یہ دنیا اقدام کرنے والوں کی ہے – زبیر منصوری




اس نے کہا فلاں اچھا میگزین اب ماشااللہ اتنے ہزار چھپتا ہے……. ! میں نے سوالات کی بوچھاڑ کر دی . چھپتا ہے مگر بکتا کتنا ہے اور بٹتا کتنا ؟ پڑھا کتنا جاتا ہے اوربس پڑا کتنا رہتا ہے . سمجھا کتنا جاتا ہے اور معاشرے پراثر کتنا ڈالتا ہے . کتابیں ردی میں بکنے پر میرا دوست افسردہ تھا . میں بھی دُکھی ہوا مگر میں نے کہا
پیارے کتاب لکھنے سے پہلے یہ سوچا جانا چاہئیے کہ یہ بس آپ کی خواہش ہے یا قاری کی ضرورت و طلب ؟ اسے کون کتنا پڑھے گا کیوں پڑھے گا اور کیا اس کی قیمت افورڈ کر سکے گا ؟ کیا سمجھ آ جائے گی ؟ کیا اس کی زبان اسلوب الفاظ پچھلی نسل کے تو نہین جو آج والوں کو سمجھ ہی نہ آتے ہوں ؟ کیا میڈیم بدل تو نہیں چکا ؟ کیا آپ سائبیریا میں اے سی اور سبّی میں جون مین ہیٹر بیچیں گے تو کوئی لے گا ؟ آپ کا ٹارگٹ آ ڈینس کون ہے کیوں ہے کس عمر کا ہے کیا دلچسپیاں ہے کہاں ہوتا ہے کس ٹول سے اس تک پہنچا جا سکتا ہے یہ سب کتاب لکھنے سے پہلے سوچا گیا تھا ؟
یہ درست کہ کتاب سے محبت ہونی چاہئیے یہ بھی درست کہ سامنے والے کے معیار کو اوپر لایا جائے مگر زمینی حقائق کے مطابق اس کے طریقے کیا ہوں ؟ کبھی اس پہ سوچا ؟ دیندار حلقے ابلاغ کے جدید ذرائع میں بس بمشکل آدھے پونے فالوور بن کر رہ گئے ہیں وہ بھی کئی کلو میٹر کے فاصلے سے ۔۔جبکہ ان کے اسوہ حسنہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ابلاغ ہو یا جنگ ……. سفارت کاری ہو یا بین الانسانی تعلقات ……. معاشرت ہو یا اخلاق و معیشت ، ہر شعبہ میں پہل کرنے والے ،دشمن کو حیران کر دینے والے نئے منفرد بڑے کام کر دئیے۔
یہ دنیا اقدام کرنے والوں کی ہے ، پیچھے چلنے والوں کی نہیں . تخلیق کرنے والوں کی ہے ، نقل کرنے والوں کی نہیں . بہت آگے دیکھ کر منصوبے بنانے والوں کی ہے ، پچھلے منصوبہ عمل کی فوٹو اسٹیٹ کرانے والوں کی نہیں پیش کر غافل عمل اگر کوئی دفتر میں ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں