اردو کا املا درست کرلیجئے! – پروفیسر ایم اے رفرف




دوستو ، آج پھر اردو سے متعلق کچھ باتیں کرلیتے ہیں . آج کل جب اخبارات ، چینلز اور سوشل میڈیا پر جس طرح کی اردو دیکھنے اور پڑھنے کو مل رہی ہے ۔ کانوں کو ہاتھ لگانے کو جی چاہتا ہے . کوشش کریں گے ……. آج ہم اردو کی ان عام غلطیوں پر بات کریں جو ہم روزمرہ زندگی میں کرتے ہیں …… لیکن ہمیں پتہ نہیں لگتا کہ ہم کیا غلطی کررہے ہیں۔۔
ابتدائی جماعتوں سے ہی ہمیں اسکولوں میں اتنی توجہ سے اردو نہیں پڑھائی جاتی ، جتنی توجہ سے انگریزی پڑھائی جاتی ہے۔ اگر شروع سے ہی انگریزی کی طرح اردو پر توجہ دی جائے تو اس طرح کی غلطیاں نہ ہوں ….. ایک بار ہم نے کالم میں ،’’ صبح کا ناشتہ‘‘ لکھا ، ایک دوست نے ہماری بھی غلطی پکڑلی ، جب تحقیق کی تو پتہ چلا کہ ناشتہ نہیں ہوتا بلکہ ’’ناشتا‘‘ ہوتا ہے ۔ اسی طرح ہم جب بھی عربی میں ’’انشاء اللہ‘‘ لکھتے ہیں تو غلط ہی لکھتے ہیں ۔ یہ اصل میں ’’ ان شاء اللہ‘‘ ہوتا ہے ۔ روزمرہ کی گفتگو میں ہم اپنے دوست سے جب پوچھتے ہیں کہ آپ کہاں جارہے ہو ؟ تو یہ غلط ہے ، ٹھیک اس طرح سے ہوگا کہ آپ کہاں جا رہے ہیں ؟ جب ہم کسی کو بلاتے ہیں تو کہتے ہیں ….. یہاں پر آؤ ! یہ بھی غلط ہے ۔ “یہاں آؤ”، درست ہے ۔ حرب بحرف لکھنا بھی غلط ہوتا ہے ۔ اسے الگ الگ کردیں ، “حرف بہ حرف” ۔ علیحدہ کو بھی “علاحدہ” کرکے لکھا کیجئے ۔
اگر کوئی مجلس برخواست کرتا ہے تو بالکل ہی غلط کرتا ہے ۔ اصل میں محفل ’’برخاست ‘‘ ہوتی ہے۔ امریکہ کو بھی” امریکا ” لکھیں گے تو اس کا جغرافیہ تبدیل نہیں ہوجائے گا ۔ لاپرواہی لکھتے ہوئے بھی ’’لاپروائی‘‘ کا مظاہرہ نہ کریں …….. اور جب بھی کسی کام کی حامی بھریں تو ’’ہامی‘‘ بھریں ۔ دھوکا ، بھروسا ، چکما وغیرہ جتنے ہندی الفاظ ہیں ، ان سب کے آخر میں الف ہے ’’ہ‘‘ نہیں ، اس لئے انہیں دھوکہ ، بھروسہ ، چکمہ وغیرہ لکھنا غلط ہے!!!!! اسی طرح اصل لفظ ’’پروا‘‘ ہے ….. پرواہ نہیں، اس کے آخر میں ’’ہ‘‘ نہیں لکھنی چاہئے۔ چودھری کو بعض لوگ چوہدری لکھتے ہیں ، یہ غلط ہے ، صحیح املا چودھری ہے ۔ معمّا کو تقریباً سب ہی لوگ ’’معمّہ ‘‘ہی لکھتے ہیں جو غلط ہے ، صحیح لفظ معمّا ہے۔۔بعض لوگ دْعا کے بعد آمین ثمہ آمین لکھ دیتے ہیں، حالانکہ صحیح یہ ہے ۔ آمین ثم آمین
اگر آپ ’’استفادہ حاصل‘‘کریں گے تو یہ بالکل غلط ہوگا ، اس کے لئے جملہ یوں بنے گا’’استفادہ کرنا‘‘یا پھر’’فائدہ حاصل کرنا‘‘ کیونکہ گرامر کی رو سے لفظ ’’استفادہ‘‘ میں ’’حصول‘‘ کے معنی خود بخود موجود ہے۔اس لیے لفظ ’’استفادہ‘‘ کے ساتھ ’’حاصل‘‘ کا لفظ محض تکرار بنتا ہے جو کہ گرامر کی رو سے غلط ہے ۔ اسی طرح ،آب زم زم کا پانی، لب سڑک کے کنارے، پھولوں کا گلدستہ ۔۔درحقیقت میں، دراصل میں۔۔وغیرہ وغیرہ بھی کثرت سے لکھے جاتے ہیں ۔ حالانکہ آب کا مطلب بھی پانی ہے۔۔لب کا مطلب کنارے ، پھول اور گُل ایک ہی چیز ہے، اور ’’در‘‘ میں ’’میں ‘‘ کے معنی شامل ہے۔ عربی زبان سے ناواقفیت کی وجہ سے بعض اوقات اردو میں موجود عربی الفاظ کو لکھا بھی صحیح نہیں جاتا۔ مثلاً استعفاء (باب استفعال کے مصدر) کو استعفیٰ، استثناء کو استثنیٰ، ٰ اور مدعیٰ علیہ کو مدعا علیہ لکھ دیا جاتا ہے۔ اس قسم کی املا کی غلطیاں بھی ہمارے اخبارات اور اردو نثر میں کافی پائی جاتی ہیں ۔
