134

شب معراج جب حضور اکرم ﷺ آسمانوں پر تشریف لے گئے تو کیا واقعات پیش آئے ؟

معراج الٰہی کے بارے میں اس پر اتفاق رائے ہے کہ یہ ہجرت سے پہلے کا واقعہ ہے لیکن اس کی صحیح تاریخ اور مقام کے بارے میں روایات مختلف ہیں۔ ایک روایت کے مطابق یہ واقعہ ربیع الاول کے مہینے میں پیش آیا لیکن زیادہ مستند روایت یہ ہے کہ معراج 27 رجب کی شب ہوئی۔

اسی طرح اس مقام کے بارے میں بھی جہاں سے حضور اکرم ﷺسفر معراج پر روانہ ہوئے دو مختلف روایتیں ہیں۔ پہلی روایت یہ ہے کہ آپؐ کعبہ سے متصل شمال میں کھلی جگہ پر مصروف خواب تھے کہ معراج حاصل ہوئی۔ اور دوسری روایت یہ ہے کہ آنحضرتؐ اپنی عم زاد بہن ام ہانی کے گھر پر بیداری اور خواب کی درمیانی حالت میں تھے کہ گھر کی چھت شق ہوئی اور حضرت جبریل ؑ بعض دوسرے فرشتوں کے ہمراہ تشریف لائے اور آپؐ کو اٹھا کر لے گئے۔حضرت جبریل ؑ سب سے پہلے آپؐ کو چاہِ زم زم کے پاس لے گئے۔ سینہ مبارک کو چاک کیا اس میں سے قلبِ اطہر نکالا اسے زم زم کے پانی سے دھویا۔ پھر آپؐ کے قلب کو ایمان و حکمت سے بھر دیا اور دل دوبارہ اصل جگہ پر رکھ کر سینہ برابر کر دیا۔شقِ صدر کے اسی قسم کے واقعہ کی ایک روایت آپؐ کے بچپن کے بارے میں ملتی ہے لیکن ممتاز اور مستند علمائے اسلام کے ایک گروہ نے اس روایت کو قبول نہیں کیا ہے۔ اور یہ رائے ظاہر کی ہے کہ مستند روایات کے مطابق شقِ صدر کا واقعہ صرف ایک بار ہوا اور وہ معراج کے وقت ہوا۔

مفکر اسلام حضرت شاہ ولی اللہ محدث دہلویؒ نے لکھا ہے کہ سینہ مبارک چاک کرنا، دل کو نکالنا پھر اسے ایمان و حکمت سے بھر کے اصل جگہ پر رکھنا یہ سب تمثیلی انداز بیان ہے۔ حقیقت میں کیا ہوا؟ یہ نہ کہا جا سکتا ہے، نہ سمجھا جا سکتا ہے۔ تمثیلی پیرائے میں فقط یہ بتایا گیا ہے کہ حضور اکرم ﷺ کے قلب کو انوارِ الٰہیہ سے پُر کر دیا گیا تاکہ آپؐ میں اس سفر کے آئندہ مراحل اور مناظر کی استعداد پیدا ہو جائے۔
براق پر سواریشقِ صدر کے بعد جبریل ؑ نے حضور اکرم ﷺکی سواری کے لئے براق پیش کیا۔ بَرّاق، لفظ برق سے ماخوذ ہے۔ اس سواری کی رفتار بجلی کی مانند تیز تھی۔ اس لئے اسے براق کہا گیا۔ برق کی شرح رفتار ایک لاکھ چھیاسی ہزار میل فی سیکنڈ ہے اور روایات میں کہا گیا ہے کہ براق ایسی تیز رفتار سواری تھی کہ جہاں حدِ نظر ختم ہوتی تھی وہاں اس کا پہلا قدم پڑتا تھا۔انبیاء اور ملائکہ کی امامت حضور اکرم ﷺ براق پر سوار ہو کر بیت المقدس پہنچے اور اس مقام پر اترے جس کو آج کل ’’بابِ محمد‘‘ کہا جاتا ہے۔ آپؐ براق سے اتر کر مسجدِ اقصیٰ میں تشریف لے گئے۔ یہاں تمام انبیاء اور ملائکہ نے استقبال کیا اور پھر افضل الانبیاء کی امامت میں تمام انبیاء اور ملائکہ نے دو رکعت نماز ادا کی۔

بعض روایات میں ہے کہ حضور اکرمؐ نے سفر معراج سے واپس پر بیت المقدس میں انبیاء اور ملائکہ کو نماز پڑھائی۔ مسند احمد بن حنبل اور سیرت بن اسحاق کی روایت یہی ہے۔ بہرحال سفر معراج سے پہلے یا اس کے اختتام پر سرور کائناتؐ نے نماز پڑھائی۔ ۔زمین سے آسمان تک سفرحضور اکرم ﷺنے جبریل ؑ کی معیت میں زمین سے آسمان تک براق پر سفر کیا۔ بعض روایات میں ہے کہ براق کو تو آپؐ نے بیت المقدس ہی میں چھوڑ دیا اور آسمان سے ایک مرصع سیڑھی نمودار ہوئی تھی۔ آپؐ اس کے ذریعہ حضرت جبریل ؑ کے ساتھ آسمان پر گئے۔ اس زینے کے بارے میں جو روایات ہیں ان میں کہا گیا ہے کہ حضور اکرمؐ نے فرمایا’’وہ زینہ جس کے ذریعے بنی آدم کی روحیں بعدازمرگ چڑھتی ہیں اور اس زینے سے زیادہ خوبصورت کوئی چیز مخلوق کی نظر سے نہ گزری ہو گی اور میرے رفیقِ سفر جبریل ؑ نے مجھ کو اس پر چڑھایا یہاں تک کہ میں آسمان کے دروازے تک پہنچ گیا‘‘۔ فضا فرشتوں کی درود و سلام کی صداؤں سے گونج اٹھی اور آقائے نامدار حضرت محمد صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم درود و سلام کی گونج میں سفر معراج کا آغاز فرماتے ہیں۔

اس واقعہ کو قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ نے اس طرح بیان فرمایا ہے: سُبْحٰنَ الَّذِیْ اَسْرٰی بِعَبْدِهِ لَيْلاً مِّنَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ اِلَی الْمَسْجِدِ الْاَقْصَا الَّذِیْ بٰـرَکْنَا حَوْلَهُ لِنُرِيَهُ مِنْ اٰيٰـتِنَا. ’’وہ ذات (ہر نقص اور کمزوری سے) پاک ہے جو رات کے تھوڑے سے حصہ میں اپنے (محبوب اور مقرّب) بندے کو مسجدِ حرام سے (اس) مسجدِ اقصیٰ تک لے گئی جس کے گرد و نواح کو ہم نے بابرکت بنا دیا ہے تاکہ ہم اس (بندہِ کامل) کو اپنی نشانیاں دکھائیں‘‘۔(بنی اسرائيل،17: 1)
آپ صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم نہایت شان و شوکت سے ملائکہ کے جلوس میں مسجد حرام سے مسجد اقصیٰ کی طرف روانہ ہوتے ہیں۔ یہ گھڑی کس قدر دلنواز تھی کہ جب مکاں سے لامکاں تک نور ہی نور پھیلا ہوا تھا، سواری بھی نور تو سوار بھی نور، باراتی بھی نور تو دولہا بھی نور، میزبان بھی نور تو مہمان بھی نور، نوریوں کی یہ نوری بارات فلک بوس پہاڑیوں، بے آب و گیاہ ریگستانوں، گھنے جنگلوں، چٹیل میدانوں، سرسبز و شاداب وادیوں، پرخطر ویرانوں پر سے سفر کرتی ہوئی وادی بطحا میں پہنچی . جہاں کھجور کے بیشمار درخت ہیں۔

حضرت جبرائیل علیہ السلام عرض کرتے ہیں کہ حضور یہاں اتر کر دو رکعت نفل ادا کیجئے یہ آپ کی ہجرت گاہ مدینہ طیبہ ہے۔ نفل کی ادائیگی کے بعد پھر سفر شروع ہوتا ہے۔ راستے میں ایک سرخ ٹیلا آتا ہے جہاں حضرت موسیٰ علیہ السلام کی قبر ہے۔ حضور صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم ارشاد فرماتے ہیں کہ معراج کی رات میں سرخ ٹیلے سے گزرا تو میں نے دیکھا کہ وہاں موسیٰ علیہ السلام کی قبر ہے اور وہ اپنی قبر میں کھڑے ہوکر نماز پڑھ رہے ہیں۔ پھر دیکھتے ہی دیکھتے بیت المقدس بھی آگیا جہاں قدسیوں کا جم غفیر سلامی کے لئے موجود ہے۔ حوروغلماں خوش آمدید کہنے کے لئے اور تقریباً ایک لاکھ چوبیس ہزار انبیاء و مرسلین استقبال کے لئے بے چین و بے قرار کھڑے تھے۔ حضور صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم اس مقام پر تشریف فرماہوئے جسے باب محمد( صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم) کہا جاتا ہے۔ حضرت جبریل علیہ السلام ایک پتھر کے پاس آئے جو اس جگہ موجود تھا۔ حضرت جبرائیل علیہ السلام نے اس پتھر میں اپنی انگلی مار کر اس میں سوراخ کردیا اور براق کو اس میں باندھ دیا۔ (تفسير ابن کثير جلد3، ص7)

صحیح مسلم میں جو روایت ہے اس میں براق یا زینے کا کوئی ذکر نہیں صرف یہ ہے کہ ’’جبریل ؑ مجھ کو لے کر آسمان پر گئے‘‘۔آسمانوں کی سیرجب حضور اکرم ﷺپہلے آسمان پر پہنچے تو دیکھا ایک بزرگ دائیں جانب دیکھتے تو ہنستے، بائیں جانب دیکھتے تو روتے اور حضور اکرم ﷺکو دیکھ کر فرمایا’’مرحبا! مرحبا! اے فرزند صالح مرحبا! ‘‘ فرشتوں نے تعارف کرایا کہ یہ آدم علیہ السلام ہیں۔ ان کی دائیں جانب اہل جنت ہیں۔ بائیں طرف اہل دوزخ۔ پہلے آسمان پر حضور اکرم ﷺنے نہرِ کوثر بھی دیکھی جس کے کناروں پر جواہر کے محل بنے ہوئے تھے، اور جس کی مٹی مشک کی طرح خوشبودار تھی۔ یہ نہر کوثر اللہ نے آپؐ کے لئے مخصوص کر رکھی ہے۔ آپؐ نے کہا کہ اس کا پانی دودھ سے زیادہ مفید تھا، اور میں نے نہر کوثر کا پانی پیا۔ دوسرے آسمان پر حضور اکرم ﷺکی ملاقات حضرت یحییٰ علیہ السلام اور حضرت عیسیٰ علیہ اسلام سے ہوئی۔ تیسرے آسمان پر حضرت یوسفؑ حضور اکرم ﷺسے ملے۔ چوتھے آسمان پر حضرت ادریسؑ نے آپؐ سے بات چیت کی۔ پانچویں آسمان پر حضرت ہارونؑ اور چھٹے آسمان پر حضرت موسیٰ علیہ السلام ملے۔

انہوں نے حضورؐ سے کہا ’’آپ کی امت کے لوگ میری امت سے زیادہ جنت میں جائیں گے‘‘۔ ساتویں آسمان پر سرورکائناتؐ کی ملاقات حضرت ابراہیم علیہ السلام سے ہوئی۔ساتویں آسمان کے بعد آپؐ کو جنت کی سیر کرائی گئی۔ پھر یہاں سے آگے بڑھ کر سرور کونین سدرۃ المنتہیٰ (انتہاء کی بیری کا درخت) پر پہنچے۔ یہاں جبریل ؑ اپنی اصلی صورت میں ظاہر ہوئے اور کہا کہ اب اس مقام سے آگے جانا میری طاقت سے باہر ہے۔ آپؐ تنہا بڑھیے۔ سدرۃ المنتہیٰ پر امر الٰہی کا پرتو تھا۔ وہ جب اس درخت پر چھا گیا تو اس کی ہیئت بدل گئی اور اس میں انوارِ الٰہی نے حسن کی وہ شان پیدا کی کہ اس کا بیان کرنا ممکن نہیں۔ یہ درخت فرشتوں کی آخری حد ہے اس سے آگے وہ جا نہیں سکتے۔ اس لئے اسے منتہیٰ کہا گیا۔ یہاں سے حضور اکرم ﷺحجابات و کیفیات کی منازل سے گزر کر خالق سے ہم کلام ہوئے اور نورالٰہی کو دیکھا۔ اس سے باتیں کیں۔ بارگاہِ رب العزت سے اس موقع پر حضور اکرم ﷺکو عطیات مرحمت کئے گئے۔ ایک سورۃ البقرہ کی آخری آیتیں جن میں اسلام کے رہنما اصول بیان کئے گئے تھے جو اسلامی معاشرہ کے لئے ضروری ہیں۔

ساتھ ہی اس میں یہ خوشخبری تھی کہ اب آپؐ کی ابتلا کا دور ختم ہو گیا۔ آپؐ نئے دور اور نئے معاشرے کی بنیاد رکھیں گے۔ دوسری نعمت یہ عطا ہوئی کہ اللہ تعالیٰ نے وعدہ کیاکہ امت محمدیہ کے وہ سب لوگ جو شرک نہیں کریں گے آخر کار بخشے جائیں گے۔ تیسری نعمت نماز پنجگانہ کی فرضیت ہے جو پہلے تو پچاس فرض کی گئی تھیں لیکن حضور اکرم ﷺکی درخواست پر پانچ کر دی گئیں اور ثواب پچاس ہی کا رکھا گیا۔قریش کا انکارآنحضرتؐ نے معراج سے واپسی کے بعد اُمّ ہانی سے اس کا تذکرہ فرمایا۔ انہوں نے کہا کہ آپ قریش سے اس کا ذکر نہ کریں۔ وہ مذاق اڑائیں گے۔ حضور اکرمؐ نے فرمایا’’ میں ضرور ان سے یہ تذکرہ کروں گا۔ میرا رب سچا ہے اور جو کچھ میں نے دیکھا ہے وہ سچا ہے‘‘۔ اور جب حضور اکرم ﷺنے معراج کا تذکرہ قریش سے کیا تو وہ ہنسنے لگے اور مذاق کرنے لگے۔ بعض روایات میں کہا گیا ہے کہ کچھ لوگ جو مسلمان ہو گئے تھے مگر ان کا ایمان ابھی پختہ نہیں ہوا تھا وہ بھی یہ سن کر مرتد ہو گئے۔

حضرت ابوبکر سے جب کہا گیا لو دیکھو تمہارے محمد ﷺ کہہ رہے ہیں کہ وہ رات ہی رات میں بیت المقدس بھی ہو آئے ہیں تو انہوں نے کہا ’’اگر محمد ﷺ کہتے ہیں تو یہ ٹھیک ہے۔ میں تو اس سے بھی زیادہ پر ایمان رکھتا ہوں کہ فرشتے ان کے پاس آتے ہیں‘‘۔ اسی لئے حضرت ابوبکرؓ کو ’’صدیق‘‘ کہا گیا۔مشاہداتِ معراج کتب احادیث میں بہت سی روایات ملتی ہیں کہ حضوراکرمؐ نے معراج کے سفر میں آسمانوں پر حیرت انگیز مناظر دیکھے مثلاً رسول ؐ اللہ نے ایسے لوگوں کو دیکھا جن کے بدن کا گوشت کاٹ کا ٹ کر انہیں کھلایا جا رہا تھا۔ یہ غیبت کرنے والے اور چغل خور تھے۔ پھر ایسے لوگوں کو دیکھا جن کی زبانیں اور ہونٹ کاٹے جا رہے تھے۔ جب یہ کٹ چکتے تو پھر ویسے ہی ہو جاتے، جیسے پہلے تھے۔ حضور اکرم ﷺکو بتایا گیا یہ آپؐ کی امت کے وہ خطیب، واعظ اور عالم ہیں جو دوسروں کو لمبی چوڑی نصیحت کرتے تھے مگر خود ان پر عمل نہیں کرتے تھے۔ حضور اکرم ﷺنے ایک جگہ چھوٹا سا پتھر دیکھا جس سے ایک بڑا بیل پیدا ہوتا ہے۔ پھر یہ بیل اس پتھر میں واپس جانا چاہتا ہے مگر جا نہیں سکتا۔ آپؐ کو بتایا گیا یہ اس شخص کا حال ہے جو بری بات منہ سے نکال کر شرمندہ ہوتا ہے لیکن اس کو واپس لینے پر قدرت نہیں رکھتا۔

حضور اکرم ﷺنے کچھ لوگوں کو سڑا ہوا گوشت کھاتے دیکھا۔ یہ ناجائز دولت کمانے والے افراد تھے۔ سود خوروں کو دیکھا کہ ان کے شکموں میں سانپ بھرے ہوئے تھے جو باہر سے دکھائی دے رہے تھے۔ ایک اور روایت میں ہے کہ حضور اکرم ﷺنے سود خور کو اس حال میں دیکھا کہ وہ خون کی ندی میں تیر رہا ہے، ساحل پر پہنچنا چاہتا ہے لیکن لوگ اسے پتھر مارتے ہیں اور وہ پھر وہیں واپس پہنچ جاتا ہے جہاں سے تیرنا شروع کیا تھا۔ اس طرح خون کی ندی سے باہر نہیں نکل سکتا۔ زنا کار عورتوں کو حضور اکرم ﷺنے اس عالم میں دیکھا کہ اپنی پستانوں سے بندھی ہوئی لٹک رہی ہیں۔ یہ سارے مشاہدات جو برائی اور برے لوگوں کے بارے میں تھے۔ حضرت شاہ ولی اللہ محدث دہلوی کے بہ قول تمثیلی پیرائے اور انداز بیان میں کہے گئے ہیں۔ ان سے مقصد یہ ظاہر کرنا ہے کہ برائی اور برے لوگوں کا انجام بد ہے۔

حضور صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم کے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہ اجمعین حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ اور حضرت حسن رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ شب معراج حضور صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنی سر کی آنکھوں سے اللہ تعالیٰ کی ذات کا مشاہدہ فرمایا۔ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیم علیہ السلام کو خلیل، موسیٰ علیہ السلام کو کلام اور حضرت سیدالمرسلین صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اپنے دیدار کا اعزاز بخشا۔ حضرت امام احمد رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ میں حدیث حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما کا قائل ہوں کہ حضور صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے رب کو دیکھا۔ حضرت خواجہ حسن بصری رضی اللہ عنہ قسم کھاتے ہیں کہ حضور اکرم صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم نے شب معراج اللہ تعالیٰ کو دیکھا۔
………..
فخر دو عالم حضرت محمد صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم کو شب معراج اللہ تعالیٰ نے تین تحفے عطا فرمائے۔ پہلا سورہ بقرہ کی آخری تین آیتیں۔ جن میں اسلامی عقائد ایمان کی تکمیل اور مصیبتوں کے ختم ہونے کی خوشخبری دی گئی ہے۔ دوسر اتحفہ یہ دیا گیا کہ امت محمدیہ ( صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم) میں جو شرک نہ کرے گا وہ ضرور بخشا جائے گا۔ تیسرا تحفہ یہ کہ امت پر پچاس نمازیں فرض ہوں گی۔ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ان تینوں انعامات و تحائف کو لے کر اور جلوہ الہیٰ سے سرفراز ہوکر عرش و کرسی، لوح و قلم، جنت و دوزخ، عجائب و غرائب، اسرار و رموز کی بڑی بڑی نشانیوں کا مشاہدہ فرمانے کے بعد جب پیارے نبی حضرت محمد مصطفی صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم واپسی کے لئے روانہ ہوئے تو چھٹے آسمان پر حضرت موسیٰ علیہ السلام نے دریافت کیا، کیا عطا ہوا؟ حضور صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم نے امت پر پچاس نمازوں کی فرضیت کا ذکر فرمایا۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے کہا: اے اللہ کے نبی! میں نے اپنی قوم (بنی اسرائیل) پر خوب تجربہ کیا ہے۔ آپ کی امت یہ بار نہ اٹھاسکے گی۔ آپ واپس جایئے اور نماز میں کمی کرایئے۔

رسول اللہ صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم پھر تشریف لے گئے اور دس نمازیں کم کرالیں۔ پھر ملاقات ہوئی اور موسیٰ علیہ السلام نے پھر کم کرانے کے لئے کہا۔ حضور صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم پھر بارگاہ الہٰی میں پہنچے دس نمازیں کم کرالیں۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام کے مشوروں سے بار بار مہمان عرش نے بارگاہ رب العرش میں نماز میں کمی کی التجا کی کم ہوتے ہوتے پانچ وقت کی نماز رہ گئی اس موقع پر اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا:
’’اے محبوب! ہم اپنی بات بدلتے نہیں اگرچہ نمازیں تعداد میں پانچ وقت کی ہیں مگر ان کا ثواب دس گنا دیا جائے گا۔ میں آپ کی امت کو پانچ وقت کی نماز پر پچاس وقت کی نمازوں کا ثواب دوں گا‘‘۔
تفسیر ابن کثیر میں ہے کہ حضور صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم براق پر سوار ہوئے اور رات کی تاریکی میں مکہ معظمہ واپس تشریف لائے۔ (تفسير ابن کثير، جلد سوئم صفحه: 32)

آفتاب نبوت حضرت محمد صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم مسجد اقصیٰ میں داخل ہوتے ہیں۔ صحن حرم سے فلک تک نور ہی نور چھایا ہوا ہے۔ ستارے ماند پڑچکے ہیں، قدسی سلامی دے رہے ہیں، حضرت جبرائیل علیہ السلام اذان دے رہے ہیں، تمام انبیاء و رسل صف در صف کھڑے ہورہے ہیں۔ جب صفیں بن چکیں تو امام الانبیاء فخر دوجہاں حضرت محمد صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم امامت فرمانے تشریف لاتے ہیں۔ تمام انبیاء و رسل امام الانبیاء کی اقتداء میں دو رکعت نماز ادا کرکے اپنی نیاز مندی کا اعلان کرتے ہیں۔ ملائکہ اور انبیاء کرام سب کے سب سرتسلیم خم کئے ہوئے کھڑے ہیں۔ بیت المقدس نے آج تک ایسا دلنواز منظر اور روح پرور سماں نہیں دیکھا ہوگا۔ وہاں سے فارغ ہی عظمت و رفعت کے پرچم پھر بلند ہونے شروع ہوتے ہیں۔ درود و سلام سے فضا ایک مرتبہ پھر گونج اٹھتی ہے۔ سرور کونین حضرت محمد صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم نوری مخلوق کے جھرمٹ میں آسمان کی طرف روانہ ہوتے ہیں۔

حضور صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم فرماتے ہیں: ثم عرج بی پھر مجھے اوپر لے جایا گیا۔ براق کی رفتار کا عالم یہ تھا کہ جہاں نگاہ کی انتہاء ہوتی وہاں براق پہلا قدم رکھتا۔ فوراً ہی پہلا آسمان آگیا۔ حضرت جبرائیل علیہ السلام نے دروازہ کھٹکھٹایا۔ دربان نے پوچھا کون ہے؟ جواب دیا جبرائیل! دربان نے پوچھا، من معک تمہارے ساتھ کون ہے؟ حضرت جبرائیل علیہ السلام نے کہا حضرت محمد(صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم)! دربان نے کہا: مرحبا دروازے انہی کے لئے کھولے جائیں گے۔ چنانچہ دروازہ کھول دیا گیا۔ آسمان اول پر حضرت آدم علیہ السلام نے حضور سرور کونین صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم کو خوش آمدید کہا۔ دوسرے آسمان پر پہنچے تو حضرت عیسیٰ علیہ السلام اور حضرت یحییٰ علیہ السلام نے حضور صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم کو خوش آمدید کہا۔ تیسرے آسمان پر حضرت یوسف علیہ السلام نے، چوتھے آسمان پر حضرت ابراہیم علیہ السلام نے، پانچویں آسمان پر حضرت ہارون علیہ السلام نے، چھٹے آسمان پر حضرت موسیٰ علیہ السلام نے اور ساتویں آسمان پر حضرت ابراہیم علیہ السلام نے سرور کونین حضرت محمد صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم کا استقبال کیا اور خوش آمدید کہا۔

پھر آپ صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم کو جنت کی سیر کرائی گئی۔ پھر آپ صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم اس مقام پر پہنچے جہاں قلم قدرت کے چلنے کی آواز سنائی دیتی تھی۔ اس کے بعد پھر آپ صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم سدرۃ المنتہٰی تک پہنچے۔ اس مقام پر حضرت جبرائیل علیہ السلام رک گئے اور عرض کرنے لگے: یارسول اللہ ( صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم)! ہم سب کے لئے ایک جگہ مقرر ہے۔ اب اگر میں ایک بال بھی آگے بڑھوں گا تو اللہ تعالیٰ کے انوار و تجلیات میرے پروں کو جلاکر رکھ دیں گے۔ یہ میرے مقام کی انتہاء ہے۔ سبحان اللہ! حضور صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم کی رفعت و عظمت کا اندازہ لگایئے کہ جہاں شہباز سدرہ کے بازو تھک جائیں اور روح الامین کی حد ختم ہوجائے وہاں حضور صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم کی پرواز شروع ہوتی ہے۔ اس موقع پر حضور صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم ارشاد فرماتے ہیں، اے جبرائیل کوئی حاجت ہو تو بتاؤ۔ حضرت جبرائیل علیہ السلام نے عرض کی حضور( صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم) یہ مانگتا ہوں کہ قیامت کے دن پل صراط پر آپ کی امت کے لئے بازو پھیلاسکوں تاکہ حضور صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ایک ایک غلام آسانی کے ساتھ پل صراط سے گزر جائے۔

(روح البيان، جلد خامس، صفحة: 221)

حضور تاجدار انبیاء صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم جبرائیل امین کو چھوڑ کر تنہا انوار و تجلیات کی منازل طے کرتے گئے۔ مواہب الدنیہ میں ہے کہ جب حضور صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم عرش کے قریب پہنچے تو آگے حجابات ہی حجابات تھے تمام پردے اٹھادیئے گئے۔ اس واقعہ کو قرآن مجید اس طرح بیان فرماتا ہے: فَاسْتَوٰیo وَ هُوَ بِالْاُفُقِ الْاَعَلٰیo (النجم: 6، 7)
اس آیت کی تفسیر میں مفسر قرآن حضرت امام رازی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ سرور دو عالم حضرت محمد صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم شب معراج آسمان بریں کے بلند کناروں پر پہنچے تو تجلی الہٰی متوجہ نمائش ہوئی۔ صاحب تفسیر روح البیان نے فرمایا کہ فاستوی کے معنی یہ ہیں کہ حضور سید عالم صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم نے افق اعلیٰ یعنی آسمانوں کے اوپر جلوہ فرمایا۔
پھر وہ مبارک گھڑی بھی آگئی کہ پیغمبر اسلام حضرت محمد مصطفی صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم حریم الہٰی میں پہنچے اور اپنے سر کی آنکھوں سے عین عالم بیداری میں اللہ تعالیٰ کی زیارت کی۔ قرآن مجید محبوب و محب کی اس ملاقات کا منظر ان دلکش الفاظ میں یوں بیان کرتا ہے:

ثُمَّ دَنَا فَتَدَلّٰیo فَکَانَ قَابَ قَوْسَيْنِ اَوْ اَدْنٰیo (النجم:8، 9) ’’پھر وہ (ربّ العزّت اپنے حبیب محمد صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم سے) قریب ہوا پھر اور زیادہ قریب ہوگیا۔ پھر (جلوۂِ حق اور حبیبِ مکرّم صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم میںصِرف) دو کمانوں کی مقدار فاصلہ رہ گیا یا (انتہائے قرب میں) اس سے بھی کم (ہوگیا)‘‘۔
صاحب روح البیان فرماتے ہیں کہ حضور صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم اللہ تعالیٰ کے قرب سے مشرف ہوئے یا یہ کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے حبیب کو اپنے قرب سے نوازا۔ (روح البیان) جب حضور سرور کونین صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم بارگاہ الہٰی میں پہنچے تو ارشاد فرمایا:
فَاَوْحٰی اِلٰی عَبْدِهِ مَآ اَوْحٰی. (النجم: 10) ’’پس (اُس خاص مقامِ قُرب و وصال پر) اُس (اﷲ) نے اپنے عبدِ (محبوب) کی طرف وحی فرمائی جو (بھی) وحی فرمائی‘‘۔
حضرت امام جعفر صادق رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ یہ وحی اللہ تعالیٰ نے براہ راست اپنے محبوب کو ارشاد فرمائی درمیان میں کوئی وسیلہ نہ تھا۔ پھر رازو نیاز کی گفتگو ہوئی۔ اسرار و رموز سے آگاہی فرمائی جسے اللہ تعالیٰ نے تمام مخلوق سے پوشیدہ رکھا۔ اس گفتگو کا علم اللہ تعالیٰ اور حضور صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم ہی کو ہے۔

اللہ تعالیٰ قرآن مجید میں ارشاد فرماتا ہے: مَا کَذَبَ الْفُؤَادُ مَا رَاٰی. (النجم: 11) ’’(اُن کے) دل نے اُس کے خلاف نہیں جانا جو (اُن کی) آنکھوں نے دیکھا‘‘۔
اس آیت مبارکہ میں حضور سرور کونین حضرت محمد صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم کے قلب انور کی عظمت کا بیان ہے کہ شب معراج آپ صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم کی مقدس آنکھوں نے انوار و تجلیات اور برکات الہٰی دیکھے حتی کہ اللہ تعالیٰ کے دیدار پر انوار سے مشرف ہوئے تو آنکھ نے جو دیکھا دل نے اس کی تصدیق کی یعنی آنکھ سے دیکھا اور دل نے گواہی دی اور اس دیکھنے میں شک و تردد اور وہم نے راہ نہ پائی۔ اللہ تعالیٰ قرآن مجید میں اپنے محبوب کی آنکھوں کا ذکر فرماتا ہے: مَا زَاغَ الْبَصَرُ وَمَا طَغٰی. (النجم:17)
’’اُن کی آنکھ نہ کسی اور طرف مائل ہوئی اور نہ حد سے بڑھی (جس کو تکنا تھا اسی پر جمی رہی)‘‘۔
اس آیت کریمہ میں حضور صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم کی مقدس آنکھوں کا ذکر ہے کہ جب آپ صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم شب معراج کی رات اس مقام پر پہنچے جہاں سب کی عقلیں دنگ رہ جاتی ہیں وہاں آپ صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم دیدار الہٰی سے مشرف ہوئے تو اس موقع پر آپ صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دائیں بائیں کہیں بھی نہیں دیکھا۔ نہ آپ کی آنکھیں بہکیں بلکہ خالق کائنات کے جلوؤں میں گم تھی۔ واقعہ معراج کا ذکر کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ قرآن مجید میں مزید ارشاد فرماتا ہے: لَقَدْ رَاٰی مِنْ اٰ يٰتِ رَبِّهِ الْکُبْرٰی. (النجم: 18) ’’بے شک انہوں نے (معراج کی شب) اپنے رب کی بڑی نشانیاں دیکھیں‘‘۔

اس آیت مقدسہ میں بتایا گیا ہے کہ معراج کی رات حضور صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم کی مقدس آنکھوں نے اللہ تعالیٰ کی بڑی بڑی نشانیاں ملک و ملکوت کے عجائب کو ملاحظہ فرمایا اور تمام معلومات غیبیہ کا آپ کو علم حاصل ہوگیا۔ (روح البيان)
رسول اکرم صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: رايت ربی فی احسن صورة فوضع کفه بين کتفی فوجدت بردها…
’’میں نے اپنے رب کو حسین صورت میں دیکھا پھر اس نے میرے دونوں کندھوں کے درمیان اپنا ید قدرت رکھا اس سے میں نے اپنے سینہ میں ٹھنڈک پائی اور زمین و آسمان کی ہر چیز کو جان لیا‘‘۔ (مشکوٰة شريف صفحة: 28)
ایک موقع پر مزید ارشاد نبوی صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم ہوتا ہے: رايت ربی بعينی وقلبی : ’’میں نے اپنے رب کو اپنی آنکھ اور اپنے دل سے دیکھا‘‘۔
(مسلم شريف)
حضور صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم کے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہ اجمعین حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ اور حضرت حسن رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ شب معراج حضور صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنی سر کی آنکھوں سے اللہ تعالیٰ کی ذات کا مشاہدہ فرمایا۔ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیم علیہ السلام کو خلیل، موسیٰ علیہ السلام کو کلام اور حضرت سیدالمرسلین صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اپنے دیدار کا اعزاز بخشا۔ حضرت امام احمد رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ میں حدیث حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما کا قائل ہوں کہ حضور صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے رب کو دیکھا۔ حضرت خواجہ حسن بصری رضی اللہ عنہ قسم کھاتے ہیں کہ حضور اکرم صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم نے شب معراج اللہ تعالیٰ کو دیکھا۔

فخر دو عالم حضرت محمد صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم کو شب معراج اللہ تعالیٰ نے تین تحفے عطا فرمائے۔ پہلا سورہ بقرہ کی آخری تین آیتیں۔ جن میں اسلامی عقائد ایمان کی تکمیل اور مصیبتوں کے ختم ہونے کی خوشخبری دی گئی ہے۔ دوسر اتحفہ یہ دیا گیا کہ امت محمدیہ ( صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم) میں جو شرک نہ کرے گا وہ ضرور بخشا جائے گا۔ تیسرا تحفہ یہ کہ امت پر پچاس نمازیں فرض ہوں گی۔ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ان تینوں انعامات و تحائف کو لے کر اور جلوہ الہیٰ سے سرفراز ہوکر عرش و کرسی، لوح و قلم، جنت و دوزخ، عجائب و غرائب، اسرار و رموز کی بڑی بڑی نشانیوں کا مشاہدہ فرمانے کے بعد جب پیارے نبی حضرت محمد مصطفی صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم واپسی کے لئے روانہ ہوئے تو چھٹے آسمان پر حضرت موسیٰ علیہ السلام نے دریافت کیا، کیا عطا ہوا؟ حضور صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم نے امت پر پچاس نمازوں کی فرضیت کا ذکر فرمایا۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے کہا: اے اللہ کے نبی! میں نے اپنی قوم (بنی اسرائیل) پر خوب تجربہ کیا ہے۔ آپ کی امت یہ بار نہ اٹھاسکے گی۔ آپ واپس جایئے اور نماز میں کمی کرایئے۔

رسول اللہ صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم پھر تشریف لے گئے اور دس نمازیں کم کرالیں۔ پھر ملاقات ہوئی اور موسیٰ علیہ السلام نے پھر کم کرانے کے لئے کہا۔ حضور صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم پھر بارگاہ الہٰی میں پہنچے دس نمازیں کم کرالیں۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام کے مشوروں سے بار بار مہمان عرش نے بارگاہ رب العرش میں نماز میں کمی کی التجا کی کم ہوتے ہوتے پانچ وقت کی نماز رہ گئی اس موقع پر اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا:
’’اے محبوب! ہم اپنی بات بدلتے نہیں اگرچہ نمازیں تعداد میں پانچ وقت کی ہیں مگر ان کا ثواب دس گنا دیا جائے گا۔ میں آپ کی امت کو پانچ وقت کی نماز پر پچاس وقت کی نمازوں کا ثواب دوں گا‘‘۔
تفسیر ابن کثیر میں ہے کہ حضور صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم براق پر سوار ہوئے اور رات کی تاریکی میں مکہ معظمہ واپس تشریف لائے۔ (تفسير ابن کثير، جلد سوئم صفحه: 32)
اس واقعہ میں اللہ تعالیٰ کی قدرت کی بڑی بڑی نشانیاں موجود ہیں۔ یہ ساری کائنات جو کہ کارخانہ قدرت ہے اور اس کارخانہ عالم کا مالک حقیقی اللہ تعالیٰ ہے۔ جب اللہ تعالیٰ نے اپنے محبوب پیغمبر کو اپنی قدرت کی نشانیاں دکھانے کے لئے بلوایا تو اس میں کتنا وقت لگا، اس کا اندازہ ہم نہیں لگاسکتے۔

اللہ تعالیٰ جو ہر شے پر قدرت رکھنے والا ہے اس رب کائنات نے اس کارخانہ عالم کو یکدم بند کردیا سوائے اپنے محبوب صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم اور ان چیزوں کے جنہیں حضور صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم نے متحرک پایا۔ باقی تمام کائنات کو ٹھہرادیا، چاند اپنی جگہ ٹھہر گیا، سورج اپنی جگہ رک گیا، حرارت اور ٹھنڈک اپنی جگہ ٹھہر گئی، حضور صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بستر مبارک کی حرارت اپنی جگہ قائم رہی، حجرہ مبارک کی زنجیر ہلتے ہوئے جس جگہ پہنچی تھی وہیں رک گئی، جو سویا تھا سوتا رہ گیا جو بیٹھا تھا بیٹھا رہ گیا غرض یہ کہ زمانے کی حرکت بند ہوگئی۔ جب سرکار دو عالم صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم راتوں رات ایک طویل سفر کرکے زمین پر تشریف لائے تو کارخانہ عالم بحکم الہٰی پھر چلنے لگا۔ ہر شے از سر نو مراحل کو طے کرنے لگی، چاند سورج اپنی منازل طے کرنے لگے، حرارت و ٹھنڈک اپنے درجات طے کرنے لگی۔ غرض یہ کہ جو جو چیزیں سکون میں آگئی تھیں مائل بہ حرکت ہونے لگیں۔ بستر مبارک کی حرارت اپنے درجات طے کرنے لگی۔ حجرہ مبارک کی زنجیر ہلنے لگی۔ کائنات میں نہ کوئی تغیر آیا اور نہ ہی کسی کو احساس تک ہوا۔ (روح البيان، جلد5، صفحه، 125)

حضور سرور کونین صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم نے صبح ہوتے ہی اس واقعہ کا ذکر اپنی چچا زاد بہن ام ہانی سے فرمایا۔ انہوں نے عرض کی قریش سے اس کا تذکرہ نہ کیا جائے لوگ انکار کریں گے۔ آپ صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میں حق بات ضرور کروں گا میرا رب سچا ہے اور جو کچھ میں نے دیکھا وہی سچ ہے۔ صبح ہوئی تو آپ صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم خانہ کعبہ میں تشریف لائے۔ خانہ کعبہ کے آس پاس قریش کے بڑے بڑے رؤساء جمع تھے۔ آپ صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم مقام حجر میں بیٹھ گئے اور لوگوں کو مخاطب کرکے واقعہ معراج بیان فرمایا۔ مخبر صادق حضرت محمد صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم کے تذکرہ کو سن کر کفارو مشرکین ہنسنے لگے اور مذاق اڑانے لگے۔ ابوجہل بولا، کیا یہ بات آپ پوری قوم کے سامنے کہنے کے لئے تیار ہیں؟ آپ صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بے شک۔ ابوجہل نے کفار مکہ کو بلایا اور جب تمام قبائل جمع ہوگئے تو حضور صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سارا واقعہ بیان فرمایا۔ کفار واقعہ سن کر تالیاں بجانے لگے اور اللہ تعالیٰ کے محبوب کا مذاق اڑانے لگے۔ ان قبائل میں شام کے تاجر بھی تھے انہوں نے بیت المقدس کو کئی بار دیکھا تھا۔

انہوں نے حضور صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم سے کہا، ہمیں معلوم ہے کہ آپ آج تک بیت المقدس نہیں گئے۔ بتایئے! اس کے ستون اور دروازے کتنے ہیں؟ حضور صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم ارشاد فرماتے ہیں کہ یکا یک بیت المقدس کی پوری عمارت میرے سامنے آگئی وہ جو سوال کرتے میں جواب دیتا جاتا تھا مگر پھر بھی انہوں نے اس واقعہ کو سچا نہ مانا۔ جب حضور صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم مسجد اقصیٰ کے بارے میں جواب دے چکے تو کفار مکہ حیران ہوکر کہنے لگے مسجد اقصیٰ کا نقشہ تو آپ نے ٹھیک ٹھیک بتادیا لیکن ذرا یہ بتایئے کہ مسجد اقصیٰ جاتے یا آتے ہوئے ہمارا قافلہ آپ کو راستے میں ملا ہے یا نہیں؟ حضور صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ ایک قافلہ مقام روحاء پر گزرا، ان کا ایک اونٹ گم ہوگیا تھا۔ وہ لوگ اسے تلاش کررہے تھے اور ان کے پالان میں پانی کا بھرا ہوا ایک پیالہ رکھا ہوا تھا۔ مجھے پیاس لگی تو میں نے پیالہ اٹھا کر اس کا پانی پی لیا۔ پھر اس کی جگہ اس کو ویسے ہی رکھ دیا جیسے وہ رکھا ہوا تھا۔

جب وہ لوگ آئیں تو ان سے دریافت کرنا کہ جب وہ اپنا گم شدہ اونٹ تلاش کرکے پالان کی طرف واپس آئے تو کیا انہوں نے اس پیالہ میں پانی پایا تھا یا نہیں؟ انہوں نے کہا ہاں ٹھیک ہے یہ بہت بڑی نشانی ہے۔ پھر حضور صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ میں فلاں قافلے پر بھی گزرا۔ دو آدمی مقام ذی طویٰ میں ایک اونٹ پر سوار تھے ان کا اونٹ میری وجہ سے بدک کر بھاگا اور وہ دونوں سوار گر پڑے۔ ان میں فلاں شخص کا ہاتھ ٹوٹ گیا۔ جب وہ آئیں تو ان دونوں سے یہ بات پوچھ لینا۔ انہوں نے کہا اچھا یہ دوسری نشانی ہوئی۔ (تفسير مظهری)

اہل ایمان نے اس واقعے کی سچائی کو دل سے مانا اور اس کی تصدیق کی مگر ابوجہل حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے پاس دوڑا دوڑا گیا اور کہنے لگا: اے ابوبکر! تو نے سنا کہ محمد(صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم) کیا کہتے ہیں۔ کیا یہ بات تسلیم کی جاسکتی ہے کہ رات کو وہ بیت المقدس گئے اور آسمانوں کا سفر طے کرکے آبھی گئے۔ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ فرمانے لگے اگر میرے آقا(صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا تو ضرور سچ فرمایا ہے کیونکہ ان کی زبان پر جھوٹ نہیں آسکتا۔ میں اپنے نبی کی سچائی پر ایمان لاتا ہوں۔ کفار بولے۔ ابوبکر تم کھلم کھلا ایسی خلاف عقل بات کیوں صحیح سمجھتے ہو؟ اس عاسق صادق نے جواب دیا: میں تو اس سے بھی زیادہ خلاف عقل بات پر یقین رکھتا ہوں۔ (یعنی باری تعالیٰ پر) اسی دن سے حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کو دربار نبوت سے صدیق کا لقب ملا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

Leave a Reply