30

کہانی گھر گھر کی – سیدہ رابعہ

ہم جانتے ہیں ۔ ہر کوئی خود کو طرم خاں سمجھتا ہے۔ اور اپنی عقل لے کر ہماری طرف دوڑتا ہے ۔بھی اپنی عقل اپنے پاس رکھو ۔ اللہ نے ہمیں بھی اس چیز سے نوازا ہے۔ مگر لوگ باز نہیں آتے۔ہمیں مفت میں مشورے دیتے ہیں کل مرزا کہنے لگے تم جانتے ہو۔ دنیا کا سب سے بڑا بےوقوف جانور کون سا ہے ؟ ہم بے وقوفوں کی طرح ان کے منہ کو تاکنے لگے۔

کہنے لگے پوچھو گے نہیں کون سا جانور۔ ہم نے پوچھ لیا۔ کون سا؟ تم سے بڑا بے وقوف اس روئے زمین پر کوئی نہیں۔ ہماری ہی غلطی تھی جو ہم ہم نے پوچھ لیا۔ورنہ کیا بات کر نہیں آتی۔ ہم بھی تو کہہ سکتے تھے کہ مرزا آئینہ دیکھ لو۔ ہم کو جواب اس وقت سوجھتے ہیں جب بحث ہی ختم ہوجاتی ہے۔ مرزا کی قینچی کے آگے ہمارا نیل کٹر کیا چلے گا۔ مشورہ دینا ہمارا قومی فریضہ ہے۔اب تو گلی گلی مشورے کے دفتر (consulting academy)کھل گئے ہیں۔ اور اس مشورے کی بھاری فیس لی جاتی ہے۔ بچوں کی پیدائش سے لے کر ان کے مستقبل کا فیصلہ بھی بچے کے مشورے کے بغیر ماہرین مشورے کے مشورے سے کیا جاتا ہے. اور نتیجہ وہی نکلتا ہے جو ہمارا نکلا۔ قدوائی صاحب کے کیا کہنے۔ ہم اپنے گھر میں کچھ تبدیلی کروا رہے تھے ۔ انھیں ہماری کھڑکی کا رخ کچھ پسند نہیں آیا۔ نہ ہی کلر اسکیم۔دونوں چیزیں ان کے ذوق پر نہیں اترتیں۔ اب کیا کیا جاے۔ہم نے ان کی بات مان لی۔ تب سے ہماری بیگم کی خفگی چل رہی ہے۔ لوگ ہمارے گھر آتے ہیں تو ہماری پینٹنگ پر ایسا مشورہ دیتے ہیں کہ ہمارا دل چاہتا ہے کہ ان کی شاگردی اختیار کر لیں۔

فیس بک پر ایک اشتہار دیکھا۔ مفت مشورہ ۔اگر آپ کو اپنے دانت دکھانے ہیں تو انہیں دکھایئں ۔ بغیر تکلیف کے سارے دانت معہ جبڑے کے آپ کی میز پر رکھ دیئے جایئں گے۔ گھر پر ہی کھینچاتانی ہوگی۔ اور فیس بھی نہایت واجب۔ ہم نے نمبر نوٹ کر لیا ہے۔ مفت مشورہ ہم فورا قبول کر لیتے ہیں مفت میں جو بھی ہاتھ آجاے کیا برا ہے۔ سیاست تو مشورے کے بغیر نہیں چلتی۔وزیروں اور مشیروں کا ایک جمع غفیر ہوتا ہے جن کے مشوروں سے عوام کو لوٹنے کے نت نئے طریقے اور قانون وضع کیئے جاتے ہیں۔ان ہی وزیروں اور مشیروں کے مشورے سے ملک کی معیشت بگاڑی جاتی ہے۔ ہم کیا بتائیں۔شیخ رشید مشورے کے ایکسپرٹ خود کو سمجھتے ہیں۔ بلاول کو انہوں نے کتنی ہی بار مشورہ دیا کہ اپنے والد محترم کے چنگل سے نکلو ۔کیوں اپنی سیاسی چتا خود جلا رہے ہو انھوں نے بلاول کو وہ مشورہ دیا کہ وہ کہیں اور سنا کرے کوئی ۔ وہ بندہ ان کا مشورہ نہیں سنتا۔ خیر ہمیں کیا۔خود ہی بھگتے گا۔ ویسے یہ چودہری لوگ مشورہ دینے کے ایکسپرٹ سمجھے جاتے ہیں ۔ہماری بات کا یقین نہ آے تو سیاست کے چودھریوں کے بیانات پڑھ لیں . آپ خوب جانتے ہیں کہ مشورہ نہ لیا جاے تو ازدواجی زندگی اجیرن ہو جاتی ہے ۔

ہمارا تو یہ حال ہے کہ سالن تک مشورے کے بغیر نہیں بن سکتا۔ ہر روز وہ نیک بخت ایک ہی سوال کرتی ہے ۔آج کیا پکاوں؟ توہم کہہ دیتے ہیں جو آپکا دل چاہے ۔اور پھر انکا دل جو چاہتا ہے وہ سامنے آتا ہے تو دل یہی چاہتا ہے کہ کہ ان کے دل پر نہ چھوڑوں۔خیر یہ کہانی صرف ہماری نہیں۔گھر گھر کی کہانی یہی ہے۔ ہم نے ریٹائر منٹ لی۔لوگ مشورہ لیئے حاضر ہو گئے۔کسی نے مشورہ دیا کہ ہم کوچنگ سنٹر کھول لیں ۔کسی نے بوتیک کھولنے کا مشورہ دیا اب بتاو کہ ہم بتلاییں کیا ۔ بھئ اگر ہمیں کام کرنا ہی تھا تو وہی کام کیا برا تھا۔ریٹائرمنٹ کا مطلب ریٹائیر منٹ ہوتا ہے ۔آرام سے اپنی نیند سوئیں گے اور اپنی نیند جاگیں گے۔مگر ایسا کب ہوتا ہے۔لوگ تو ہم کو اپنے مشوروں سے نوازتے ہی رہیں گے . مشوروں سے نوازنے میں ہم بھی کسی سے کم نہیں۔جہاں دل چاہا۔جب دل چاہا ہم آپنے مشورے سمیت حاضر ہیں۔وزن بڑھ جائے تو ہم سے مشورہ لیں ۔ایسا نسخہ بتائیں گے کہ وزن بھی پریشان ہو جاے گا۔بال گر رہے ہوں تو ہمارے مشورے پر عمل کیجئے۔ نہ بانس رہے گا نہ بانسری۔ہم نے آپنے مشوروں سے کئی لوگوں کا بھلا کیا ہے ۔ آزمائش شرط ہے .

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

Leave a Reply