اصلاح معاشرہ – ردا فاطمہ




آج آپ کسی بھی معاشرے کے عمومی مزاج کا جائزہ لیں تو یہ بات واضح ہو جائے گی کہ ایک کثیر تعداد تعمیری مقاصد رکھتی ہے اور یہ لوگ معاشرے کو بہتر بنانا چاہتے ہیں ۔یعنی ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ دنیا کی زیادہ تر آبادی ایک صالح معاشرے کی ہی خواہاں ہے ۔بجا طور پر کہیں نہ کہیں تخریبی ذہن کار فرما ضرور ہے لیکن ایک بڑی تعداد اچھائی کی طرف ہی مائل ہے ۔
اس تجزیے کے پیچھے نرا قیاس و تخیل ہی نہیں ہے یہ ایک فطری حقیقت ہے کہ انسان کے اندر اچھائی اور خیر کے لیے خدا کی طرف سے محبت و کشش اور برائی و تخریب کے لیے نفرت و کراہت پائی جاتی ہے۔ اب غورطلب بات ہے کہ اگر فی الواقعی ایسا ہی ہے تو ہمارے ارد گرد برائی اتنی عام کیوں ہے ۔ اس کے پیچھے میرا اور آپ کا وہ شعور ہے جس کی بنیاد الہامی ہدایت (divine guidance ) ہے۔ایک مسلمان کی زندگی میں نیکی اور بدی کے درمیان کی لکیر اس کا رب کھینچتا ہے ۔یہ لکیر حالات و ضروریات کے تغیر سے آگے پیچھے نہیں ہو سکتی ۔بندہ مومن خیر کے اس دائرے میں رہنے کو اپنے لیے باعثِ نجات سمجھتا ہے۔ مجھے اور آپ کو معاشرے کی اصلاح کی فکر اس لیے ہے کہ ہم دیکھتے ہیں کہ معاشرہ خدا کے اس قانون کی خلاف ورزی کر رہا ہے جو رب نے اپنی فرقان میں درج کر دیا ہے۔ یہ اصلاح، امر بالمعروف و نہی عن المنکر ہے جو مسلمان کی زندگی کا لازم جز ہے۔
کُنۡتُمۡ خَیۡرَ اُمَّۃٍ اُخۡرِجَتۡ لِلنَّاسِ تَاۡمُرُوۡنَ بِالۡمَعۡرُوۡفِ وَ تَنۡہَوۡنَ عَنِ الۡمُنۡکَرِ وَ تُؤۡمِنُوۡنَ بِاللّٰہِ
اب دنیا میں وہ بہترین گروہ تم ہو جسے انسانوں کی ہدایت و اصلاح کے لیے میدان میں لایا گیا ہے ۔ تم نیکی کا حکم دیتے ہو ، بدی سے روکتے ہو اور اللہ پر ایمان رکھتے ہو(آل عمران-110)…… یقیناً اب ہمارے ذہنوں میں یہ بات واضح ہو گئ ہوگی کہ اسلامی نقطہ نظر سے اصلاح معاشرہ کے کیا معنیٰ ہیں ۔اب آئیے اپنے معاشرے میں رائج اس مقبول و معروف معقولے کا جائزہ لیتے ہیں : ” فرد کی اصلاح سے معاشرے کی اصلاح”…… مجھے پوری امید ہے کہ ہم میں سے کوئی بھی اس بات سے انکار نہیں کرے گا کہ فرد کی اصلاح ضروری ہے ۔لیکن کیا فرد کی اصلاح سے معاشرے کی اصلاح ممکن ہے؟ اس بات کو ایک آسان مثال سے سمجھیے ….. اگر میں کہوں ” گھر کی صفائی سے ملک کی صفائی” . ہم سب جانتے ہیں کہ ہم اپنے گھروں کی صفائی و ستھرائی کے معاملے میں کتنے حساس ہیں ۔ایک دن بھی ہم اس کام سے غافل نہیں ہوتے لیکن اس جان توڑ کوشش کے باوجود ہم باہر کہ آلودگی سے بچ نہیں سکتے ۔اب چاہیں تو ہم اپنی ساری توانائیاں بار بار اپنے ہی گھر کو صاف کرنے میں لگائیں یا ایک عقل مند انسان ہونے کا ثبوت دیتے ہوئے اندر کے ساتھ ساتھ باہر کی گندگی کا بھی سد باب کریں۔ اب اگر آپ نے میری تحریر یہاں. تک پڑھ لی ہے اور یہ ارادہ بھی کر لیا ہے کہ آج سے صرف اپنی نہیں دوسروں کی اصلاح کے لیے بھی کوشش کرنی ہے تو اپنے ذہن میں ان چند باتوں کو بٹھا لیں ۔یہ وہ رویے ہیں جو آپ کے لیے اس راہ کی مشکلیں آسان کریں گے۔
سب سے پہلی بات کہ یہ کام آپ کو کسی بھی قسم کی برتری کے احساس سے پاک ہو کر کرنا ہے۔احساس برتری کرخت رویے کی صورت میں ظاہر ہوتا ہے جس کےباعث لوگ آپ سے چھٹ جائیں گے ۔یہ کام اللہ کی طرف سے ہمیں دیا گیا ہے اس میں میرا اور آپ کا کوئی کمال نہیں ۔ہاں یہ ضرور ہے کہ اللہ اپنے بندوں کے اجر ضایع نہیں کرتا ، وہ ضرور ہمارے اجر محفوظ رکھے گا …… دوسری بات یہ کہ اصلاح کرنے کے لیے آپ کو علم کی ضرورت ہے من گھڑت ،خیالی اور جذباتی باتیں شاید ایک مجمع ضرور لگا دیں لیکن نظریے کی کمزوری کے سبب عملی میدان میں یہ لوگ کوئی پیش رفت نہیں دکھا سکیں گے…… اصلاح معاشرہ ایک محنت طلب کام ہے آج آپ مولا بخش لے کر نکلیں اور ایک ایک کو زبردستی مسجد کی راہ دکھائیں تو چاہے آپ کتنی ہی طاقت استعمال کرلیں لوگ قائل نہیں ہوں گے ۔اس میدان میں قدم رکھنے سے پہلے صبر کا توشہ ساتھ ہو اور عزم و دعا میں کسی مقام پر کمی نہ آئے ۔
اپنےذہن سے یہ چیز نکال دیں کہ میں پہلے خود مکمل نیک انسان بنوں گی پھر دوسروں کو دعوت دوں گی۔اصلاح کا عمل زندگی کے آخری لمحات تک جاری رہتا ہے ۔کامل ہونے کی خواہش پوری نہیں ہو سکتی ۔نیک بننے اور نیکی پھیلانے کا کام ساتھ ساتھ جاری رکھیں اس طرح کبھی آپ کسی گرتے کو بچائیں گے اور کبھی کوئی آپ کو۔( اس مقصد کے لیے کسی اجتماعیت سے جڑنا لازم ہے) …… دوسروں کو سننے اور ان کی رائے کا احترام کرنا سیکھیں۔ صرف اپنی سنانا اور منوانا ایک عجلت والا رویہ ہے ۔اپنا موقف سامنے رکھنے کے لیے موقع شناس ہونا چاہیے۔ اس میدان میں کئی نشیب و فراز ہیں ۔ہر بار ایک نئی صورتحال کا سامنا ہوگا اور ان مختلف حالات سے نمٹنے کے لیے حکمت اور بصیرت درکار ہے جس کا منبع قرآن و سنت ہے جہاں سے ہمیں مدد ملے گی ۔ آخر میں ایک ضروری بات ……
” آپ کا اور میرا کام پہنچا دینا ہے ۔کسی کا دل پھیرنا صرف اللہ کا کام ہے اور اللہ اور اس کے دین کا مقام سب سے اونچا ہے اصلاح کی دعوت دیتے ہوئے بھی ہمیں یہ خیال ہونا چاہیے کہ ہم اپنا اور اللہ کے دین کا وقار قائم رکھیں ۔جہاں جانتے بوجھتے اس کے دین کی بے توقیری ہو وہاں سے ہٹ جانا بہتر ہے بجائے اس کے ہم اصلاح کی دہن میں بچھ ہی جا ئیں اور اپنا وقار کھو دیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں