85

باسی روٹی – خدیجہ گیلانی

سوشل میڈیا کا یہ کمال ہے پل پل کی خبریں مل جاتی ہیں ۔ اجتماعی بھی اور لوگ انفرادی بلکہ انتہائی ذاتی زندگی کو بھی مشتہر کرتے رہتے ہیں ۔ گزشتہ دنوں دو مختلف نوعیت کی تصویروں نے اپنی جانب متوجہ کیا ، دونوں تصویریں اپنی نوعیت کے اعتبار سے بالکل الگا لگ تھیں لیکن دونوں میں گہرا ربط پایا جاتا تھا

پہلی تصویر ایک خوش شکل اور خوش ذائقہ دال کی پلیٹ کی تھی ۔ جن خاتون نے یہ تصویر سوشل میڈیا کی زینت بنائی ان کا کہنا تھا کہ بہت عرصے بعد امی کی طرح باسی روٹیوں کے چھوٹے چھوٹے ٹکڑے شامل کر کے یہ دال پکائی اور بہت ہی لذیذ دال پکی ۔ اس تصویر اور عبارت کو بہت سے لوگوں نے پسند کیا اور اس پر تبصرہ بھی کیا ۔ بہت سی خواتین نے اپنی یادداشت کے پردے پر دستک دی اور اظہار کیا کہ ہماری امی بھی باسی روٹیوں سے فلاں ڈش بناتی تھیں ۔ اس سے معلوم ہوا کہ آج سے بیس 25 سال پہلے تک ہر دوسرے گھر میں باسی روٹی کے استعمال کی کوئی نہ کوئی شکل موجود تھی ۔
دوسری تصویر ایک ایسے باپ کی تھی جس نے بھوک سے تنگ آ کر اپنے 4 بچوں کو مار دیا تھا ۔ قطع نظر اس کے کہ اس کا یہ فعل کتنا کریہہ تھا ، سفاکیت کی انتہا تھی ۔ ہوش ربا مہنگائی ، سابق حکمرانوں کی بد دیانتی اور موجودہ حکمرانوں کی نااہلی سب اس سفاکیت اور درندگی کی وجوہات ہیں لیکن  کیا معاشرہ اس بھوک کا ذمہ دار نہیں  شادی بیاہ میں کھانے پینے میں اسراف کو تو چھوڑیں جابجا کھلے فوڈ سٹالز اور ریستوران کھانا خریدنے والوں کی لائنیں لگی ہوتی ہیں ،ایک وقت کے کھانے میں ہزاروں روپے اڑا دئیے جاتے ہیں ۔ گھروں میں آنے والے مہمان جن کی تواضع ایک چاول اور ایک سالن کی ڈش سے آرام سے ہو جاتی تھی اب ان کے سامنے جب تک چار 5 طرح کے کھانے نہ رکھ دیئے جائیں (جن میں ایک دو خشک آئٹمز کباب ، تکے وغیرہ ہونا لازمی ہے ) تو نا میزبان کی تسلی ہوتی ہے اور نا ہی مہمان خوش ہوتا ہے ۔

مقابلے کی ایک دوڑ ہے آج ہمارا پڑوسی بھوکا ہوتا ہے اور ہم لاعلم  ہماری مائیں جو باسی روٹی کے ٹکڑے بھی اس خوبی سے کھلانے کا ہنر جانتی تھیں سادگی اور قناعت کا پیکر یہ مائیں زائد از ضرورت کھانا خاموشی سے کسی ضرورت مند کو دے دیتی تھیں سوال یہ ہے کہ کیا ہم نے یہ ہنر اگلی نسل میں منتقل کیا رزق کا ادب کروانے کے کیسے کیسے طریقے کہ کھانے کی چیز گرائی تو قیامت کے دن پلکوں سے اٹھانا پڑے گا، مجھے نہیں یاد کہ ہمارے گھر میں کبھی روٹی چھان کا کوئی ڈبہ یا لفافہ بنا ہو ، ہم نے کبھی ڈبل روٹی کنارے کاٹ کر نہیں استعمال کی کہ ان کناروں کا شمار بھی رزق میں ہوتا ہے
میرے بچپن میں محلے میں ایک نانا جی ہوتے تھے روزانہ علی الصبح اور شام کے وقت روٹی کے چھوٹے چھوٹے ٹکڑے کرتے اور چڑیوں کو کھلاتے، سینکڑوں چڑیاں ان کے گرد جمع رہتیں ایسی ہی کتنی ان گنت مثالیں ہیں. لیکن سوال پھر یہی ہے کہ کیا ہم نے یہ سب اقدار نئی نسل میں منتقل کیں یا نئی نسل کو ہم نے حرص و ہوس کا تحفہ دیا ہے نئی نسل کو ہم نے بے حسی کے زیور سے آراستہ کیا اور جس معاشرے میں کبھی کوئی ماں بھوک کے ہاتھوں تنگ آکر اپنے بچوں کو مار کر خودکشی کر لے اور کبھی کوئی باپ بچوں کو بھوک سے روتا کر لاتا دیکھ کر اپنی بےبسی کا مداوا بچوں کی جان لے کر کرے تو کیا وہ معاشرہ اس بھوک کا ذمہ دار نہیں؟

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

Leave a Reply