حیراں ہوں دل کو روؤں کہ پِیٹوں جِگر کو میں – افشاں نوید




جب شب تنہائی میں آپ کے ہاتھوں میں کلیات اقبال ہو تو اقبال بابا کیا کیا سرگوشیاں نہیں کرتے …….. دھیرے سے آپ کے شانے پر ہاتھ رکھ کر جب آپ خیالات کے ہجوم میں ہوں . شہادت کی انگلی سے کوئی اشارہ کردے کہ یہ ہے راہ راست …….! بس آپ کا ابا وہی ہوتا ہے جس سے سیکھنے کو آپ کا من چاہے۔
جو آپ کا ہاتھ تھام کے رب سے جوڑ دے ۔ جس کی صحبت تازہ گلابوں جیسی آپ کے اطراف رچ بس جائے ۔ نصف صدی پہلے گزر جانے والے آج آڈیو , وڈیوز میں زندہ ہیں ۔ ہم جیسے ہزاروں زانوئے تلمذ تہہ کرتے ہیں ان کی نشستوں میں ۔ ایک ایسے بابے , دنیا کے ہنگاموں میں بھی تنہا , شہادت حق میں زندگی گزار کر رب کے حضور حاضر ۔ کل انکی وڈیو سنی کہہ رہے تھے۔
“ایسا کیسے ہوسکتا ہے کہ آپ مشہور ہوں اور آپ کو شہرت کی چاٹ نہ لگے۔ آپ اسٹیج کی شخصیت ہوں اور شیطان آپ کے کان میں کچھ نہ کہتا ہو۔ ایسے لوگوں کو زیادہ صدقہ کرنا چاہیے ۔ زیادہ استغفار کرنا چاہیے ۔”
واقعی شہرت کا مشروب دنیا کا لذیذ ترین جام ہے۔ شہرت سے بہتر کوئی چاٹ دریافت ہی نہیں ہوئی۔ جب آپ کا من کہتا ہے۔۔۔ بہت بہت خاص ہیں آپ …..! آپ تو بس آپ ہی ہیں۔ لوگ یونہی تو نہیں آپ کے گرویدہ۔ تب آپ بہانے ڈھونڈتے ہیں لوگوں کے بیچ آنے کے۔ ان کی توجہ آپ کی زندگی کی بڑی ضرورت بن جاتی ہے۔ نفس بھی تو ہے نا۔۔شانے تھپتھپاتا ہے۔ کہاں تم جیسا کوئی دوسرا ……! پھر آپ نظر بھی بن جاتے ہیں اور منظر بھی۔ ہر منظر آپ کو خود کے بن ادھورا لگتا ہے۔ آپ چاہتے ہیں لوگ ہر منظر میں آپ ہی کو دیکھیں۔ اگر بصارت کی دولت سے اللہ نے نوازا تھا تو آپ اپنی نظر سے بندوں کو رب کی دنیا دکھاتے۔ یہاں تو ہر منظر میں آپ خود ہیں۔ اقبال تو کہتے تھے کہ
دیکھا ہے جو کچھ میں نے اوروں کو بھی دکھلادے
ہمارا دنیا کو دیکھنا اہم ہے یا لوگوں کا ہمیں دیکھنا
پرانی شناسا, کل ملیں بہت آزردہ۔
“میں تقریب میں گئی اب لوگ صرف خاندان کے ساتھ سیلفیاں بنوانے کے لیے تقریب میں آتے ہیں ۔ ایک ایک تقریب کی اتنی فوٹوز ۔ ایک دن کی اتنی سیلفیاں۔” تصویر کی “حرمت” کی یونہی شرع نے بات نہیں کی تھی۔ ہم وہ آخری نسل ہیں جس کے پاس اپنے آباء کی دوچار ہی تصاویر ہیں۔ پہلے تصویر اخبار میں چھپتی تھی ۔ ٹی وی پر کوئی آتا تھا تو کوئی بڑا کام کیا ہوتا تھا۔ اب فیس بک کی اس دنیا میں ہر ایک یاترا کا خوگر ہے۔ فیس , فیس , فیس ….! ایسا کیا تاریخی کام کیا ہے ہم نے کہ ہم خود کو دکھانے کے مشتاق ہیں۔ خود نمائی اور خودستائی ایسا کینسر ہے جو فورتھ اسٹیج پر تشخیص ہوتا ہے۔
نوجوان تھک نہیں رہے,ہم بڑے بھی انہی نوجوانوں کو پیروں کا استاد سمجھ کر اسی آپا دہاپی میں چل پڑے۔ ایسا نہ ہو سیرابی کی تلاش کا آخری سرا سراب نکلے۔ زیادہ کھانے سے ڈائریا ہو جاتا ہے۔ زیادہ دیکھنے سے جو کیفیت ہوتی ہے اسی ڈائریائی کیفیت میں لکھی گئی اس تحریر پر ان سب سے معذرت جن کی دل شکنی ہوئی.

اپنا تبصرہ بھیجیں