صحتِ زباں: توتا یا طوطا، توتی یا طوطی ؟ – ڈاکٹر رؤوف پاریکھ




کچھ عرصے قبل انہی کالموں میں لفظ’’ توتا ‘‘کا ذکر چلا تھا اور ہم نے عرض کیا تھا کہ ہرے رنگ کے اس پرندے کا درست املا ’’ت ‘‘ سے توتا ہے اور اس کو’’ط ‘‘ سے طوطا لکھنا غلط ہے . اگرچہ یہ غلط املا یعنی طو ئے (ط) سے طوطا اردو میں بہت زیادہ رائج ہے ۔ بقول رشید حسن خاں ، اردو کے اہم لغت نگاروں نے وضاحت کردی ہے کہ ’’طوطا‘‘ غلط املا ہے اور اس کو ہمیشہ ’’توتا‘‘ لکھنا چاہیے۔ (اردو املا ، ص۱۳۱) ۔
اس پر سوال یہ اٹھتا ہے کہ پھر طوطی کا کیا ہوگا ؟یعنی اگر لفظ توتا درست ہے اور اس کی مونث توتی ہوگی ، تو پھراردو کے محاورے ’’طوطی بولنا ‘‘کا کیا ہوگا؟ اسے توتی بولنا(ت سے ) لکھا جائے گایا طوطی بولنا (ط سے)؟ اسی طرح’’ نقار خانے میں توتی(ت سے) کی آوازکون سنتا ہے ‘‘لکھا جائے گا یا ’’ نقار خانے میں طوطی (ط سے) کی آواز کون سنتا ہے‘‘ لکھنا چاہیے؟ نیز یہ کہ توتی؍طوطی بولتی ہے یا توتی؍طوطی بولتا ہے میں سے کون سا استعمال درست ہے؟ عرض ہے کہ اردو کی متداول لغات میں اس ضمن میں دومختلف الفاظ درج ہیں۔ سبز رنگ کے پرندے کے مفہوم میں ایک لفظ ’’توتا ‘‘ ہے (تے سے ) اور اس کی تانیث کے طور پر ’’توتی‘‘ (تے سے )کا لفظ رائج ہے۔ البتہ جو لوگ توتا کو طوئے سے طوطا لکھنے پر(غلط طور پر) اصرار کرتے ہیں وہ اس کی تانیث کوتوتی(تے سے ) نہیں بلکہ طوطی (طوئے سے )لکھتے ہیں ۔
لیکن ایک دوسرا لفظ بھی لغات میں درج ہے اوریہ طُوطی یا تُوتی ہے جوہرے رنگ کے پرندے یعنی توتا کی تانیث نہیں ہے ۔ بلکہ یہ ایک بالکل الگ لفظ ہے اور اس کا تلفظ بھی الگ ہے۔ فرہنگ ِ آصفیہ میں’’ توُتی ‘‘ کے بارے میں لکھا ہے کہ یہ ایک ’’خوش آواز چھوٹی سی سبز یا سرخ رنگ کی چڑیا کا نام ہے جو تُوت کے موسم میں اکثر دکھائی دیتی اور شہتُوت کمال رغبت سے کھاتی ہے ، چنانچہ اسی وجہ سے اس کا نام تُوتی رکھا گیا ۔ اہل ِدہلی اس کو مذکر بولتے ہیں ……. گو بقاعدۂ اردو تانیث ہے۔ فارسی والے توتے کو بھی طُوطی کہتے ہیں ۔‘‘ گویا’’تُوتی‘‘ ایک الگ پرندہ ہے ، جس کا تلفظ تُو تی ہے یعنی اس میں واو معروف ہے اور اسے واو ِمجہول سے یعنی ’’موتی ‘‘ یا ’’دھوتی‘‘ کی طرح نہیں بلکہ واو معروف سے یعنی ’’جُوتی ‘‘کی طرح بولنا چاہیے۔ دوسری بات یہ کہ تُوتی ( جُوتی کا قافیہ)مونث نہیں ہے اور اسے مذکر ہی کے طور پر برتا جاتا ہے ، جیسے اس میدان میں فلاں صاحب کا ’’تُوتی بولتا ہے‘‘(نا کہ تُوتی بولتی ہے ) ۔ البتہ اس کا ایک املا طوئے سے یعنی طُوطی بھی درست مانا جاتا ہے یعنی ’’طُوطی بولتا ہے‘‘ بھی درست ہے۔
اس سلسلے میں ایک دل چسپ واقعہ مولوی سید احمد دہلوی نے اپنی کتاب ’’محاکمۂ مرکز ِ اردو ‘‘ کے علاوہ اپنی لغت ’’فرہنگِ آصفیہ ‘‘ میں بھی درج کیا ہے۔جسے ہم مختصراً پیش کرتے ہیں۔واقعہ یوں ہے کہ استاد ابراہیم ذوق دہلوی نے ایک لکھنوی شاعر کی زمین میں غزل کہی جس میں ایک شعر یہ بھی تھا:
