84

غم سے بہل رہے ہیں آپ، آپ بہت عجیب ہیں – سمیرا امام

غم سے بہل رہے ہیں آپ
آپ بہت عجیب ہیں
کسی پروفیسر کی بیگم تھیں وہ ـ پرسکون چہرے کی مالک خاتون ‘ تسبیح کے دانے پھیرتی آنکھوں میں آئے آنسوؤں کو پینے کی کوشش میں اور بھی معصوم لگتیں ـ
کلاس کی فرنٹ رو میں بیٹھی تھیں ‘ عمر رسیدہ خاتون جن کے آگے کتابوں کا ڈھیر پڑا تھا ـ

مجھے حیرت ہوئی ‘ شاید اپنی بیٹی کے ساتھ آئی ہوں ـ
عموماً میں آدم بیزار ہوں ـ لیکن خاتون میں جانے کیسی کشش تھی جو اپنی جانب کھینچتی تھی ـ
میں اسائنمنٹ لکھنا چھوڑ کے ان کے قریب جا بیٹھی ـ
آنٹی! کیا پڑھ رہی ہیں تسبیح پہ؟ ؟
بیٹا کسی نے غم دور کرنے کی ایک دعا یاد کروائی ہے بس وہی پڑھتی رہتی ہوں ـ غم دور کرنے کی دعا؟
ہاں بیٹا جب پڑھتی ہوں تو دل کو سکون ملنے لگتا ہے ـ تمھیں بھی سکھاؤنگی پڑھا کرنا … جب جب دل میں غم آئے پڑھا لیا کرنا ـ
بائیس سال کی عمر میں آپ کو سمجھ نہیں آتی ” غم ” کی حقیقی تعریف کیا ہے ـ لیکن دعا جان لینے میں دلچسپی ضرور تھی ـ
آنٹی بتائیے کیا دعا ہے ؟ اللھم انی اعوذبک من الھم والحزن ……
دعا سن کے دل عجیب کیفیات کا شکار ہوگیا تھا ـ جانے اتنی خوبصورت خاتون کو کیا غم لاحق ہوگا ـ لیکن ایک انجان خاتون سے انتہائی ذاتی نوعیت کے سوالات بھی کیسے کیے جا سکتے تھے ـ ایک فقط اس ” غم ” کو جان لینے کے لیے میں نے ان سے متعدد سوالات پوچھے ـ یہ کتابیں کس کی ہیں ؟ کتابوں کو دیکھ کے انکی آنکھوں میں چمک در آئی ـ یہ کتابیں میری ہیں ـ میں عربی زبان کا کورس کر رہی ہوں ـ میں بہت پڑھی لکھی نہیں ہوں لیکن میرے میاں پی ایچ ڈی ہیں ـ پروفیسر ہیں آپکی ہونیورسٹی میں ـ اتنے پڑھے لکھے شخص نے مجھ سے شادی کی تھی ـ لیکن تب پڑھے لکھے نہیں تھے تعلیم شادی کے بعد مکمل کی ـ وہ ایک سانس میں بتاتی چلی گئیں ـ مجھے لگا اس تذکرے پہ انکے گلے میں آنسوؤں کا گولہ اٹک گیا ہے ـ بیٹا آپ بہت اچھی ہیں ـ آپکو عربی آتی ہے ؟
جی آنٹی آتی ہے ـ
مجھے پڑھاؤ گی؟ اپنی فری کلاس بتا دو میرا گھر پاس ہی ہے میں اس وقت آجایا کرونگی ـ مجھے آدھا گھنٹہ روز پڑھا دیا کرو ـ جی آنٹی ٹھیک ہے ـ
پھر ہم نے یونیورسٹی کے لان کا ایک کونہ منتخب کیا ـ ہر روز دوپہر تین بجے میں اور آنٹی وہاں بیٹھ کے دکھ سکھ بانٹتے اور میں انھیں عربی پڑھاتی ـ انکو روز جو سبق کلاس میں ملتا وہ مجھ سے سمجھ لیا کرتیں ـ وہ کہتیں کلاس میں سب جوان بچیاں ہیں انھیں جلدی سمجھ آجاتی ہے ـ مجھے دیر سے آتی ہے ـ میں سوال پوچھوں تو مجھے شرمندگی محسوس ہوتی ہے لیکن جب سے تم پڑھا رہی ہو اب میں روز سبق سناتی ہوں ـ مجھے لکھنا بھی آگیا ہے ـ

