے بهیج دوں میں وعدہ خلافی سے بہت ڈرتا ہوں،،،،، ” بھیج دو ” سلطان صلاح الدین ایوبی نے کہا اور ناجی ھرن کی طرح چوکڑیاں بھرتا خیمے سے باہرگیا ، تھوڑا ھی وقت گذرا تھا کہ سلطان صلاح الدین ایوبی کے محافظوں نے ایک رقاصہ کو اسکے خیمے کی طرف آتے دیکھا ۔

خیمے کے ہرطرف مشعلیں روشن تھیں روشنی کا یہ انتظام علی بن سفیان نے کرایا تھا کہ رات کے وقت محافظ گردو پیش میں اچھی طرح سے دیکھ سکیں رقاصہ قریب آئی تو انہوں نے اسے پہچان لیا انہوں نے اسے رقص میں دیکھا تھا یہ وہی لڑکی تھی جو ٹوکرے میں سے نکلی تھی وہ زکوئی تھی وہ رقص کے لباس میں تھی یہ لباس توبہ شکن تھا ، محافظوں کے کمانڈروں نے اسے روک لیا زکوئی نے بتایا کہ اسے امیر مصر نے بلوایا ہے کمانڈر نے اسے بتایا کہ یہ ان امیروں میں سے نہیں کہ یہ تم جیسی فاحشہ لڑکیوں کے ساتھ راتیں گزارے ” آپ ان سے پوچھ لیں میں بن بلاے آنے کی جرات نہیں کر سکتی ” ” انکا بلاوا تم کو کس نے دیا ” کمانڈر نے پوچھا ” سالار ناجی نے کہا کہ تمہیں امیر مصر بلا رہے ہے آپ کہتے ہیں تو میں چلی جاتی ہوں امیر نے جواب طلبی کی تو تم خود بھگت لینا ” زکوئی نے کہا کمانڈر تسیلم نہیں کر سکتا تھا کہ امیر مصر نے ایک رقاصہ کو اپنے خیمے میں بلوایا ہے وہ ایوبی کے کردار سے واقف تھا وہ اسکے اس حکم سے بھی واقف تھا کہ ناچنے گانے والیوں سے تعلق رکھنے والے کو 100 درے بھی مار جائیں گے ، کمانڈر شش و پنج میں پڑ گیا ۔ سوچ سوچ کر اس نے ہمت کی اور سلطان صلاح الدین ایوبی کے خیمے میں اندر چلا گیا ایوبی اندر ٹہل رھا تھا کمانڈر نے ڈرتے ڈرتے کہا ” باہرایک رقاصہ کھڑی ہے کہتی ہے کہ حضور نے اسے بلوایا ہے ” اسے اندر بھیج دو” سلطان صلاح الدین ایوبی نے کہا ۔ کمانڈر باہرنکلا اور زکوئی کو اندر بھیج دیا ۔۔۔

سپاھیوں کو توقع تھی کہ ان کا امیر اور سالار اس لڑکی کو باہرنکال لیے گا وہ سب سلطان صلاح الدین ایوبی کی گرجدار آواز سننے کے لیے تیار تھے لیکن ایسا کچھ نہیں ھوا رات گزرتی جارہی تھی اندر سے دھیمی دھیمی باتوں کی آوازیں آرہی تھی ، محافظ دستے کا کمانڈر بے قراری کے انداز میں ٹہل رھا تو ایک سپاھی نے کہا” کیا یہ حکم صرف ھمارے لیے ہے کہ کسی فاحشہ کے ساتھ تعلق رکھنا جرم ہے ” ” ھاں حکم صرف ماتحتوں اور قانون صرف رعایا کے لیے ھوتا ہے ” کمانڈر نے کہا .. امیر مصر کو درے نہیں لگاے جاسکتے۔۔؟'” ” بادشاہوں کا کوئی کردار نہیں ھوتا سلطان صلاح الدین ایوبی شراب بھی پیتا ھوگا ھم پر جھوٹی پارسائی کا رعب جمایا جاتا ہے” کمانڈر نے کہا .. انکی نگاہوں میں صلاح الدین کا جو بت تھا وہ ٹوٹ گیا تھا اس بت میں سے ایک عربی شہزادہ نکلا جو عیاش تھا پارسائی کے پردے میں گناہ کا مرتکب ھو رھا تھا،، ناجی بہت خوش تھا، سلطان صلاح الدین ایوبی کی خوشنودی کے لیے اس نے شراب سونگی بھی نہیں تھی وہ اپنے خیمے میں بیٹھا مسرت سے جھوم رھا تھا اسکے سامنے اسکا نایب سالار اوروش بیٹھا ھوا تھا ” اسے گیے بہت وقت ھو گیا ہے معلوم ھوتا ہے ہمارا تیر سلطان صلاح الدین ایوبی کے دل میں اتر گیا ہے ” اوروش نے کہا۔۔۔۔” ہمارا تیر خطا کب گیا تھا اگر خطا جاتا بھی تو اب تک ھمارے آجاتا” ناجی ے قہقہ لگا کر کہا ‘ تم ٹھیک کہتے ہوں ۔ زکوئی انسان کے روپ میں ایک طلسم ہے .

معلوم ھوتا ہے یہ لڑکی حشیشن کے ساتھ رہ ہے ورنہ سلطان صلاح الدین ایوبی جیسا بت کبھی نہیں توڑ سکتی۔” اوروش نے کہا ” میں نے اسے جو سبق دیئیے تھے وہ حشیشن کےکبھی وھم و گمان میں بھی نہ آئے ھونگے اب سلطان صلاح الدین ایوبی کے حلق سے شراب اترانی باقی رہ گی ہے ” ناجی نے کہا ۔ ناجی کو باہرآھٹ سنائی دی ناجی نے دور سے سلطان صلاح الدین ایوبی کے خیمے کی طرف دیکھا ، پردے گرے ھوے تھے اور سپاھی کھڑے تھے اس نے اندر جا کر اوروش سے کہا” اب میں یقین کے ساتھ کہہ سکتا ہوں کہ میری زکوئی نے بت توڑ ڈالا ہے” رات کا آخری پہر تھا جب زکوئی سلطان صلاح الدین ایوبی کے خیمے سے باہرنکلی ناجی کے خیمے میں جانے کے بجاے وہ دوسری طرف چلی گی راستے میں ایک آدمی کھڑا تھا جو سر سے پاؤں تک ایک ھی لبادے میں چھپا ھوا تھا اس نے دھیمی سی آواز میں زکوئی کو پکارا وہ اس آدمی کے پاس چلی گی وہ اسکو خیمے میں لے گیا بہت دیر بعد وہ اس خیمے سے نکلی اور ناجی کے خیمے کا رخ کیا ناجی اس وقت تک جاگ رھا تھا اور کئی بار سلطان صلاح الدین ایوبی کے خیمے کی طرف باھ نکل کر دیکھ چکا تھا کہ زکوئی نے سلطان صلاح الدین ایوبی کو پھانس لیا ہے اور اسے آسمان کی بلندیوں سے گھسیٹ کر ناجی کی پست زھنیت میں لے آئیی ،،،” اوروش رات بہت ھوی ہے وہ ابھی تک واپس نہیں آئیی”