ہےقفس سےشوراک گلشن تلک فریاد کا
خوب طُوطی بولتا ہے ان دنوں صیاد کا
ایک لکھنوی شاعر نے سن کر اعتراض کیا کہ آپ نے طوطی کو مذکر باندھا ہے . حالانکہ اس میں یاے معروف (یعنی چھوٹی ی)علامت ِ تانیث موجود ہے۔ ذوق نے کہا کہ محاورے میں توتی مذکر ہی ہے اورمحاورے میں کسی کا اجارہ نہیں ہوتا۔اور پھرانھیں اپنے ساتھ دہلی کی جامع مسجد کے قریب لگنے والے پرندوں کے بازار میں لے گئے ۔ ایک دہلی والے صاحب طوطی کا پنجرہ لیے آرہے تھے ۔ لکھنوی شاعر نے پوچھا ’’بھیا تمھاری طوطی کیسی بولتی ہے؟‘‘اس دہلوی نے جواب دیا ’’میاں تمھاری بولتی ہوگی، یاروں کا طوطی تو خوب بولتا ہے ‘‘۔لکھنوی شاعر بہت خفیف ہوئے اور اپنا سا منھ لے کر رہ گئے۔ گویاتُوتی بولنا یا طُوطی بولنا محاورہ ہے لیکن اس میں جو پرندہ ہے وہ مذکر ہے اوریہاںیہ لفظ توتا (یا طوطا ) کی مونث کے طور پر نہیں آتا ۔ اس لیے یوں کہا جائے گا کہ ان کا تُوتی بولتا ہے اور نقار خانے میں تُوتی(مذکر ) کی آواز کون سنتا ہے۔
فرہنگ ِ آصفیہ میں تُوتی بولنا اورتُوتی کی آواز نقار خانے میں کون سنتا ہے جیسے اندراجات میں تُوتی کو تے(ت) سے توتی لکھا ہے ۔ گویا صاحب ِ فرہنگ ِآصفیہ اس کے املے میں’’ ط‘‘ کو نہیں بلکہ ’’ت ‘‘کو ترجیح دیتے ہیں۔ ہاں البتہ صاحب ِ فرہنگ ِ آصفیہ نے یہ بھی لکھا ہے کہ چونکہ فارسی میں اس کا املا معرّب ہوگیا ہے لہٰذا اسے طوطی (ط سے )لکھنا بھی جائز ہے۔اثر لکھنوی نے ’’فرہنگ ِ اثر ‘‘ میں لکھا ہے کہ توتی ؍طوطی بولنا میں تذکیر کے ضمن میںدہلی کی تخصیص نہیں ہے ،’’ لکھنؤ میں بھی بلا تفریق مذکر ہے ‘‘ (جلد چہارم، مقتدرہ قومی زبان، ص ۲۷۷)اور پھر سحرؔ اور برقؔ(جو لکھنوی شعرا تھے) کے اشعار مذکر کی سند کے طور پر دیے ہیں۔
اس ساری گفتگو کا خلاصہ یہ ہے کہ:
۱۔ توتا کی مونث توتی ہے اور اس کا تلفظ واو مجہول سے یعنی موتی اور دھوتی کی طرح ہے ۔
۲۔ لیکن تُوتی ایک الگ پرندہ ہے جس کا تلفظ واو معروف سے یعنی جُو تی کی طرح ہے۔
۳۔ تُوتی کامعرب املا طُوطی بھی ہے جو فارسی میں بھی رائج ہے۔
۴۔ اگرچہ طُوطی یا تُوتی ایک قسم کی چڑیا کا نام ہے لیکن اردو میں اسے مذکر ہی بولا جاتا ہے ۔ اسی لیے درست محاورہ ہوگا طُوطی (یا تُوتی) بولتا ہے۔
بشکریہ The Green Thoughts
اطہر ہاشمی صاحب urdu.i360.pk میں لکھتے ہیں کہ …….. روزنامہ جنگ نے بچوں کے لیے ایک اچھا قاعدہ شائع کیا ہے۔ اس میں ’’طوطا‘‘ ط سے ہے، جب کہ یہ ’’توتا‘‘ ہے۔ عزیزم راشد رحمانی نے اس کاوش کو سراہتے ہوئے طوطے پر اعتراض کیا ہے کہ یہ قاعدہ پڑھ کر بچے ’ط‘ سے توتا لکھیں اور پڑھیں گے۔ ’ت‘ سے یا ’ط‘ سے توتا کا جھگڑا پرانا ہے۔ بابائے اردو مولوی عبدالحق نے تو طوطے کو توتا کردیا تھا لیکن عام لوگوں تک اس کا ابلاغ نہیں ہوا۔ مرحوم ابن انشا نے اس پر تبصرہ کیا تھا کہ ’’طوطا جب تک ط سے نہ لکھا جائے، اس کی چونچ واضح نہیں ہوتی‘‘۔ یہ تو خیر ایک مزاحیہ جملہ تھا۔ لیکن توتا چونکہ ہندی کا لفظ ہے اور ہندی میں ’ط‘ نہیں ہوتی۔ یہ خالص عربی حرف ہے۔ چنانچہ طوطے کو بھی بغیر ’ط‘ کے ہونا چاہیے۔ لیکن جب ’طوطا‘ اتنا عام ہوگیا ہے تو ہمارے خیال میں اس کو ’توتا‘ کرنے کی خاص ضرورت نہیں ہے۔
مولوی نورالحسن نیّر مرحوم کی لغت نوراللغات میں بھی وضاحت کی گئی ہے کہ توتا کا املا ’طوطا‘ صحیح نہیں ہے۔ توتا پالنا محاورہ بھی ہے۔ یعنی کسی بیماری کا علاج نہ کرکے اسے طول دینا۔ جیسے یہ مصرع
اے قدر یہ خوب تم نے توتا پالا
توتا چشمی مشہور ہے۔ یہ پرندہ بے وفا ہوتا ہے۔ استاد بحرؔ کا شعر ہے
بحرؔ چشم دوستی سبزان دنیا سے نہ رکھ
بے وفا سب ہیں یہ توتا چشم کس کے یار ہیں
توتے کا رشتہ دار ایک پرندہ ’’توتی‘‘ بھی ہے۔ لغت کے مطابق یہ توت کے موسم میں اکثر دکھائی دیتی ہے اور شہتوت کمال رغبت سے کھاتی ہے، اسی وجہ سے اس کا نام توتی رکھا گیا۔ اہلِ عرب نے اس کا املا طوطی کرلیا ہے۔ اب نقارخانے میں طوطی کی صدا کوئی نہیں سنتا۔ خیال آیا کہ جب عربوں نے توتی کو طُوطی کرلیا تو توتے کو طوطا کرنے میں کیا قباحت ہے۔ لوگ طُوطی کو طوطے کی مونث بھی سمجھتے ہیں جب کہ یہ خود مذکر ہے۔ یہ طوطی صرف نقار خانے ہی میں نہیں بولتا بلکہ دربار، سرکار میں بھی اس کا چرچا رہتا ہے، جیسے یہ جملہ ’’آج کل وزیراعظم کے ہاں وزیرخزانہ کا طوطی بولتا ہے‘‘۔ اب قارئین یہ نہ کہہ بیٹھیں کہ ہم تو پرندوں پر پِل پڑے اور پُل باندھ دیا ۔ چنانچہ منہ کا مزہ بدلنے کے لیے ایک ٹی وی اینکر کا جملہ ’’مبلّغ10کروڑ روپے دیے گئے‘‘۔ موصوف کو مبلّغ اور بغیر تشدید کے مبلغ کا فرق نہیں معلوم ہوا۔ یہ ہمارے کچھ ساتھیوں کا مبلغ علم ہے۔ “اطہر ہاشمی(urdu.i360.pk)”
سب سے آخر میں میں عرض کردوں کہ بچپن سے ہی ہمدرد نونہال میں طوطا کو توتا پڑھا ……. جس پر حکیم محمد سعید صاحب نے خود بھی ایک مضمون قلمبند کیا تھا . جس میں بتایا گیا تھا کہ لفظ توتا ہندی زبان کا لفظ ہے اور املا قواعد کی رو سے ہندی کا کوئی لفظ طوئے سے نہیں لکھا جاسکتا اس لئے اصل املا توتا ہی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ہمدرد نونہال میں ہمیشہ “ توتا” ت سے ہی لکھا جاتا ہے۔ سنسکرت زبان کے لفظ ‘تھوت + اکہ’ سے ماخوذ ہے ۔ سنسکرت میں تھوتیا گہرے سبز رنگ کو کہا جاتا ہے۔ جیسے کہ نیلا تھوتھا۔ اردو میں بطور اسم مستعمل ہے۔ اور تصرف کے ساتھ اردو میں مستعمل ہوا۔ اردو میں سب سے پہلے ١٨٠٥ء کو “آرائش محفل” میں مستعمل ملتا ہے۔
* معانی
* مرکبات
* انگریزی ترجمہ
اسم نکرہ ( مذکر – واحد )
جنسِ مخالف : توتی [تو (و مجہول) + تی]
واحد غیر ندائی : توتے [تو (و مجہول) + تے]
جمع : توتے [تو(و مجہول) + تے]
جمع غیر ندائی : توتوں [تو (و مجہول) + توں (و مجہول)]
١ – ایک سبز رنگ کا پرند جس کی چونچ سرخ اور گلے میں طوق ہوتا ہے۔
مثال
“اس کی جان اس طرح نکل جاتی جیسے پنجرے کی قید سے جنگلی توتا۔” ( ١٩٢٨ء، پس پردہ، ١٠٢ )

اپنا تبصرہ بھیجیں