گم شدہ امیر خسرو ( قسط تین) – انتظار حسین




امیر خسرو نے فارسی شاعری خوب کی- مگر اس پر قانع نہیں ہوئے- انھوں نے گیت کہے ، دوہے ، پہیلیاں ، کہہ مکرنیاں ، دو سخنے، انمل – یہ ان کی نئی شاعری تھی- کوئی نمود کرتی ہوئی تہذیب اور کوئی اُبھرتا ہوا تخلیقی جوہر روایت میں مقید ہو کر نہیں رہ سکتا – ایک نئے گرد و پیش میں نمو کرتی ہوئی یہ تہذیب ورثے میں ملی ہوئی شعری روایت پر قانع نہیں رہ سکتی –
اس کے تجربے اہلِ عجم کے تجربوں سے مختلف تھے – یہ تجربے نیا اظہار مانگتے تھے- صحیح ہے کہ امیر خسرو نے اپنی فارسی شاعری میں ان تجربوں کو سمونے کی بہت کوشش کی – صحیح ہے کہ انھوں نے اہنی غزل اور مثنوی کو عجمیت کی ڈبیا میں بند کرکے نہیں رکھا – یہاں کے رنگوں اور خوشبوؤں کےلیے، یہاں کے لفظوں اور لہجوں کے لیے انھوں نے اپنی فارسی غزل اور مثنوی کے سارے دریچے کھول رکھے تھے- مگر ان اوصاف کو بہر حال اپنی عجمی روایت کی بھی اطاعت کرنی تھی – بس یہیں سے امیر خسرو کو اہنی فارسی شاعری کے ناکافی ھونے کا احساس ہوا اور یہاں سے انھیں بیان میں وسعت کی تلاش ہوئی کہ جو تجربے اس مٹی کی دین ہیں ان کے اظہار کی گنجائش نکل سکے –
یہ وہ مقام ہے جہاں سے امیر خسرو ایک باغی شاعر کا روپ دھارتے نظر آتے ہیں – فارسی شاعری سے گزر کر دو رنگی زبان میں غزل کہنے کی کوشش اور غزل ، مثنوی اور قصیدہ جیسی اصناف سے گزر کر ان کی گری پڑی اصناف میں اظہار کی کوشش جنہیں فارسی کی ادبی روایت سنجیدہ شعری اصناف ماننے کے لیے تیار نہیں تھی ، یہ کم و بیش اسی نوع کی بغاوت تھی جو بیسویں صدی کی تیسری دہائی میں ھمارے شاعروں نے نظم آزاد اور نظم معرّا کو اپنا کر کی تھی – مگر یہ کہ امیر خسرو کی بغاوت زیادہ بڑی اور زیادہ با معنی بغاوت تھی- بات کو سمجھنے کے لیے یوں کہہ بیٹھے کہ ھماری شعری روایت میں امیر خسرو، راشد اور میراجی سے بڑے باغی ھوئے ھیں – راشد اور میراجی کی نظم آزاد کو اس تہذیب کی سند حاصل تھی جس کا اس وقت کے محکوم ہندوستان پر بڑا رعب تھا – امیر خسرو نے ہئیت کے جو تجربے کیے اس کا اشارہ انھوں نے کسی ایذرا پاؤنڈ اور کسی ٹی- ایس- ایلیٹ سے نہیں لیا تھا – امیر خسرو اپنے وقت کےخود ھی ایذدا پاؤنڈ اور خود ھی ٹی- ایس- ایلیٹ تھے-
پھر جن دیسی اصناف پر وہ حائل ( مائل*) ہوئے وہ اس عوامی ادبی روایت سے لی گئی تھیں، جنھیں ثقہ ادبی مذاق رکھنے والے مسلمان اشراف خاطر ہی میں نہیں لاتے تھے – اس اعتبار سے امیر خسرو کی یہ شاعری ہماری شعری روایت میں پہلی نئی شاعری ہے – امیر خسرو کی یہ شاعری دو اعتبارات سے نئی شاعری ہے – ایک تو اپنے عہد کے حوالے سے کہ امیر خسرو نے اپنے عہد میں زندگی کی نئی حقیقتوں اور نئی وارداتوں کے اظہار کے لیے ان اصناف کے حلقے سے نکل کر جو مسلمان اشراف میں مروج و مقبول تھیں دوسری اور بظاھر غیر مستند ثقہ اصناف کو برتا اور ہئیت کے نِت نئے تجربے کیے- دوسرے وہ آج کے حوالے سے بھی نئی شاعری ھے – وہ اس طرح کہ اس شاعری میں جو طرز احساس ملتا ھے وہ آج کے بیسویں صدی کے طرز احساس سے ہم رشتہ ہے – مثلاََ اَنمل کو لے لیجیے – خسرو کی انمل احساس کے اعتبار سے آج کے absurd drama کی رشتہ دار نظر آتی ہے – مغرب کے ادبی ذہن نے بہت منطق اور عقل بگھارنے کے بعد اور حیات و کائنات میں بہت مقصد اور معنی نکالنے کے بعد اس بیسویں صدی میں کہیں جا کر یہ آگاہی حاصل کی کہ انسانی زندگی کا عمل اور کائناتی عمل اتنے با معنی نہیں ہیں جتنا ہم نے انھیں سمجھا تھا –
یہاں تو قدم قدم پر لایعنی صورتِ حال سے پالا پڑتا ھے – امیر خسرو absurd ڈرامے کی پیدائش سے سات سو برس پہلے یہ آگاہی حاصل کرچکے تھے – اس آگاہی نے ان سے انمل اور ڈھکوسلے کہلوائے جو انسانی زندگی کی absurdities کو گرفت میں لانے کی ایک کوشش میں ھیں –
بھادوں پکی پیلی جھڑ جھڑ پکے کپاس
بی مہترانی دال پکاؤگی یا ننگا سو رھوں
مختلف ڈھکوسلوں اور انملوں میں لایعنیت کی مختلف صورتیں اظہار پاتی نظر آتی ھیں – مگر امیر خسرو لایعنی کو بیان کرنے سے قناعت نہیں کرتے – وہ لایعنیت کو چھان پھٹک کر معنی تک پہنچتے ھیں –
کھیر پکائی جتن سے چرخا دیا جلائے
آٰیا کتّا کھا گیا تو بیٹھی ڈھول. بجائے
لا پانی لا
زندگی کے سارے بے معنی پن اور انسانی جد و جہد کی ساری لاحاصلی کو دیکھنے کے بعد کم از کم ایک سچائی نظر آتی ھے اور ایک فعل با معنی دکھائی دیا —– لا پانی لا –
( * حائل غالباََ سہو کاتب ھے، مائل یہاں بہتر ھوگا)

اپنا تبصرہ بھیجیں