ناجی نے کہا ۔۔۔۔۔” وہ اب آئے گی بھی نہیں ، ایسے ھیرے کو کوئی شہزادہ واپس نہیں کرتا وہ اسے اپنے ساتھ لے جاے گا تم نے اس پر بھی غور کیا ہے۔۔؟” اوروش نے کہا ” نہیں میں نے اپنی چال کا یہ پہلو تو سوچا ھی نہیں تھا ” ناجی نے کہا … کیا یہ نہیں ھوسکتا کہ امیر مصر زکوئی کے ساتھ شادی کر لیں اس صورت میں لڑکی ھمارے کام کی نہیں رہے گی” اوروش نے کہا ۔” وہ ہے تو ھوشیار ۔۔۔ مگر رقاصہ کا کیا بھروسہ ،، وہ رقاصہ کی بیٹی ہے اور تجربہ کار بھی۔۔۔۔ دھوکہ بھی دے سکتی ہے۔۔” ناجی نے کہا ،،، وہ گہرئی سوچ میں تھا کہ زکوئی خیمے میں داخل ھوئی، اس نے ھنس کر کہا ” اپنے امیر مصر کا وزن کرو لاؤ اتنا سونا آپ نے میرا یہی انعام مقرر کیا تھا نا۔۔؟” ” پہلے بتاو ھوا کیا” ناجی نے بے قراری سے کہا ۔۔۔۔۔ ” جو آپ چاھتے تھے ۔۔ آپکو یہ کس نے بتایا کہ صلاح الدین پتھرہے فولاد ہے اور وہ مسلمانوں کے اللہ کا سایہ ہے ” اس نے زمین پر پاؤں کا ٹھڈا مارکر کہا ” وہ اس ریت سے زیادہ بے بس ہے جس کو ھوا کے جھونکے اڑاتے پھرتے ہے ” زکوئی نے کہا۔۔۔۔۔۔۔ ”
یہ تمھارے حسن کا جادو اور زبان کی طلسم نے اسے ریت بنایا ورنہ یہ کمبخت چٹان ہے” اوروش نے کہا۔۔۔۔۔۔۔۔۔”ھاں چٹان تھا لیکن اب ریتیلا ٹیلا بھی نہیں ” زکوئی نے کہا
” میرے متعلق کوئی بات ھوئی”؟ ناجی نے کہا ۔۔۔۔۔۔” ہاں پوچھ رہا تھا کہ ناجی کیسا انسان ہے میں نے کہا کہ مصر میں اگر آپکو کسی پربھروسہ کرنا چاھیے تو وہ ناجی ہے

اس نے کہا کہ تم کس طرح ناجی کو جانتی ھو میں نے کہا کہ وہ میرے باپ کے گہرے دوست ہے ہمارے گھرگیے تھے اور کہہ رہے تھے کہ میں سلطان صلاح الدین ایوبی کا غلام ہوں مجھے سمندر میں کودنے کا حکم دینگے تو میں کود جاونگا پھراس نے مجھ سے پوچھا کہ تم باعصمت لڑکی ہوں، میں نے کہا میں آپکی لونڈی ہوں آپکا ہرحکم سر آنکھوں پر ۔ کہنے لگا کہ کچھ دیر میرے پاس بیٹھو میں بیٹھ گی ، پھروہ اگر پتھرتھا تو موم بن گیا اور میں نے موم کو اپنے سانچے میں ڈال لیا ، اس سے رخصت ھونے لگی تو اس نے مجھ سے معافی مانگی ، کہنے لگا میں نے زندگی میں پہلا گناہ کیا ہے ، میں نے کہا یہ گناہ نہیں آپ نے میرے ساتھ کوئی دھوکہ نہیں کیا زبردستی نہیں کی مجھے بادشاہوں کی طرح حکم دے کر نہیں بلوایا، میں خود آئی تھی اور پھربھی آونگی۔” زکوئی نے ہربات کھل کر سنائی ۔۔ ناجی نے جوش مسرت سے اسے اپنے بازوؤں میں لیں لیا اوروش زکوئی کو خراج تحسین اور ناجی کو مبارک باد دے کر خیمے سے نکل گیا ۔ صحرا کی اس پراسرار رات کی کوکھ سے جس صبح نے جنم لیا وہ کسی بھی صحرائی صبح سے مختلف نہیں تھی مگر اس صبح کے اجالے نے اپنے تاریک سینے میں ایک راز چھپا لیا تھا جس کی قیمت اس سلطنت اسلامیہ جتنی تھی جس کے قیام اور استحکام کا خواب سلطان صلاح الدین ایوبی نے دیکھا اور اس کی تعبیر کا عزم لیکر جوان ھوا ، گزشتہ رات اس صحرا میں جو واقعہ ھوا اسکے 2 پہلو تھے ایک پہلو سے ناجی اور اوروش واقف تھے .

دوسرے سے سلطان صلاح الدین ایوبی کا محافظ دستہ واقف تھا اور سلطان صلاح الدین ایوبی اسکا سراغرس رساں اور جاسوس علی بن سفیان اور زکوئی تین ایسے افراد تھے جو اس واقعے کے دونوں پہلوں سے واقف تھے ، سلطان صلاح الدین ایوبی اور اسکے سٹاف کو ناجی نے نہایت ھی شان اور عزت کے ساتھ رخصت کیا ، سوڈانی فوج دو رویہ کھڑی ” سلطان صلاح الدین ایوبی زندباد” کے نعرے لگا رہی تھی، سلطان صلاح الدین ایوبی نے نعروں کے جواب میں ھاتھ لہرانے مسکرانے اور دیگر تکلفات کی پراہ نہیں کی ناجی سے ھاتھ ملایا اور اپنے گھوڑے کو ایڑی لگای اسکے پیچھے اپنے محافظ اور دیگرے سٹاف کو بھی اپنے گھوڑے دوڑانے پڑے
دوڑانے پڑے اپنے مرکزی دفتر پہنچ کر وہ علی بن سفیان اور اپنے نایب کو اندر لے گیا اور دروازہ بند کردیا وہ سارا دن کمرے میں بندے رہے سورج غروب ھوا تاریکی چھا گی کمرے کے اندر کھانا تو دور پانی بھی نہیں گیا ، رات خاصی گزر چکی تھی جب وہ تینوں کمرے سے نکلے اور اپنے اپنے گھروں کو روانہ ھوے علی بن سفیان ان سے الگ ھوا تو محافظ دوستوں کے ایک کمانڈر نے اسے روکا اور کہا۔۔۔ ” محترم ۔۔! ہمارا فرض ہے کہ حکم مانے اور زبانیں بند رکہیں لیکن میرے دستے میں ایک مایوسی پھیل گی ہے خود میں بھی اسکا شکار ھوا ہوں” ” کیسی مایوسی ” علی بن سفیان نے کہا ۔۔۔۔۔۔۔۔ کمانڈر نے کہا “محافظ کہتے ہیں کہ فوج کو اگر شراب پینے کی اجازت ہے تو ھمیں اس سے کیوں منع کیا گیا ہے .

اگر آپ میری شکایت کو گستاخی سمجہیں تو سزا دے دیں لیکن میری شکایت سنیں ھم اپنے امیر کو اللہ کا برگزیدہ انسان سمجھتے تھے اور اس پر دل و جان سے فدا تھے مگر رات،،،،،،”” مگر رات کو اسکے خیمے میں ایک رقاصہ گی” علی بن سفیان نے کمانڈر کی بات مکمل کرتے ھوے کہا ” تم نے کوئی گستاخی نہیں کی ، گناہ امیر کریں یا غلام سزا میں کوئی فرق نہیں ، گناہ بہرحال گناہ ہے میں یقین دلاتا ہوں آپکو کہ امیر مصر اور رقاصہ کے پچھلی رات کی ملاقات میں گناہ کا کوئی عنصر نہیں کوئی تعلق نہیں ،، یہ کیا تھا۔۔؟ ابھی میں تمکو نہیں بتاونگا آھستہ آھستہ وقت گزرتے ھوے تم سب کو پتہ چل جاے گا کہ رات کو کیا ھوا تھا ” علی بن سفیان نے کمانڈر کے کندھے پر ھاتھ رکھتے ھوے کہا میری بات غور سے سنو عامر بن صالح ۔ تم پرانے عسکری ہوں اچھی طرح جانتے ھو کہ فوج اور فوج کے سربراہوں کے کچھ راز ھوتے ہے جن کی حفاظت ھم سب کا فرض ہے رقاصہ کا امیر مصر کے خیمے میں جانا بھی ایک راز ہے اپنے جانبازوں کو شک میں نہ پڑنے دو اور کسی سے ذکر تک
نہ ھو کہ رات کو کیا ھوا تھا” علی بن سفیان نے کہا یہ کمانڈر پرانا تھا اور علی بن سفیان کی قابلیت سے آگاہ تھا سو اس نے اپنے دستے کے تمام شکوک رفو کیئیے

اگلے روز سلطان صلاح الدین ایوبی دوپہر کا کھانا کھا رہے تھے کہ سلطان صلاح الدین ایوبی کو اطلاع دی گی کہ ناجی آئے ہے ، سلطان صلاح الدین ایوبی کھانے سے فارغ ھوکر ناجی سے ملے ، ناجی کا چہرہ بتارھا تھا کہ غصہ میں ہے اور گھبرایا ھوا ہے اس نے ہکلاتے ھوے لہجے میں کہا۔۔۔۔۔۔۔۔۔
” قابل صدا احترام امیر مصر۔۔۔کیا یہ حکم آپ نے جاری کیا ہے کہ سوڈانی فوج کی پچاس ھزار نفری مصر کی اس فوج میں مدغم کردی جاے جو حال ھی میں تیار ھوئی ہے ” ” ھاں ناجی میں نے کل سارا دن اور رات کا کچھ حصہ صرف کر کہ اور بڑی گہری سوچ و بچار کے بعد یہ فیصلہ تحریر کیا ہے کہ جس فوج کے تم سالار ہوں اسے مصر کی فوج میں اس طرح مدغم کردیا جاے کہ ہردستے میں سوڈانیوں کی نفری صرف دس فیصد ھو اور تمہیں یہ حکم بھی مل چکا ھوگا کہ اب تم اس فوج کے سالار نہیں ھوگے تم فوج کے مرکزی دفتر میں آجاوگے ” سلطان صلاح الدین ایوبی نے تحمل سے جواب دیا،
” عالی مقام مجھے کس جرم کی سزا دی جارہی ہے” ناجی نے کہا
” اگر تمہیں یہ فیصلہ پسند نہیں تو فوج سے الگ ھو جاو” سلطان صلاح الدین ایوبی نے کہا
“معلوم ھوتا ہے میرے خلاف سازش کردی گی ہے آپ کو بلند دماغ اور گہری نظر سے چھان بین کرنی چاھیے مرکز میں میرے بہت سے دشمن ہیں” ناجی نے کہا
: ” میرے دوست میں نے یہ فیصلہ صرف اسلیئیے کیا کہ کہ میری انتظامیہ اور فوج سے سازشوں کا خطرہ همیشہ کے لیے نکل جاۓ اور میں نے یہ فیصلہ اسلیئیے کیا ہے کہ کسی کا عہدہ کتنا ھی کیوں نہ بلند ہوں اور کتنا ھی ادنیٰ کیوں نہ ہوں وہ شراب نہ پیئیے ھلڑ بازی نہ کریں اور فوجی جشنوں میں ناچ گانے نہ ہوں” صلاح الدین ایوبی نے کہا۔

” لیکن عالی جاہ۔۔۔ میں تو حضور سے اجازت لی تھی” ناجی نے کہا
” میں نے شراب اور ناچ گانے کی اجازت صرف اسلیئے دی تھی کہ اس فوج کی اصل حالت میں دیکھ سکوں جسے تم ملت اسلامیہ کا فوج کہتے ہوں ، میں پچاس ھزار نفری کو برطرف نہیں کرسکتا مصری فوج میں اس کو مدغم کر کہ اسکے کردار کو سدھار لونگا اور یہ بھی سن لو کہ ھم میں کوئی مصری سوڈانی شامی عجمی نہیں ہے ھم سب مسلمان ہے ہمارا جھنڈا ایک اور مذھب ایک ہے ” سلطان صلاح الدین ایوبی نے کہا
” امیر عالی مرتبت نے یہ تو سوچا ھوتا کہ میری کیا عزت رہ جاے گی” ناجی نے کہا
“جس کے تم اھل ہوں، اپنی ماضی پر ھی نظر ڈالو ضروری نہیں کہ اپنی کارستانیوں کی داستانیں مجھ سے ہی سنو فورا واپس جاو اور اپنی فوج کی نفری سامان جانور سامان خورد و نوش وغیرہ کے کاغزات تیار کر کہ میرے نایب کے حوالے کرو سات دن کے اندر اندر میرے حکم کی تعمیل ضروری ھونی چاھیے” سلطان صلاح الدین ایوبی نے کہا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ناجی نے کچھ کہنا چاہ لیکن سلطان صلاح الدین ایوبی ملاقات کے کمرے سے باہرنکل گیے
یہ بات ناجی کے خفیہ حرم میں پہنچ گی تھی کہ زکوئی کو شاہ مصر نے رات بہرشرف باریابی بخشا ہے، زکوئی کے خلاف حسد کی آگ پہلے ہی پھیلی ھوئی تھی، اسے آئے ابھی تھوڑا ھی عرصہ گذرا تھا لیکن آتے ہی ناجی نے اسکو اپنے پاس رکھا تھا ، اسے ذرا سی دیر کے لیے بھی اس حرم میں جانے نہیں دیتا جہاں ناجی کی دلچسپ ناچنے والی لڑکیاں رھتی تھیں زکوئی کو اس نے الگ کمرہ دیا تھا، انہیں یہ تو معلوم نہ تھا کہ ناجی زکوئی کو صلاح الدین کو موم کرنے کی ٹرینگ دے رھا ہے اور کس بڑے تخریبی منصوبے پر کام کر رھا ہے .

یہ رقاصایئیں بس یہی دیکھ کر جل بھن گی تھیں کہ زکوئی نے ناجی پر قبضہ کرلیا تھا،اور ناجی کے دل میں ان کے خلاف نفرت پیدا کردی ہے ، حرم کی دو لڑکیاں زکوئی کو ٹھکانے لگانے کا سوچ رہی تھیں، اب انہوں نے دیکھا کہ زکوئی کو امیر مصر نے بھی رات بھراپنے خیمے میں رکھا تو وہ پاگل ھو گئی، اسکو ٹھکانے لگانے کا واحد طریقہ قتل تھا، قتل کے دو ھی طریقے ھو سکتے تھے زہریا کراے کے قاتل۔ جو زکوئی کو سوتے ھوے ھی قتل کردیں، دونوں ھی طریقے ناممکن لگ رہے تھے کیونکہ زکوئی باہرنہیں نکلتی تھی اور اندر جانے تک اسکو رسائی کا کوئی زریعہ نہیں تھا، ان دونوں نے حرم کی سب سے زیادہ ھوشیار چالاک ملازمہ کو اعتماد میں لیا تھا ، اسے انعام و اکرام دیتی رھتی تھیں، جب حسد کی انتہا نے انکی آنکہوں میں خون اتار دیا تو انہوں نے اس ملازمہ کو منہ مانگا انعام دے کر اپنا مدعا بیان کیا ، یہ ملازمہ بڑی خرانٹ اور منجھی ھوئی عورت تھی، اس نے کہا کہ سالار کی رھایئیش گاہ میں جاکر زکوئی کو زہردینا مشکل نہیں، موقعہ محل دیکھ کر اسکو خنجر سے قتل کیا جاسکتا ہے اس کے لیے وقت چاھیے اس نے وعدہ کیا کہ وہ زکوئی کی نقل حرکت پر نظر رکہے گی ھوسکتا ہے کوئی موقعہ مل جاے ، اس جرائیم پیشہ عورت نے یہ بھی کہا کہ اگر موقعہ نہیں ملا تو حشیشن کی مدد لی جا سکتی ہے مگر وہ معاوضہ بہت زیادہ لیتے ہیں دونوں لڑکیوں نے اسکو یقین دلایا کہ وہ زیادہ سے زیادہ معاوضہ دے سکتی ہیں

————————– جاری ہے

پہلی قسط
دوسری قسط
تیسری قسط
چوتھی قسط
پانچویں قسط

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

Leave a Reply