201

ڈیریلش ڈرامہ اور ہم – الشیخ محمد مکی

ارتغل غازی خلافت عثمانیہ کے بانی ہیں , آپکی پیدائش 1191 عیسوی میں ہوئی اور وفات 1280 عیسوی میں کچھہ کتابیں 1281 بتاتی ہیں, آپ ہی کے تین بیٹے تھے گندوز,ساوچی اور عثمان اور آپکے اسی بیٹے نے 1291 یعنی ارتغل اپنے والد کی وفات کے 10 سال بعد خلافت بنائی اور ارتغل کے اسی بیٹے عثمان کے نام سے ہی خلافت کا نام خلافت عثمانیہ رکھا گیا لیکن خلافت کی بنیاد ارتغل غازی رح رکھہ کے گئے تھے.

اسکے بعد اسی خلافت نے 1291 عیسوی سے 1924 تک , 600 سال تک ان ترکوں کی تلواروں نے امت مسلمہ کا دفاع کیا ارتغل غازی کا خاندان وسطہ ایشیا سے یہاں آیا تھا اور انکے جدِ امجد اوز خان Oghuz khan کے بارہ بیٹے تھے جن سے یہ بارہ قبیلے بنے جن مین سے ایک یہ قائی قبیلہ تھا جس سے ارتغل غازی تعلق رکھتا تھا آپکے والد کا نام سلیمان شاہ تھا, ارتغل غازی کے تین اور بھائی تھے, صارم, دوندار, گندوگدو ,آپکی والدہ کا نام حائمہ تھا.

پہلے سیزن کی 74 اقساط دیکھنے کے بعد اس ڈامہ کے
بارے میں ایک آس سی رہ گئی اس بات کا علم بالکل نہیں تھا کہ آگے بھی سیزن 2 کی شکل میں سلسلہ چلتا رہے گا
جو دن اس سیریل دیکھتے ہوئے گزرے وہ انتہائی خوبصورت دن تھے اس ڈرامہ سے جو سیکھنے سیکھانے کو ملا وہ آپکی نظر کرتے ہیں.

پوری دنیا میں منگولوں کے ظلم و بربریت سے مسلمان اور عیسائی دنیائیں دونوں پریشان لیکن آپسی چپقلش بھی عروج پر۔ صلیبیوں کی حالت صلیبی حکومتوں کے بادشاہ مجموعی طور پر بزدل اور مسلمانوں سے ڈرے ہوئے تھے۔ بیت المقدس مسلمانوں کے قبضے میں تھا اور پادریوں کے اصرار کے باوجود شہنشاہ فریڈرک مسلمانوں پر حملہ کرنے کے لیے تیار نہیں تھا۔ اس کا کہنا تھا کہ ہمارے پاس اتنی قوت نہیں کہ ان سے مقابلہ کر سکیں۔ اگر پادری بڑا لشکر تیار کر لیں تو میں جنگ کے لیے تیار ہوں۔ پادریوں کی حالت انتہائی سازشی اذہان رکھنے والے پادری جو پاپائے اعظم کو بھی اپنی مٹھی میں رکھتے تھے۔

صلیبی جہاد کے نام پر غریب عیسائیوں کا خون چوستے اور جب جی چاہتا کسی کو بھی مروا دیتے بھلے ذاتی مخالفت ہی اس کا سبب ہو۔ اپنوں پر کیے گئے ظلم و ستم پادریوں کے لیے بہت نقصان دہ رہے اور وہ مظلوم عیسائ مسلمانوں کے تر نوالہ ثابت ہوتے تھے۔ یا تو وہ مسلمان ہو جاتے یا پھر وہیں رہتے ہوئے مسلمانوں کے لیے جاسوسی کا فریضہ سرانجام دیتے۔ ان کے صلیبی جانباز بیت المقدس کی بازیابی کے لیے انتہائ مخلصانہ کوششیں کرتے یہاں تک کہ زہر کے کیپسول ساتھ رکھتے جہاں کہیں بھی زندہ پکڑے جانے کا اندیشہ ہو تو کیپسول نگل لیتے۔

پادری مسلمانوں کے مخالف تو تھے لیکن ذاتی طور پر انتہائ بدکردار، بزدل، اور حب جاہ کے مریض تھے۔ وہ عیسائیوں کی دولت، عورت اور جذبات کو اپنی طاقت اور شان و شوکت کے لیے استعمال کرتے تھے ۔ سب سے بڑا منصب پاپائے اعظم کا تھا جس کو پانے کے لیے وہ آپس میں دست و گریباں رہتے تھے اور اس کے لیے ایک دوسرے پر بہتان لگانے سے لے کر جان لینے تک ہر حربہ جائز سمجھتے تھے۔ سارے عیسائی چاہتے تھے کہ ایک بڑی صلیبی جنگ ہو اور ہم بیت المقدس مسلمانوں سے چھین لیں لیکن قربانیاں صرف عام عیسائی ہی دے رہے تھے۔

مسلمانوں کی حالت
مسلمان بادشاہ آپس میں ایک دوسرے کے مخالف تھے اور اپنی حکومت قائم رکھنے کے لیے بادشاہ لوگ جو حربے آزماتے ہیں وہ بھی آزماتے، بے بصیرت بھی تھے، فراست بھی ان میں نہیں تھی لیکن بدکردار اور بزدل نہیں تھے۔ علماء سے محبت رکھتے تھے اور ان کے مشوروں کو سنتے، مانتے اور عمل بھی کرتے تھے۔ مسلمانوں میں ہمیشہ کی طرح یہاں بھی غداروں کا گڑھ پایا جاتا تھا ،

علماء کی حالت اس دور میں علماء کرام، صوفیاء حضرات اور اولیاء عظام کا کردار ایک ایسا درخشندہ باب ہے جس کا ہر مسلمان کو علم ہونا چاہیے۔ یہ پاکیزہ لوگ منگولوں، صلیبیوں اور مسلمانوں کے درمیان گھومتے پھرتے۔ بہادر لوگوں کو تلاش کرتے ان پر محنت کرتے۔ کافروں کو مسلمان کرتے۔ ان کے قلوب پر توجہ فرماتے۔ ان کا تزکیہ نفس کرتے۔ ان کے آپس میں تعلقات قائم کرواتے۔ مسلمان حکومتوں کو آپسی اختلافات سے بچانے کی کوشش کرتے۔ اور سب سے بڑی بات یہ کہ وہ ساری کوششیں کسی فقہ، مسلک یا فرقے کی ترویج کے بجائے اسلام کے لیے کرتے تھے۔ اس سیزن میں صرف ابن العربی رح کا کردار دکھایا گیا ہے لیکن کیا ہی خوب کردار ہے کیسی زبردست محنت ہے اور کیا ہی خوبصورت نصائح ہیں دیکھ سن کر مزا آجائے۔

جو لوگ فلموں سے پرہیز کرتے ہیں وہ بے شک نہ دیکھیں لیکن جو دیکھتے ہیں وہ بجائے انگیزی اور انڈین فلموں کے یہ سیریل دیکھیں۔ اسلامی تاریخ اور تعلیمات سے مزین بہترین کرداروں پر مشتمل یہ سیریل جہاں مسلمانوں کے ہر طبقے کو نہ صرف اپنے درخشاں ماضی کی سیر کرائے گی بلکہ راہ عمل بھی دکھائے گی۔ مستقبل میں بچوں کے ذہنوں کو بہترین تدوین دینے والا یہ ڈرامہ ضرور دیکھائیں.

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

Leave a Reply