سفر وسیلہ ظفر – رابعہ قریشی




جو لوگ سفر کو اپنی زندگی کی جینے کی وجہ بنا لیتے ہیں …… انہیں “مسافر” کہا جاتا ہے لیکن اصطلاحی معنی میں ایسے لوگوں کو “سیاح” کہا جاتا ہے ۔ اگر ہم سیاحوں کی تاریخ میں نظر دوڑائیے گے تو عظیم مسلمان سیاح “ابن بطوطہ” کا مقام تمام سیاحوں کے مقام سے بلند نظر آئی گا ۔
سفر سے انسان بہت کچھ سیکھتا ہے ۔ جو لوگ جتنا زیادہ سفر کرتے ہیں. …… ان کی معلومات بھی اتنی ہی زیادہ ہوتی ہے ۔ سفر میں انسان طرح طرح کے لوگوں سے ملتا ہے ۔ ان کی زبانیں ، ان کے مزاج ، ان کے مسائل سے آگاہ ہوتا ہے ۔ دوسرے ممالک کے ریت و رواج سے واقفیت حاصل کرتا ہے ۔ اسی طرح سفر کرنے سے انسان کے اندر سے سختی اور ہٹ دھرمی ختم ہوجاتی ہے اور ذہن میں وسعت پیدا ہوتی ہے ۔ سفر میں گھر جیسا آرام و سکون میسر نہیں ہوتا اور طرح طرح کی پریشانیوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے ۔ جس سے انسان میں سخت خوشی کی عادت پیدا ہوتی ہے اور وہ ہر طرح کے ماحول میں خود کو ڈھالنے کے قابل ہوجاتا ہے ۔ اب ہم سیاحت (سفر) کے اس موضوع کی طرف آئی گے کہ سیاحت کیوں ضروری ہے ؟
سیاحت (سفر) اس لئے ضروری ہے کہ سیاحت نہ صرف سیر و تفریح اور صحت افزائی کے لئیے مفید ہے بلکہ سیاحت سے مقامی آبادی اور اس ملک کی اقتصاد کو تقویت ملتی ہے ۔ لوگوں کو کام کے مقام فراہم ہوتے ہیں ۔ سیاحت سے مختلف ثقافتوں اور خطے سے تعلق رکھنے والے لوگوں کا ایک دوسرے کو سمجھنے کا موقع ملتا ہے ۔ اور مختلف اچھی چیزیں ایک معاشرے سے دوسرے معاشرے میں رائج ہوجاتی ہیں ۔ سیاحت کی مختلف اقسام ہیں : جیسے قدرتی نظاروں کو دیکھنے والی سیاحت ، مذہبی سیاحت جس میں لوگ مختلف مذہبی جگہوں کو دیکھنے جاتے ہیں ، تاریخی سیاحت جس میں لوگ آثار قدیمہ وغیرہ دیکھتے ہیں ۔ اوپر میں نے ایک مشہور مسلمان سیاح ابن بطوطہ کا ذکر کیا اب میں ابن بطوطہ کے بارے میں ذرا تفصیل سے ذکر کرو گی ۔ ہم مسلمانوں کو اس بات پر فخر ہونا چاہیے کہ دنیا کے عظیم ترین سیاح “ابن بطوطہ ” ایک مسلمان تھے ۔ انہوں نے روئے زمین پر 75 ہزار میل کا سفر طے کیا اور یہ اس زمانے کی بات ہے جب سفر کی موجودہ سہولیات ناپید تھیں ۔
ہوائی جہاز تو کجا ، ریل اور بس کا سفر بھی محال تھا ۔ ابن بطوطہ کے اس لازوال کارنامے کے آگے مغربی سیاح مارکو پولو ، کولمبس ، واسگوڈ گاما کی حیثیت سورج کے آگے چراغ سی ہے ۔ ابن بطوطہ کا تعلق بربر قبیلہ سے تھا ۔ 1304ء کو افریقی ملک مراکش کے شہر طنجہ میں پیدا ہوئی ۔ ان کا اصل نام ” محمد بن عبد اللہ ” تھا ۔ لیکن ابن بطوطہ کے نام سے مشہور ہوئی ۔ ان کا خاندان کئی نسلوں سے قاضی کے عہدے پر فائز رہا ۔ اگر چہ ابن بطوطہ ایک مشہور سیاح کے طور پر مشہور ہیں لیکن وہ اسلامی قانون کے ماہر ، ایک بہترین ماہر نباتات اور مایہ ناز جغرافیہ دان کے ماہر تھے ۔ انہوں نے نیل کے ساحل سے لیکر کاشغر تک ساری اسلامی دنیا کا سفر کیا اور مسلمانوں کو وحدت کا تصور دیا ۔ آخر کار 1369ء کو اپنے وطن مراکش ہی میں یہ عظیم مسافر اپنے آخری سفر عالم برزخ میں روانہ ہوگئے ۔ ابن بطوطہ جیسے عظیم سیاح کے اتنے طاویل سفروں کو دیکھ کر ان پر اردو کا محاورہ ” سفر وسیلہ ظفر ” فٹ کرنے کا چاہے گا ۔
میں اپنی تحریر کا اختتام اس طرح کرنا چاہو گی کہ ابن بطوطہ جیسے عظیم سیاح کے سفروں کو دیکھ کر ہمیں بھی سیاحت کی طرف توجہ دینا چاہئے کہ جو آجکل ہم مسلمانوں کی طرف سے ناپید ہوچکی بانسبت دیگر ادیان کے جو اپنا مال و زر جمع کرنے کے بجائے سیاحت کو ترجیح دیتے ہیں ۔ میرا آخری پیغام اپنے سمیت سب کے لئے : “سفر انسان کی زندگی کا اہم حصہ ہے اور پہاڑ دامن میں شہر بساو ، جہاز لیکر ان سمندروں کی سیاحت کے لئے جاو جہاں اب تک کوئی نہیں گیا ۔

اپنا تبصرہ بھیجیں