اسی طرح کئی الفاظ ہم روانی میں اس طرح لکھ جاتے ہیں جو املے کی غلطی کی وجہ سے کچھ کے کچھ معنی دے جاتے ہیں۔۔ ہمارے بہت سے دوست تو ایک طرف، جہاں ’’فریج‘‘ کی مرمت کی جاتی ہے وہاں بھی فریج کی ’’ی‘‘ غائب کردیتے ہیں جس کی وجہ سے معنی ٹوٹل ہی تبدیل ہوجاتے ہیں۔۔اسی طرح سالہ اور سالا دونوں ہی درست ہیں لیکن جہاں رشتے کا ذکر ہووہاں سالہ لکھنا حماقت ہوگا۔۔ چارا اور چارہ بھی ٹھیک ہے، لیکن جانوروں کو کبھی ’’چارہ‘‘ ڈالنے کی کوشش نہ کیجئے گا ورنہ جانور بھوکا رہ جائے گا۔۔نالا اور نالہ دونوں کے معنی الگ الگ ہیں، جب بھی بارشیں ہوں تو ٹی وی کی اسکرین پر ’’نالا ‘‘ نہیں بلکہ ’’ نالہ‘‘ بہادیاجاتا ہے، جب کہ نالہ کا مطلب،فریاد،آہ و زاری ہوتا ہے۔۔۔جامع مسجد کو جامعہ مسجد کبھی نہ لکھیں۔۔خورونوش کو اکثریت خوردونوش لکھتے ہیں۔۔اسے بھی درست کرنے کی ضرورت ہے۔۔ کارروائی میں دوبار ’’ر‘‘ نہیں ڈالیں گے تب تک ’’کارروائی‘‘ عمل میں نہیں آسکے گی۔۔
عام سننے میں آتا ہے،اس عمارت میں سفید سنگِ مرمر کا پتھر لگا ہوا تھا۔اس میں دہری غلطی ہے۔’’برائے مہربانی ‘‘بھی غلط ہے۔۔درست ’’ براہ مہربانی ‘‘ہے۔۔ برائے اور براہ کے معنی ذہن میں رہیں تو غلطی کا احتمال کم رہتا ہے۔ برائے ( کے لیے) اور براہ ( کر کے)۔ دونوں الفاظ درست ہیں لیکن معنی کے لحاظ سے استعمال میں ذرا فرق ہے۔۔مثال کے طور پر اگر آپ لکھتے ہیں،درخواست برائے رخصت یعنی رخصت کے لیے درخواست۔۔اگر اسے یوں لکھیں کہ ، درخواست براہ رخصت تو معنی ہوں گے رخصت کر کے درخواست ۔۔اسی طرح۔۔ پانی کا تالاب۔۔کہنا بھی غلط ہے، یہاں پانی فالتو ہے، پانی بچائیں کیوں کہ پانی کی ہمارے ملک میں شدید قلت ہے، جب تالاب میں ’’آب‘‘ موجود ہے تو پھر فالتو میں پانی ضائع کرنے کا کیا فائدہ۔
ناجائزتجاوزات بھی میڈیا میں غلط استعمال کیاجاتا ہے، تجاوزات ہوتی ہی ناجائز ہیں۔۔۔میڈیا والے ’’فوج کا سپہ سالار‘‘ بھی ہمیشہ غلط ہی لکھتے ہیں ……. جب کہ ’’سپہ‘‘ کا مطلب ہی فوج ہوتا ہے۔۔ اس لئے فوج کا سالار یا صرف سپہ سالار ہی لکھاجائے تو زیادہ مناسب ہوگا۔۔۔ہم لوگ عام گفتگو میں کبھی کبھی کچھ اس طرح کہتے ہیں ۔۔اس کے کام کا طریقہ کار ٹھیک ہے یا غلط ہے۔۔اس جملے میں ’’کام یا کار‘‘ اضافی ہے۔۔ دوبارہ دہرانا میں ‘‘دوبارہ‘‘ فالتو ہے۔۔اسی طرح سبز زمرد اور سرخ یا قوت میں سبز اور سرخ فالتو ہیں چونکہ زمرد اور یا قوت ہوتے ہی سبز اور سرخ رنگ کے قیمتی پتھر ہیں۔کالی سیاہی میں کالی فالتو ہے چونکہ سیاہی ہوتی ہی کالی ہے۔۔نیلی ،سرخ اور سبز روشنائی ہوتی ہے۔۔
ایک غلطی جو بازاروں سے شروع ہو کر اب کتابوں تک پہنچ چکی ہے وہ یہ ہے کہ لفظ ’’عوام‘‘ کو مونث کرکے اسے واحد بنا دیا گیا ہے۔چنانچہ پہلے جو عوام (عام کی جمع) ہوتے تھے‘ اب ہوتی ہے۔ بعض تعلیم یافتہ لوگ بھی کہنے لگے ہیں ’’ہماری عوام بہت باشعور ہے ‘‘ . ہمیں عوام کے مونث ہوجانے پر اتنا اعتراض نہیں اس لیے کہ دنیا بھر میں صنفی تناسب اور ’’تعصب‘‘ عورتوں کے حق میں ہموار ہورہا ہے۔ اصل رونا اس بات کا ہے کہ ان بے چاروں (یا بے چاریوں) کو واحدکردیا گیا ہے۔۔اردو کے بعض الفاظ کے املا میں بلاوجہ اضافہ کر دیا گیا ہے۔۔ مثال کے طور پر انکسار کی جگہ انکساری،تقرر کی جگہ تقرری، تنزل کی تنزلی،تابع کی جگہ تابعدار، مع کی جگہ بمع یا بمعہ لکھنا عام ہوگیا۔۔جسے درست کرنے کی کوشش کرنی چاہیئے۔
ایک لفظ اور یاد آیا’’صہیونیت‘‘ (ص ہ ی ون ی ت) جو یہودیہوں کی عالمی تنظیم ہے۔ اسے اخبارات میں بھی عام طور پر’’صیہونیت‘‘ (ص ے ہ ون ی ت) لکھا جارہا ہے۔ تعجب اس پر ہوتا ہے کہ اردو ڈکشنری بورڈ کی شائع کردہ لغت کی بارہویں جلد کے صفحہ 1028 پر بھی ’’صیہونیت‘‘ کوبھرپورتحفظ فراہم کیاگیا ہے۔۔کسی کو مخاطب یا حکم دیتے وقت ’’ں‘‘ کا استعمال بھی غلط ہے۔۔مثال کے طور پر اگرکہیں اعلان لگانا ہے تو لوگ لکھتے ہیں، میرے پیارے بھائیوں۔۔اس میں ’’ں‘‘ غلط ہے۔۔ہم بھی کالم کی شروعات ’’دوستو‘‘ سے کرتے ہیں،کچھ حضرات ماہ رمضان کا مہینہ کہتے ہیں یہ غلط ہے۔۔یا تو ماہ رمضان ہوتا ہے یا رمضان کا مہینہ یعنی ماہ اورمہینہ کا مطلب ایک ہی ہے۔۔
جس طرح عوام کو مونث بنادیاگیا ہے جو بالکل غلط ہے، اسی طرح ہم میڈیا (برقی،ورقی) والوں کویاد رکھنا چاہیئے کہ بعض اسم مشترک ہوتے ہیں جو مذکراورمونث دونوں کے لئے ہی بولے جاتے ہیں جیسے ۔۔حضرت، جناب، زوج،یتیم، کھلاڑی، مسافر، مہمان، صدر، وزیر، دوست،بچہ، دشمن وغیرہ۔۔لیکن رشتوں کی تذکیر و تانیث یعنی مذکر،مونث میں ایک بات کا خاص خیال رکھنا ہو گا۔۔ تایاتائی، ابااماں، ماموں ممانی، چچا چچی، بیٹا بیٹی، بھائی بہن۔ …….! ہماری درسی کتب میں اسی طرح کی مذکر مونث بتائی جاتی ہے اور ہم بھی خوشی خوشی رٹ لیتے ہیں۔۔تایاسے لے کر چچاچچی تک بالکل ٹھیک ہے لیکن بیٹابیٹی،بھائی بہن درست نہیں۔۔بیٹا کی مونث بہو ، بیٹی کا مذکر داماد اور بھائی کی مونث بھاوج اور بہن کا مذکر بہنوئی ہوتا ہے۔
ایک اور جملہ جو ہمارے میڈیا میں رپورٹرز بہت تواتر کے ساتھ کے استعمال کرتے ہیں،وہ جملہ کچھ یوں ہے۔۔’’تقریب کے موقع پر‘‘۔۔ تقریب کے لفظ میں موقع کا مفہوم شامل ہے،ہم تقریب میں یا تقریب پر کہہ سکتے ہیں۔لفظ جدت کے ساتھ نئی کا لفظ لگانابھی غلط ہے کیونکہ جدت میں نئی کا مفہوم شامل ہے۔۔بوقتِ ضرورت میں ب فالتو ہے،درست وقتِ ضرورت ہے۔۔باقاعدہ طور ہر۔۔۔اس میں ’’طور پر‘‘ اضافی ہے،درست باقاعدہ ہی ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں