152

جوڑوں کا درد اور انکی اقسام- سیدہ رابعہ

آجکل جوڑوں کی تکلیف عام ہے۔ جوڑوں کی تکلیف دو قسم کی ہوتی ہے۔ ایک تو گھٹنوں کے جوڑ وں کی تکلیف۔ اس تکلیف میں مبتلا لوگ گھٹنوں پر ہاتھ رکھ کر چلتے ہیں اور دور ہی سے پہچان لیئے جاتے ہیں ان سے جب ملو اور حال احوال پوچھو تو وہ گھٹنوں پر ہاتھ رکھ کر کراہیں گے اور بڑے ہی درد ناک انداز میں اپنی تکلیف بیان کریں گے۔

مگر مرزا کہتے ہیں کہ یہ تو کچھ نہیں ۔ دوسری جو بہت بڑی تکلیف ہے وہ جوڑوں کی تکلیف ہے۔ بہت سے جوڑوں کو وہ تکلیف میں دیکھتے ہیں۔ لیکن ان جوڑوں کی تکلیف کا علاج ان کے پاس نہیں۔ چلو بھئ کندھے کے جوڑوں میں درد ہو تو تھراپی کروا لی جائے۔ مگر ان جوڑوں کے معاملے میں وہ خود کو بے بس محسوس کرتے ہیں۔ قدوائ صاحب اور انکی بیگم کا جوڑ انہیں بہت بے جوڑ لگتا ہے۔ ہمارے متعلق ان کا خیال ہے کہ ایسا جوڑا تو صدیوں میں دیکھنے آتا ہے۔وہ ہمارے اس جوڑ کو نہایت شک کی نظرسے دیکھتے ہیں ۔فرماتے ہیں کہ یا تو ہمارے سسر کی نظر زیرو ہے یا پھر ان کی کوئ مجبوری ہوگی۔ کچھ جوڑوں کی تکلیف سے وہ ذاتی طور پر واقف ہیں۔ان جوڑوں کی تکلیف سے وہ اس قدر پریشان ہیں کہ ان کی راتوں کی نیندیں حرام ہو گئی ہیں۔ہم نے مرزا سے کہا کہ پہلے اپنے جوڑ کو سنبھالیں باقی اللہ خیر کرے گا۔مگر مرزا یہ سمجھتے ہیں کہ ہم بغض معاویہ میں کہہ رہے ہیں ورنہ انکا جوڑ تو آفاقی ہے۔ جوڑوں میں جوڑا محی الدین کا جوڑا۔ایک قطب شمالی تو دوسرا قطب جنوبی۔ محلے میں میں وہ شمال جنوب کے کوڈ سے جانے جاتے ہیں ۔ مرزا نے سوچا ہے کہ ایک خاص تھراپی کے ذریعے ان کو راہ راست پر لایا جائے۔

جوڑوں کی بہت سی قسمیں ہوتی ہیں۔ سیاسی جوڑوں کی تو بات ہی نہ پوچھیں ۔ ہم کئی سیاسی جوڑوں کو جانتے ہیں ان میں سے ایک سیاسی جوڑا پرویز الہی اور چودھری شجاعت حسین کا جوڑا ہے۔۔یہ جوڑا صرف سازشوں میں مبتلا رہتا ہے۔ اس جوڑے کو ٹی وی اسکرین پر دیکھ کر مرزا ہمیشہ لاحول پڑھتے ہیں اور ہم نے اس لاحول کا اثر ہوتے دیکھا ہے۔ بلاول اور شیخ رشید کا جوڑا۔ شیخ رشید کبھی تو بلاول کو بلو رانی کہتے ہیں اور کبھی برڈ یعنی پرندہ کہتے ہیں اور خود کو برڈ لوور کہتے ہیں۔ بعض لوگ اپنا جوڑ کبھی نہیں بنا پاتے۔ ہم کچھ نہیں کہیں گے ورنہ بہت سے لوگوں کو برا لگ جاے گا۔ ہم کیوں کسی کا نام لیں۔ عقل مند کو اشارہ کافی۔ جوڑوں کی مشہور قسم فلمی بھی ہے۔ ہمارے پاکستان میں محمد علی اور زیبا،شبنم اور ندیم ۔آخری وقت تک پیڑوں کے گرد گھوم گھوم کر نہ صرف خود کو بلکہ پوری قوم کو جوڑوں کے درد میں مبتلا کردیا۔ ہم تو ابھی تک اس درد کو سہہ رہے ہیں۔

ہوا یوں کہ دو تین دن قبل ہم اپنے پوتے کو واک پر لے گئے ۔ ایک خاتوں سے ملاقات ہوئی۔ پوتے کو پیار کیا اور کہنے لگیں۔ ماشاءاللہ بالکل محمد علی لگ رہا ہے۔ اس جملے نے ہمیں جوڑوں کے درد میں ایسا مبتلا کر دیا کہ پوتے کو واک پر لے جاتے ہوئے گھٹنوں کے جوڑے بول جاتے ہیں۔ جوڑوں میں رومانی جوڑے بھی ہوتے ہیں۔ دنیا میں ان رومانی جوڑوں سے بھری پڑی ہے۔ پرانے وقتوں میں ہیر رانجھا، سسی پنوں ،لیلی مجنوں، رومیو جولیٹ(ہمیں انگلش رومانوی جوڑوں کے صرف یہی نام آتے ہیں) مگر موجودہ زمانے میں ہم سمجھتے ہیں کہ ہمارے سوا اور کوئی رومانوی جوڑا نہیں۔ اگر آپ کسی اور جوڑے کو جانتے ہوں تو ہمیں بتا دیں جوڑوں کے متعلق ایک آفاقی کہاوت ہے کہ جوڑوں کو اللہ نے بنایا ہے۔ اس میں اختلاف کی گنجائش رکھنے والے دائرہ سے خارج ہیں۔ کون سے دائرے سے۔؟ ہم بہت ڈرپوک ہیں۔ نام بھی لینے سے کہیں ہمیں خارج نہ کر دیا جاے۔ اس لیئے ہم اس مسئلے کو یہیں چھوڑتے ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

Leave a Reply