95

تمام یورپی رہنماؤں کو نیوزی لینڈ کی وزیراعظم سے بہادری، قیادت اور خلوص کا سبق لینا چاہیے، ایردوان

ترک صدر رجب طیب ایردوان نے اپنے ایک مضمون میں لکھا ہے کہ “بحیثیت لیڈر میں دہشتگردی کے ہونے واقعات پر مسلسل کہتا آیا ہوں کہ دہشت گردی کا کسی مذہب، زبان اور نسل سے کوئی تعلق نہیں ہوتا۔ آج بھی میں واضع طور پر ایسی کسی بھی کوشش کو مسترد کروں گا جو اس دہشتگرد کے عمل کو مسیحی تعلیمات، اخلاق اور اصولوں کے ساتھ نتھی کرے۔ یہ عمل صرف اور صرف جہالت اور نفرت کی پیدوار ہے”۔

انہوں نے مزید لکھا کہ “برینٹن تارنت نے اپنے عمل سے دنیا کی تاریخ اور مسیحی عقیدہ کو بگاڑنے کی کوشش کی ہے۔ اس نے انسانوں میں نفرت کے بیج پیدا کرنے کی کوشش کی ہے”۔ صدر رجب طیب ایردوان نے دہشتگرد کو داعش کے برابر قرار دیتے ہوئے مزید لکھا ہے کہ “ترک عوام کے لیے یہ پہلا موقع نہیں کہ انہوں نے اپنے آنکھوں کے ساتھ دہشتگردوں کے ہاتھوں تاریخ کو بگاڑتے دیکھا ہو۔ تاریخ کو شدت پسندانہ نظریات کی آنکھوں سے دیکھنا، خود ساختہ داعش جس دہشتگرد تنظیم نے ہزاروں مسلمانوں کو حال ہی شہید کیا اور “استنبول” کو دوبارہ فتح کرنے کا اعلان کیا وہی عزم ٓ یہ دہشتگرد بھی دوہرا رہا ہے کہ اس شہر کو دوبارہ مسیحی مرکز بنائیں گے”۔

انہوں نے کہا کہ ہمیں چاہیے کہ نیوزی لینڈ میں 50 مسلمانوں کو قتل کرنے والے دہشتگرد اور وہ دہشتگرد جنہوں نے ترکی، فرانس، انڈونیشیا اور باقی جگہوں پر دہشتگردی کرتے ہیں ان میں کوئی فرق نہ کریں۔ انہوں نے خصوصی طور پر مغربی دنیا پر زور دیا کہ وہ اپنے ملکوں میں بڑھتے ہوئے اسلامو فوبیا اور نسل پرستانہ نظریات کو ختم کرنے کے لیے اقدامات کریں۔ ہم ایسے واقعات کے دوبارہ ہونے کی اجازت نہیں دے سکتے۔
اس موقع ہر انہوں نے کہا کہ تمام یورپی رہنما، نیوزی لینڈ کی وزیر اعظم جیکینا ایردرن ست بہادری، قیادت اور خلوص سیکھیں کہ وہ اپنے ملکوں میں رہنے والے مسلمانوں کو کیسے گلے لگا سکتے ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

Leave a Reply