کلاسکل افسانے اور ہماری ثقافت – جویریہ سعید




جذبات کو خوبصورت الفاظ میں بیان کرنا آجاۓ تو یہ لکھنے کا پہلا مرحلہ ہوتا ہے ……… اس کے بعد خیال اور اس کی جہتیں اہم ہو جاتی ہیں . واردات قلبی کا بیان کسی فرد کی نہیں بلکہ انسان کی کہانی بن جاتا ہے . منظر کےمقابلے میں پس منظر اور المیہ سے زیادہ انسانی ردعمل کے پہلو اہم ہو جاتے ہیں . اگر نگاہیں منظر کے حسن اور سطح پر پائی جانے والی جذباتیت میں ہی الجھ کر رہ جائیں اور پس منظر تک نہ پہنچ سکیں تو کہانی میلوڈرامہ بن کر رہ جاتی ہے.. اور اس کے پرستاروں میں سطحی جذباتیت کا ذوق پروان چڑھتا ہے۔
بڑے افسانے میں الفاظ بھاری نہیں ہوتے، خیال بھاری ہوتا ہے۔ ثقیل الفاظ و تشبیہات اور بوجھل مکالموں کا استعمال ضروری نہیں۔ سادہ الفاظ اور سادہ واقعے سے کسی بڑی انسانی سچائی کی طرف اشارہ مل جاتا ہے۔ بڑے افسانہ نگاروں کے یہاں مصنوعی اور پرتکلف تام جھام نہیں ملتی ۔ عبارت کی سادگی ، الفاظ کی موزونیت اور تحریر کی روانی نظر آئے گی۔ واقعات تو پیش آتے رہتے ہیں۔ اس لیے قصہ بیان کیے جانے کے باوجود واقعے پر فوکس نہیں ہوتا ۔۔ بلکہ واقعہ جس بڑی سچائی کا ایک اظہاریہ یا عکس ہوتا ہے۔ بڑی کہانی کا فوکس اس پر ہوتا ہے۔ کہانی اصل شے نہیں ، کہانی کے پیچھے انسانی نفسیات کا مطالعہ اصل شے ہے۔ وہ پیش کیا جاتا ہے۔ کردار نگاری میں صرف بے تحاشا حسن و ادا یا بد صورتی یا مسکینی یا ظالم یا نیک ہی نہیں دکھایا جاتا۔ انسان کے گرے ایریاز دکھائے جاتے ہیں، نفسیات کے مخفی حصے منظر عام پر لائے جاتے ہیں، نفسیاتی کشمکش کی جھلک بھی پیش کی جاسکتی ہے۔ اس طرح وہ مناظر میں رچ بس جاتے ہیں۔
اشفاق احمد کا گڈریا جسے سب بڑا افسانہ کہا گیا۔ کیسی سادہ تحریر ہے۔ پریم چند کا کفن دیکھیے۔ احمد ندیم قاسمی کے افسانے پڑھیے۔ گورکی اور چیخوف کے افسانے دیکھیے…….. منٹو کا نیا قانون، غلام عباس کے دو افسانے اوور کوٹ اور آنندی پڑھیے۔ آنندی میں غلام عباس مزے سے کہانی سنائے جاتے ہیں۔ یوں ہوا، ووں ہوا ۔۔ کہانی بڑے فطری بہاؤ کے ساتھ آگے بڑھتی ہے ۔۔۔ بے ساختگی سے۔ کوئی فلسفہ نہیں۔۔۔ کیمرے کی طرف رخ کر کے کوئی بوجھل مکالمہ نہیں اور بڑی سادگی سے کہانی کی جزئیات سے منظر کی تکمیل کے بعد بالآخر جو پس منظر سے ایک چبھتا ہوا خیال ابھرتا ہے وہ جھینپی ہوئی ہنسی ہنسنے پر مجبور کردیتا ہے ۔ خدیجہ مستور کا ناول آنگن دیکھیے۔ کسی نظریے اور فلسفے کا پرچار نہیں۔۔ بس سادے طریقے سے واقعات بیان ہورہے ہیں۔۔۔ ایک منظر، ایک کردار بھی بھرتی کا نہیں۔۔ ایک کردار بھی نکال دیں تو کہانی میں خلا پیدا ہو جائے۔ ابا کی گرفتاری کامنظر پڑھیے۔۔ اس قدر سادہ منظر مگر کیسے دل بھینچ لیتا ہے۔ عصمت چغتائی کا بچھو پھوپھی کیسی عجیب مگر سچی کہانی ہے ایسے کردار بھی ہوتے ہیں۔۔ تہہ در تہہ کھلتے چھپتے۔
کرسمس کیرل پڑھیے، جیمز جوائس کا ٹوئن سسٹرز اس قدر سادہ ہے کہ تھیم سمجھنے میں مشکل ہوتی ہے۔ بظاہر کوئی فلسفہ بیان نہیں کیا جاتا ۔ کہانی سادہ سی لگتی ہے ۔ مگر کیا اسلوب اور کیا گہرائی ہے ۔ کلاسیکی افسانوں میں مصنوعی امارت اور چمک دمک کا غبار نظر نہیں آئے گا بلکہ وہ اپنی زمین سے جڑے ہوتے ہیں ۔ یہ افسانے پڑھیے اور ان میں ان کے ماحول کے ذریعے اس ثقافت کو جیتا جاگتا دیکھیے ۔ پرانے کچھ ڈراموں کی خاص بات یہ ہوتی تھی کہ وہ زمین سے اگتے تھے اور زمین سے جڑے نظر آتے تھے۔ سماج کا چہرہ پیش کیا جاتا تھا جو لڑکا لڑکی کے ملن کے مسائل کے علاؤہ بھی بہت سے مسائل سے تشکیل پاتا ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں