62

ہم اقلیتوں کے ساتھ نیوزی لینڈ جیسی ‘رواداری’ کیوں نہیں دکھا سکتے؟  مریم خالد

سوال گردش میں ہے۔…..
نکتہ یہ اٹھایا جا رہا ہے کہ نیوزی لینڈ نے محبت و رواداری کی تاریخ رقم کر دی۔ مسجد کے اندر مسلمان صف باندھے نماز پڑھتے تھے تو پیچھے اور باہر غیرمسلم صف باندھے پہرہ دیتے تھے۔

سکولوں کے ننھے بچے کارڈز پہ لکھ لکھ کر مسلمان ساتھیوں سے معافی مانگتے رہے۔ خواتین حجاب پہن کر اظہارِ الفت کرتی رہیں۔ وزیراعظم نے دوپٹہ پہنا، حدیثِ مبارکہ سنائی۔ پارلیمنٹ میں تلاوتِ قرآن ہوئی، ریڈیو پہ اذان نشر ہوئی، سرکاری سرپرستی میں خطبۂ جمعہ ہوا۔ سیکڑوں غیرمسلموں نے شجرِ اسلام کی گھنی چھاؤں میں آن بسیرا کیا۔
سوال یہ ہے کہ آخر ہم بھی اپنی اقلیتوں کو ایسی ہی اپنائیگی سے مسرور کیوں نہیں کر سکتے۔ ہمیں جیسنڈا کا دوپٹہ اوڑھ کر تلاوت سننا اور حدیثِ مبارکہ اتنا سرور دیتا ہے مگر یہاں ہمارا بلاول ہولی منائے یا مندر پہ دیویوں پہ نذریں چڑھائے تو ہمارے دل زہر میں ابلنے لگتے ہیں۔ وہاں سرکاری سطح پہ اذان نشر ہو تو ہماری روح جھوم جاتی ہے مگر یہاں سرکاری سطح پہ کرسمس منائی جائے تو ہمارے سوشل میڈیا کے بام و در ماتم سے گونجنے لگتے ہیں۔ جیسنڈا مسلمانوں کو “They are us” کہے تو ہمارے دل گلزار ہو جاتے ہیں مگر نوازشریف قادیانیوں کو بھائی کہہ لے تو ہمارے یہی دل کانٹوں بھرے ریگزار ہو جاتے ہیں۔ کیا محبت و رواداری فقط لینے کی چیز ہے، دینے کی نہیں؟ کیا ہم نفرتوں کے یہ تھال ہمیشہ ہی اٹھا رکھیں گے؟
سوال گردش میں ہے۔ اور جواب ہے کہ ہرگز نہیں!
ہمیں نفرتوں کے یہ بت تیشہ چلا کر ہمیشہ کے لیے توڑ دینے چاہییں۔ اگر ہم جیسنڈا آرڈن کے مسلمان ہونے کی آرزو رکھتے ہیں تو اپنے ملک کا غیر مسلم وزیراعظم دیکھنے کی تمنا بھی رکھنی چاہیے۔ ہماری پارلیمنٹ میں بھی داعیانِ دینِ مسیح کے خطابات گونجنے چاہییں۔ ہمارے ٹی وی چینلنز پہ بھی گھنٹیاں اور ناقوس بجنے چاہیں. یہ سب ہونا چاہیے تھا۔ ضرور ہونا چاہیے تھا۔ اگر___!!!
اگر جب مکہ کی وادی میں گالیاں، کانٹے، پتھر کھاتے گلشنِ عالم کے شہزادے سے یہ کہا گیا، “اے محمد! ایک سال تم ہمارے معبودوں کی عبادت کرنا، ایک سال ہم تمہارے معبود کی عبادت کریں گے۔” تو نبوت کے آخری ہیرے نے پکار کر یہ نہ کہا ہوتا، “کسی صورت نہیں! لَکُمۡ دِیۡنُکُمۡ وَلِیَ دِیۡنِ تمہارے لیے تمہارا دین اور ہمارے لیے ہمارا دین۔”
ہم ضرور آج کے دانشوروں کا یہ مطالبہ مان لیتے، اس سوال پہ ہاں کہہ دیتے اگر سیدِ کونین نے اپنے دور کے ‘دانشوروں’ کو ہاں کی ہوتی۔
اگر ایسی رواداری آج کے دور کا تقاضا ہے تو کیا ان کے دور کا تقاضا نہ تھی؟ وہ ایسی شاندار پیشکش کو دل و جاں سے قبول کرتے۔ فی الفور مکہ کے سردار بنا دیے جاتے۔ نہ شہر سے کبھی نکالے جاتے، نہ بدر و احد جیسے خونریز معرکے ہوتے۔ نہ چچا حمزہؓ کا چیرا ہوا دلخراش لاشہ ملتا، نہ اہلیہ خدیجہؓ اور بزرگ چچا ابوطالب کو برسوں طائف میں پتے اور چمڑے چبانے پڑتے۔ وہ امن، سکون اور رواداری سے اسلام کا بول بالا کرتے۔ ایک سال خدائے وحدہ لا شریک کے لیے حجِ بیت اللہ کیا جاتا، اگلے سال کعبہ میں انبیاءؑ کی مورتیاں سجا کر بتوں کو چڑھاوے چڑھا لیے جاتے، میلے سجا لیے جاتے۔ ایک برس شراب، زنا، فحاشی، سود، قتل و غارت گری حرام ہوتی، ان پہ حدیں لگتیں، زکوٰۃ اور عشر کا نظام ہوتا اور اگلے برس کعبہ کے سائے میں شراب پی جاتی، زنا ‘ذاتی حق’ ہوتا، خاندانی جھگڑوں پہ خانہ جنگیاں ہوتیں، سودی نظام پہ ساہوکار عیش کرتے۔ ایک برس ابوبکرؓ آپکے خلیفہ ہوتے اگلے برس ابولہب و ابوجہل آپکے امام اور امیر ہوتے۔ سب مل جل کر ‘رواداری’ سے رہ لیتے۔ کہیے کیا برا تھا؟
کیا نہیں ٹھیک لگا یہ سب کچھ؟ پھر جان لیجیے کہ یہ سب ٹھیک نہیں تھا اور نہ ہی ٹھیک ہو سکتا ہے۔ سرورِعالم صلی اللہ علیہ وسلم کا مقصدِ نبوت ہی یہ تھا کہ دنیا کے آخری کونے تک کے انسان تک یہ پیغام پہنچا دیا جائے کہ اس پوری کائنات کے ہر ہر ذرے کا صرف اور صرف ایک ہی رب ہے اور کائنات کے ہر ہر ذرے پہ صرف اور صرف اسی کا نظام چلے گا۔ طاغوت کی حکمرانی کا ہر پرچم گرایا جائے گا۔ عرش پہ دو خدا نہیں ہیں اور زمین پہ بھی دو خدا نہیں ہوں گے۔
اور جہاں تک تعلق ہے اقلیتوں سے رواداری کا، تو فلک کی جبیں پکارتی ہے کہ اس کے پاس مسلمانوں سے بڑھ کر ﷲ کی مخلوق کے حقوق کی پاسبانی کی کوئی مثال نہیں دیکھی گئی۔ ہم نے تو جنگوں میں بھی ان کے درختوں کے پتوں تک کی حفاظت کی ہے۔ ان کے بچوں کو اپنا بچہ سمجھا ہے۔ ان کی عزتوں کی اپنے گھر کی طرح نگہبانی کی ہے۔ ہم تو وہ معیار ہیں کہ زمانہ آج تک اپنی ایڑیاں اٹھا اٹھا کر بھی ہمارے قد کو نہیں پہنچا.

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

Leave a Reply