116

مدینے کا سفر !!!

مدینہ کی خواہش کرنا بھی نصیب کی بات ہے، مدینہ میں رہنا بلند بختی ہے اور مدینہ سے دور رہ کر بھی مدینہ میں رہنا صرف الله کی توفیق ہے ۔۔۔ مدینة النبیﷺ جانے کا شوق اپنی جگہ لیکن مدینے جانے کیلئے بھی حوصلہ چاہیئے ، سوچنا چاہیں تو سوچا نہیں جاتا ، بیان کرنا چاہیں تو لفظ نہیں ملتے، ‏مدینہ کا ذکر ہو تو خیال کی پلکیں جھک جاتی ہیں، بس گلابی دھوپ میں جنت البقیع سے پرے کوئی سبز رنگ نظر آتا ہے اور اس سے آگے سانس گم ہو جاتی ہے۔۔۔

‏مدینہ کی بات چلے تو دل پہلو میں اتھل پتھل ہونے لگتا ہے بھلا ان پیروں کی اوقات کہ مدینہ کی مٹی کو چھُو سکیں، یہ تو مدینے کی خاک کے قابل ہی نہیں، ‏مدینہ کی بات کیسے کریں لفظ احساس کو زبان دینے سے قاصر اور لفظ مل جائیں تو بھلا زبان اس قابل کہاں کہ مدینہ کی بات کرے، حروف جنبش سےلاچار ہیں۔۔۔ ‏میرےآقا اے سلطان جہاں ﷺ! وہ بڑے لوگ ہیں جو آپﷺ‬ کا مدینہ دیکھ آتے ہیں ہم تو چھوٹے لوگ ہیں ہم ان لوگوں کو دیکھتے رہتے ہیں جو مدینہ دیکھ آتے ہیں، میرے آقا اے نبی محترمﷺ! مدینہ کی بات کس سے کریں، اس معطر ہوا سے جو وہاں ناز سے چلتی ہے یا اس سنہری بارش سے جس کے قطرے مدینہ پہ نثار ہوتے ہیں۔۔۔ یہ ‏مدینة النبیﷺ چھانٹ دیتا ہے منافق کو، چھوڑ دیتا ہے منافق کو، اپنی مٹی سے دل نہیں لگنے دیتا منافق کا، مدینہ ایمان کی پرکھ ہے، مومن کی جانچ ہے، میرے آقاﷺ! ایک مومن کیلئے مدینہ سے ملنے کی حسرت بھی ایمان ہے، مدینہ کی مٹی میں مل جانے کی حاجت بھی ایمان ہے، اور مدینہ سے محبت بھی ایمان ہے۔ ‏اے نبی مکرم و محتشم ﷺ! مدینہ مومن کے دل کا چراغ اور برزخ میں جنت کے راستوں کا سراغ ہے، مدینہ تو روح کی ویران بستی میں سرخ گلابوں کا باغ ہے۔۔۔

اے مدینة النبیﷺ اے شہر خوش خصال و بیمثال ، تیرے بام و در خوش جمال، تیری گلیاں تیرے کوچے تیرے راہرو با کمال، اے شہر خوش رنگ اے شہر لازوال۔ ‏اے مدینہ اے شہر مصطفیﷺ تیری مٹی پہ عود و عنبر کی مہک نثار ہوئی جاتی ہے، تیری ہواؤں پہ مشک ختن قربان ہوتی رہتی ہے اور فضا سے خوشبو آتی رہتی ہے، اے مدینہ تیری راتوں سے چاند اپنی چاندنی اجالتا ہے، تیری شام سے سورج اپنی روشنی ادھار لیتا ہے، تیری فلق کی کرنیں فلک کے ستارے جگمگاتی ہیں۔۔۔ ‏میرے آقاﷺ! مدینہ کی زمین پر پاؤں کیسے دھروں کہ میرے لہو میں معصیت، روح پہ کالک، دل پہ کالی چادر اور اعمال کا کاغذ کوئلے کی کان کی نوکری جیسے، اے شہرنبیﷺ جگہیں اپنا مزہ اور لطف کھو دیتی ہیں لیکن ایک تیری زمین ہے جسکے موسم چھونے کی خواہش انگلیوں کی پوروں میں دل بن کے دھڑکتی رہتی ہے۔۔۔ ‏اے مدینہ تیری حسرت جینے کی امنگ اور زندگی کا رنگ ہے جب دنیا کی کوفت زدہ راتیں اور بیزارصبحیں جی کلساتی ہیں تو تیرے نام کا جگنو چمکنےلگتا ہے اور آنکھیں بند ہوں تو مدینہ نظر آتا ہے دور کچھ پہاڑ، کھجوروں کے جھنڈ اور انکےبیچ کچی مٹی کے بنے گھر خنک شام کی ٹھنڈک اور مسجد سے بلند ہوتی آذان۔۔۔

‏اندھیری رات ہو تو مدینہ پاس چلا آتا ہے تاحد نگاہ تک نور ہی نور، نور کا فرش ، نور کے حجرے، نور کا باغ ، نور کا پانی، نور پہنتے ہوئے چاند لوگ، لیکن ‏مدینہ میں حدی خواں کیا کرے، سارا مدینہ چھان لیا، سب سے بات ہو گئی، لیکن جنہیں دیکھنے کی حسرت میں آنکھیں پائیں وہ ماہ کامل ﷺ نظر نہیں آتے۔۔۔ ‏اے مدینہﷺ تو کائنات کی انگھوٹھی میں دھڑکتا ہوا وہ نگینہ ہے جس کی شعائیں ویران اور بے آباد دلوں میں غار حرا کا دروازہ کھول دیتی ہیں، ‏میرے آقاﷺ عرب کے ریگزاروں میں مدینہ نخلستان کی طرح دھڑکتا ہے جب یہ دل معصیت کی حبس میں پھڑپھڑانے لگتا ہے تو مدینہ کی ٹھنڈی یاد سکون دیتی ہے۔۔۔ کہیں ‏جنگل کے اندھیرے میں، کہیں صحرا کی خموشی میں، کہیں برف کے پہاڑوں پر اور دور کسی جھونپڑی میں، جہاں جہاں مکہ سے لو لگی ہے وہاں وہاں مدینہ یاد ہے، دھیان میں کہیں دل کا درد، روح کے ناسور، اعمال کا کوڑھ، سلگتے گھاؤ، ٹوٹی ہوئی خواہشات، لہو میں بہتی چیخیں اور تسلی کیلئے فقط ایک آسرا، مکہ اور مدینہ کا سفر۔۔۔ درحقیقت ‏مدینہ کی یاد ایسی دلا ویز شے ہے کہ بےذائقہ موسم رسیلا ہو جاتا ہے، جینے کی امنگ دل میں ہلکورے لینے لگتی ہے اور زندگی یکایک بامقصد ہو جاتی ہے، ۔

زندگی کا دریا بہتے بہتے آخری پل کے پاس پہنچ چکا کچھ دیر ہے یہ جسم کے کناروں سے بہہ نکلے گا ، میرے آقا ﷺ! حیات کی خنک شام مدینے کی مٹی چاہتی ہے ۔
کبھی دیوانہ وار جی چاہتا ہے کہ ‏کوئی خواب ہو جو ہستی کو اڑا لے جائے آنکھ کھلے تو حرم مکہ کا جمال و جلال اپنی رحمت میں سمیٹ لے پھر آنکھ صحن نبوی کی رات دیکھے اور بند ہو جائے، میرے آقاﷺ! جب دنیا جی جلاتی ہے اور ہر رشتہ ناتا دل کو خفا کرتا ہے تو ہم چپ چاپ سر جھکا کر آنکھیں موند کر مدینہ کی یاد کی چادر اوڑھ لیتے ہیں ۔ ‏میرے آقا ﷺ‬! دنیا غم و الم اور حسرت و یاس کی جگہ ہے تو دل سکون و بے قراری کا مرکز و محور ہے اور اس دل کے باہر بس خاکِ حجاز ہے جہاں سکون کے موتی ملتے ہیں ‏اے مدینة النبی ﷺ کچھ باتیں صرف تیری خاک سے کرنے والی ہیں جب ہم سر نیہواڑے چلتے ہونگے تو ہمارے چہرے بھیگے ہونگے ہر اشک کچھ کہے گا تم سن لینا۔۔۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

Leave a Reply