مجھے بھی خوشی ہوتی ـ لیکن آنٹی کی دکھ بھری آنکھوں کا راز تا حال اک راز تھا ـ وہ اس قدر پر سکون ‘ تحمل مزاج ‘ نفیس اور محبت کرنے والی خاتون تھیں کہ مجھ میں کبھی ہمت نہ ہوئی انھیں انکا غم یاد کروا کے دکھی کر دوں ـ لیکن “غم” کو جس ظرف سے وہ سنبھالے بیٹھی تھیں مجھے اس پہ رشک آتا ـ
ایک دن میں تین بجے لان میں پہنچی ـ دیکھا وہ بیٹھی خاموشی سے آنسو بہاتی جاتی تھیں ـ میری زبان ہمیشہ سوال پوچھتے ہوئے گنگ ہو جاتی ہے ـ تب بھی ہو گئی ـ
میں خاموشی سے انکے پاس بیٹھ گئی
وہ رو چکیں ـ مجھے دیکھا تو خوبصورت تبسم انکے چہرے پہ پھیل گئی ـ بیٹھو استاذہ ـ آنٹی مجھے استاذہ مت کہیں میں تو صرف آپکے پاس بیٹھنے کے لیے آپکو پڑھاتی ہوں ـ ہاں ہاں جانتی ہوں ـ تم میرا ” غم ” سننا چاہتی ہو ـ مجھے نہایت شرمندگی ہوئی ـ کیسے انھوں نے میرے دل کا راز جان لیا ـ

استاذہ ! میرے میاں نے پچھلے ماہ شادی کر لی تھی ـ بچوں کی اپنی دنیا ہے ـ مجھے لگتا میں بھری دنیا میں اکیلی ہوں ـ میرے والدین کا عرصہ ہوا انتقال ہو گیا ـ
میں ہر وقت غم میں ڈوبی رہتی ـ پھر کسی نے وہ دعا سکھا دی ـ اور پھر مجھے تم بھی مل گئی ـ
بس اللہ کو یاد کیا تھا تنہائی دور ہو گئی تھی ـ اب تو میں سبق پڑھتی ہوں بس جب تک زندہ ہوں پڑھائی کرونگی ـ وقت گزر ہی جائے گا ـ
پر سکون چہرے کے ساتھ وہ زندگی کے گولز سیٹ کر رہی تھیں ـ اور مجھے کسی اور خاتون کی یاد دلا گئیں ـ
………………………………

بڑی اماں! بابا نے شادی کی تو آپکو برا لگا تھا ـ
مجھے کیوں برا لگتا ـ
بڑی اماں لوگ کہتے ہیں سوکن کا دکھ بہت برا ہوتا ہے تو آپکو کیسے برا نہیں لگا؟ ارے لوگوں کی باتیں ہیں ایسا کچھ نہیں ہوتا ـ وہ ہمیشہ جھٹلاتیں کہ انھیں اس بات کی کوئی پروا نہیں ہے لیکن میں نے انکی آنکھوں کے گوشے ہمیشہ نم ہوتے دیکھے ہیں ـ بڑی اماں! آپکو میری اماں بری لگتی ہیں ؟
ہر گز نہیں! تمھاری اماں بہت اچھی ہیں مجھے تم جیسی بیٹی دی ہے ـ
میں نے تمام عمر انھیں ٹٹولتے گزاری کہ کبھی وہ کہہ دیں وہ دکھی ہیں انھیں ابا سوکن کا دکھ ” غم ” میں مبتلا رکھتا ہے ـ لیکن وہ کبھی نہیں مانیں ـ
اور اب یہ آنٹی ـ پر سکون چہرے کے ساتھ زندگی گزارنے کی ترکیب سمجھا رہی تھیں ـ
میں نے سوالات کی بوچھاڑ کر دی ـ یہ بڑی اماں کیوں بنیں. آنٹی! وہ خاتون بری لگتی ہیں ؟
نہ نہ بیٹا ـ وہ بہت اچھی خاتون ہیں ـ پی ایچ ڈی ہیں ـ میرے میاں کا جوڑ ہیں پھر وہ میرے ساتھ نہیں رہتیں الگ رہتی ہیں ـ جب بھی ملتی ہیں اچھے طریقے سے ملتی ہیں مجھے کیوں بری لگیں گی ـ

پھر کس بات کا غم ہوتا تھا ؟
وہی تنہا رہ جانے کا ـ لیکن اب تو وہ بھی نہ رہا ـ
میں آج بھی ان عظیم خواتین کو یاد کرتی ہوں ـ کیا واقعی آنسو پی لینا اور غم کو الگ شکل دے دینا آسان ہوتا ہے؟ ؟
یہ ابھی مجھے جاننے کی ضرورت ہے ـ

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

Leave a Reply