59

ایسی بلندی, ایسی پستی ! – مریم خالد

چند دن گزرتے ہیں کہ اک ہنگام سا بپا ہے ۔ آزادئ نسواں پہ اک شور سا مچا ہے ۔ دونوں اطراف سے نعرے بازیاں ہیں، پھبتیاں ہیں، دونوں طرف انتہائیں ہیں ۔
ایک طرف ” مرد سے آزادی، سردرد سے آزادی ” ” میری شادی کی نہیں ، آزادی کی فکر کرو” کی گونج ہے ۔ دوسری طرف “اپنی شاپنگ خود کرو ۔ اپنا کھمبا خود ٹھیک کرو۔” کی صدائیں ہیں ۔

آوازیں ہی آوازیں ہیں ہر سو۔ ہر کوئی کچھ نہ کچھ کہے جا رہا ہے۔ نہ کچھ سچ کی سمجھ نہ آرہی ہے نہ غلط کی۔ دل چاہتا ہے بس چھوڑیے اس دنیا کو، کہیں دور چلتے ہیں۔ اس ہنگام سے دور، اس طوفان سے پرے ۔ اپنے دل و روح کو تو ایک ہی بستی کا پتہ ہے کہ برسوں سے ان کا مسکن ہی وہی ہے۔ ہاں، زمان و مکاں کی پابندیوں سے کیا ہوتا ہے، دل اگر چودہ سو برس پرانی بستی میں بھی اٹک جائے تو عہدِ جدید کی ہر اک دمق اسے پھیکی لگنے لگتی ہے۔ محبت بستی سے بھی تو نہیں ہے، محبت تو “ان” سے ہے۔ وہ!! وہ جس صحرا، جس درختوں کے حجرے میں بھی بسیں اپنے دل کو وہی شیش محل ہے۔ بس یہ دل انہی کو تلاشتا چودہ سو برسوں کے فاصلے سمیٹ گیا۔ وہ اپنی بستی میں نہیں تھے۔ اک سفر پہ تھے۔ جہاد فی سبیل ﷲ کا قصد تھا۔ اب غازیانِ حق کا قافلہ واپسی کی راہ پہ اک جگہ پڑاؤ ڈالے بیٹھا تھا۔ اور یہ رہا ان کی اہلیہ کا ہودج یعنی پالکی! عجب خوشی ہوئی، وہ اپنی اہلیہ کو جہاد میں بھی اپنے ساتھ ساتھ رکھتے تھے! رات کا وقت تھا ۔ پالکی کھلی اور ام المومنین عائشہ صدیقہؓ باہر نکلیں ۔ کسی رات سہانی میں، چاند کی تابانی میں، ہوا کی مستانی میں، جذبات کی فراوانی میں اپنی کسی محبوب ہستی کو دیکھنا کیسا لگتا ہے! وہ لاکھوں دلوں کی دھڑکن۔

آنکھوں میں ذہانت و معصومیت کا سہانا جلترنگ ، چال میں وقار و ناز کا اک دلربا آہنگ۔ شہزادی سی شہزادی، ملکہ سی ملکہ!؟ صدیقِ اکبرؓ کی صاحبزادی اور سیدِ کونین کی رفیقہ ہونا ہر کسی کو کہاں نصیب ہوا کرتا ہے! میں نے زندگی میں ان سے بڑھ کر کبھی کسی کو اپنے لیے آئیڈیل نہیں سمجھا ۔ وہ بالکل اپنی ہی ہم عمر، ایسا ہی سا لا ابالی پن، شرارت، شوخی۔ وہ کس قدر اپنی اپنی سی لگیں۔ اک سحر سا طاری تھا ۔ وہ اپنی خوبصورت چال میں کہیں دور چل دیں ۔ میری بےقرار آنکھیں وہیں ان کی واپسی کی راہ دیکھتی رہیں۔ اور یہ آنے لگی ان کے قدموں کی چاپ، ان کے لباس کی سرسراہٹ ۔ وہ پالکی کے قریب آئیں ۔ ہاتھ سے گلے پہ کچھ ٹٹولا اور__ٹھٹھک سی گئیں۔ بار باد کچھ ٹٹول رہی تھیں۔ چہرے کی پریشانی بڑھ رہی تھی۔ ہار غائب تھا! پریشانی مجھے بھی ہوئی مگر سچ بتاؤں ؟ مجھے لطف زیادہ آیا ۔ ان کے ساتھ ایک اور مماثلت ثابت ہوئی! وہ بھی میری طرح چیزیں گما دیتی ہیں۔ دلچسپ۔ اب تو وہ بالکل ہی اپنی لگیں مجھے! یہاں لشکر نکلنے کو تھا، وہاں گم ہار تلاشنا تھا۔ لشکر یا ہار؟ ہار!! وہ لشکر چھوڑ کر ہار ڈھونڈنے چل دیں۔ میری سہیلی! وہ ہار ڈھونڈتی رہیں ۔ لشکر کوچ کرنے کو آیا ۔ لوگوں نے ان کا ہودج اٹھایا اور اونٹ پہ رکھ دیا ۔

معلوم ہی نہ ہوا کہ وہ اندر نہیں ہیں، وزن بھی تو کچھ نہ تھا ان کا۔ میری مسکراہٹ گہری ہوئی ۔ لشکر چل دیا اور وہ ہار ڈھونڈتی رہیں۔ مجھے پریشانی ہونے لگی۔ انہیں ڈانٹ پڑ گئی آقا سے تو؟ یہ یوں تنہا ادھر، انہیں ڈر نہیں لگتا؟ مگر وہ ہیں کہ ہار ہی ڈھونڈے چلی جا رہی ہیں۔ وہ عائشہؓ ہی کیا جو اپنے کام سے ہار مان لیں ۔ کتنی ہی دیر گزر گئی اور انہیں آخرکار مل گیا اپنا ہار۔ وہ خوش خوش واپس آئیں ۔ لشکر غائب ! نہ کوئی پکارنے والا نہ پکار کا جواب دینے والا ۔ مجھے لگا وہ پریشان ہو جائیں گی ۔ کسی ویرانے میں کوئی عورت تنہا ہو تو دل پہ کیا بیتے ؟ اور جب رسول ﷲ پہنچ کر دیکھیں گے تو انہیں نہ غصہ آئے گا؟ میری حیرت انتہا کو پہنچی جب وہ بہت سکون سے بیٹھ وہاں گئیں ۔ کہتی ہیں ، “مجھے یقین تھا کہ انہیں جلد ہی میری غیرموجودگی کا احساس ہو گا اور وہ مجھے لینے آ جائیں گے ۔” اور حیرتوں کے پہاڑ تب ٹوٹے جب وہ بیٹھے بیٹھے سو بھی گئیں! کوئی اتنا پرسکون کیسے ہو سکتا ہے؟ انہیں اتنا مان تھا اپنے شوہر پہ کہ جو سالارِ کارواں بھی تھا کہ وہ بہت جلد پورے قافلے میں یہ جان جائے گا کہ اس کی بیوی نہیں آئی ؟ ہودج اٹھانے والوں کو معلوم نہ ہو سکا اور انہیں معلوم ہو جائے گا ؟ اور وہ ایسے مہربان ہیں کہ اسی لمحے انہیں لینے چلے آئیں گے؟ اور جب وہ وجہ پوچھیں گے اور وہ انداز سے کہہ دیں گی .

” ہار گم گیا تھا میرا ” تو وہ مطمئن ہو جائیں گے ؟ کیا کوئی جہاد کے کٹھن سفر میں بیگم کے ایسے ناز برداشت کر سکتا ہے؟ میری عقل اس پہ یقین کرنے سے قاصر تھی اور نیند میں مگن صدیقہؓ کا معصوم چہرہ جواب دے رہا تھا کہ ایسا ہی ہے ۔ ایسا ہی ہو گا ۔ تیمم والے واقعے کی دفعہ بھی تو ان کے ایک ہار کے لیے پورا لشکر رکوا لیا تھا انہوں نے ۔ کچھ دیر بعد صفوان بن معطلؓ جو لشکر کے پیچھے آرہے تھے ، پہنچ گئے ۔ سالارِ لشکر نے پہلے سے انتظام کر رکھا تھا کہ قافلے کا کچھ رہ جائے تو وہ ساتھ لے آئیں ۔ وہ واقعی بہترین منتظم تھے ۔ عائشہؓ کا مان بے وجہ نہ تھا ۔ صفوانؓ کی آواز پہ وہ اٹھیں ، چہرے کا نقاب درست کیا، اونٹ پہ بیٹھیں اور وہ اسکی مہار تھامے چل پڑے ۔ راستہ بھر کوئی بات نہ ہوئی ۔ قافلہ تک پہنچے ۔ انہیں واقعی کوئی ڈانٹ نہ پڑی ۔ سب کچھ گویا معمولی بات تھی ۔ قافلہ جا چکا ہے اور میں ادھر ہی بیٹھی ہوں ۔ خیالات کا ایک کارواں ہے جو میرے دل و دماغ میں سے گزر رہا ہے ۔ یہ کون لوگ تھے؟ میرے اپنے ، ہاں بہت اپنے! میرے دل کی دھڑکنوں کے شریک ۔ یہ اس قدر مثالی ہوں گے، یہ میں نے سوچا نہ تھا۔ یہ کیسا معاشرہ ہے کہ جہاں عورت کے حقوق ہی نہیں ناز بھی پورے کیے جاتے ہیں اور وہ بھی جنگوں میں ۔
ایسا شوہر! ایسی بیوی! شوہر کو معلوم ہے کہ اک محفوظ سائبان کیا ہوتا ہے اور بیوی کو معلوم ہے کہ اپنی حیا کی، عزت و آبرو کی حفاظت کیسے کی جاتی ہے ۔

اسکی حدود کیا ہیں، اسے معلوم ہے ۔ کہیں وہ ایسی مضبوط ہے کہ اپنے ہار کے لیے لشکر بھر کی پروا نہیں کرتی اور کہیں ایسی با حیا کہ چہرے پہ آنچل ڈالے ایک مرد سے راستہ بھر ایک لفظ بھی نہیں کہتی ۔ اپنے شوہر کی عزت کا ہر لمحہ مان رکھتی ہے ۔ وہاں بیٹھے ہوئے مجھے افسوس ہوا کہ آج میرے دیس میں بہت سے ، ہاں بہت سے علاقے ایسے ہیں جہاں ان کے امتی تعلیم، نکاح، وراثت اور معاشرت کے معاملات میں عورت کے لبوں پہ تالے جکڑ دیے جاتے ہیں ۔ معمولی باتوں پہ اس کے کردار پہ انگلیاں اٹھائی جاتی ہیں ۔ اس کے حقوق اور احترام کے سب سامان کسی گٹھڑی میں باندھ کر تاریک کنویں میں دھکیل دیے جاتے ہیں ۔ اور مجھے یہ بھی غم ستاتا ہے کہ آج عورت عصرِ حاضر کا مہیب ترین فتنہ بنے معاشروں کے معاشرے آگ میں دھکیل رہی ہے ۔ میرِکارواں بننے کے زعم میں مردوں کو دھکیلتی ، رگیدتی ، چیختی ، چلاتی پھر رہی ہے ۔ آنگن اجاڑتی ، رشتے کاٹتی پھر رہی ہے۔ نہ اسے ماں بننے سے غرض ہے نہ بیوی، نہ بہن نہ بیٹی ۔ بس اک الاؤ ہے ، شور ہے ، ہنگام ہے ، آوازیں ہیں ۔ اس طوفان میں دل چاہتا ہے اِسی دنیا میں بسیرا کر لوں جہان رات سہانی ہے ۔ سکون کی فراوانی ہے۔ رشتوں کی نگہبانی ہے ۔ یہاں عائشہ صدیقہؓ کی طرح سکون سے آنکھیں بند کر لوں ۔ پھر اپنے جہاں میں کبھی لوٹ کر نہ جاؤں ۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

Leave a Reply