86

استاد کا قتل .. سوال تو بنتا ہے – عبدالحق

آتا ہے یاد مجھ کو گزرا ہوا زمانا
وہ باغ کی بہاریں، وہ سب کا چہچہانا
آزادیاں کہاں وہ اب اپنے گھونسلے کی
اپنی خوشی سے آنا اپنی خوشی سے جانا
استاد کے اک طالبعلم کے ھاتھوں قتل کیبعد سوچنے کی بات یہ ھے ۔۔یہ نوبت آئی ہی کیوں…؟ ہم نے بھی کالج یونیورسٹیز میں طلبا کے انتہائی جوش و خروش والے دن دیکھیں ھیں ۔طلبا اپنی شکایت ،مسائل ھر اس استاد کے پاس لے جاتے جہاں سے تعلق ھوتا انھیں اس سے کوئی غرض نہیں کہ استاد کس سیاسی اور سماجی مکتب فکر سے ھے استاد استاد ھے والدین بلکہ اس سے بڑھ کر محترم ۔یہی کچھ اساتذہ کا طریقہ کار تھا تمام طلبہ کو یکساں سنتے اور فیصلے صادر کرتے قطع نظر طلبہ کس ونگ سے وابستہ ھیں اولاد کی طرح محبت شفقت ۔۔اساتذہ محترم تھے محفوظ تھے چاقو کا تصور تو درکنار ھاتھ آٹھانے کی کوئی جرات نہیں کر پاتا ۔۔

پروفیسر کا قتل ابھی پہلی سیڑھی پر ھے گویا ابھی تو میں نے داستاں شروع کی ھے ابھی اپنے سنا ھی کیا ھے۔بہت سوالات کے جوابات باقی ھیں… پہلی بات عینی شاہدین کون ھیں ۔۔ خط لکھ کر مقتول نے اپنی ناراضگی کا اظہا کیا تھا کیا اسنے کسی کو اسکا ذمہ دار قرار دیا.
پولس کسٹڈی میں ھونے والے کسی اقرار اور انکار پر مقدمہ کی بنیاد نہیں رکھی جاسکتی ۔۔پولس اگر آپکو لیجائے اپ بھی قتل کا اقرار کرتے پائے جائینگے اگر نہ بھی کیا ھو ،یہاں تو سب کچھ سامنے ھے ۔۔ عدالتی کاروائی کیساتھ ھی بات کھلے گی اور عدالتی کاروائی کی رفتار اسکا تعین کریگی ۔۔
ایک شخص جواسلامیات کا نہیں انگریزی لٹریچر کا طالبعلم ھو اور اک بات پر مشتعل ھوکر قتل جیسا سنگین جرم کر بیٹھے ۔۔اسے دین دار کہیں گے یا ذھنی مریض ۔۔مقتول دو سال سے زیادہ اس تعلیمی ادارہ سے وابستہ تھا یقیناً اسنے کالج کی کلاسیں خادم رضوی کی کلاسوں سے کہیں زیادہ لی ھونگی پھر اس پر کالج کے رنگ سے زیادہ اک دوبار سنے خادم رضوی کا رنگ کیوں غالب آگیا ۔بھاری بجٹ پر چلنے والے یہ کالج اور جدید تعلیم یافتہ اساتذہ میں وہ کون سی کمی ھے کیا دوری ھے اور وہ کیسے پوری ھوگی
عدالتی کاروائی کا انتظار کریں ۔۔یہ پاکستان ھے ۔۔اک نہیں کیئ لوگ اپنا اپنا کھیل رھے ھیں ۔۔تمام اسٹیک ھولڈرز کی نوکریاں ایسے واقعات سے جڑی ھیں. اگر بندہ خادم رضوی کا تھا تو خادم رضوی کو کس کی خدمت کے عوض لفافے ملے.

۔راتوں رات خادم رضوی کو ھیرو بنانے والا کون تھا ۔کیا سوال یہ ھے ۔کھیل شروع کیا ھے تو ختم کیسے کرنا ھے ؟ ۔۔

الطاف حسین ھوں یا خادم رضوی فصل بوئی ھے تو کاٹنا تو گی..ایسی کھیتیاں کوئی برگ و بار لانے سے تو رہیں مرجھانے کی صورت کیڑوں مکوڑوں اور جنگی جانوروں کا مسکن ھی بنیں گیں جو فصل روندنے اور تباہ کرنے کے کام تو آ سکتیں ھیں لالہ و گلُ تو بہرحال اگُنے سے رھے ۔۔
اب بھی وقت ھے طلبہ کے کام طلبہ کو کرنے دیں بدقسمتی سے اس ملک میں طلبہ تنظمیں ھیں بھی لیکن طلبہ کی درسگاہوں میں نہیں ۔جبکہ ان موجوں کا کام ھی دریا میں ھے بیرونِ دریا نہیں ۔۔طلبہ کی تعلیمی اور غیر تعلیمی سرگرمیاں ،استقبالیہ ، اختتامیہ اور دیگر فنکشنز انکے انتظام و انصرام ،مخالفت یا موافقت ،مکالمہ یا بحث طلبہ ھی کے مابین ھو استاتزہ گرامی راھنمائی نگہبانی اور مربّی کے فرائض انجام دیں ۔اساتذہ اپنی سیاسی مذھبی مسلکی وابستگی شئر نہ کریں نہ ھی اسکو فیصلہ کی بنیاد بنائیں ۔۔استاد اس امام کی مانند ھوتا ھے جو اس سے بے خبر ھوتا ھے مقتدی کا مسلک کیا ھے اور مختلف مسلک رکھنے کے باوجود سب امام کا احترام اور اسکی تکبیر کے پابند ھوتے ھیں ۔۔ماضی میں ایسا ھی ھوتا رھا حدود بھی قائم تھیں اور احترام بھی۔۔۔طلبہ تنظیموں کی بحالی کم ازکم اعلی تعلیمی اداروں میں اس قسم کے واقعات کا سدباب کرنے اور طلبا کی سرگرمیوں کے لئے تعلیمی ماحول پیدا کرنے میں معاون ثابت ھونگیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

Leave a Reply