تم اک گورکھ دھندہ ہو – سمیرا امام




یہ منظر ہے ایک کمرے کا ۔ جہاں ایک میز پہ چائے کا مگ دھرا ہے ۔ اور ایک وجود جو میز کے عقب میں کھڑا دور کہیں نگاہیں جمائے ہوئے ہے ۔ ایک روزن ‘ ایک کھڑکی ! وہ چاہے دل کی ہو آنکھ کی یا کسی کمرے کی ۔ انسان کو دنیا کے مختلف گوشے دکھا دیتی ہے . کمرے کی کھڑکی سے باہر ایک گنجان آباد شہر تھا ۔ دل کی کھڑکی سے جھانک کے دیکھا جاتا تو گنجانی میں موجود ہر چہرے کی ایک کہانی تھی ۔
اور آنکھ سے دیکھنے پہ سامنے موجود وہ تین چہرے دکھائی دیتے ۔ دس سالہ ‘ آٹھ سالہ اور چھ سالہ بچے سب سے بڑے کی آنکھوں میں غم اور غصہ منجمد ہوچکے تھے ۔ اور اب وہ دنیا سے سب چھین لینا چاہتا تھا ۔ وہ سب جو اُس سے اپنوں نے چھین لیا تھا ۔ ایڑیاں رگڑتا منہ سے جھاگ اڑاتا انکا باپ انکے سامنے اپنی آخری سانس لے رہا تھا ۔ بڑے لڑکے نے باپ کی موت پہ منہ سے نکلنے والی سسکی کو بہت زور سے دبایا اور چھوٹے بھائی اور بہن کو خود سے لپٹا لیا ۔ جو سمجھتے تھے کہ بابا بے ہوش چکے ہیں ۔ لیکن بابا انکی ماں کی یاد میں ذہنی توازن کھو چکنے کے بعد آج اس شقی القلب دنیا سے رخصت ہو گئے ۔ بچوں نے سال بھر باپ کو ایڑیاں رگڑتے دیکھا تھا ۔ جس شیلٹر ہوم میں وہ موجود تھے وہیں کوئی انکے والد کو بھی چھوڑ گیا تھا ۔ ان پھولوں کا مستقبل کیا ہوگا ؟؟
یہ معصوم اور دکھ بھری داستان ایک ماں کی تخلیق ہے ۔ ماں جس سے کائنات کا حسن ہے ۔ اس پہ رب مہربان ہوا تو یہ خوبصورت پھول اسکی جھولی میں ڈال دیے ۔ لیکن وہ تو کانٹوں کی شیدائی نکلی ۔ کسی کی معشوقہ بن گئی ۔ بھلا معشوقہ سے بڑی بھی کوئی گالی کسی ماں کے لیے ہو سکتی ہے ؟؟ خود سے پوچھے گئے اس سوال کا کوئی جواب نہ تو خود اسکے پاس تھا نہ ہی اس گنجان آباد شہر کے کسی بھی شہری کے پاس ۔وہ تینوں اسی شیلٹر ہوم میں رہتے ہیں ۔ بچے ایک دوسرے سے اونچی آواز میں باتیں کرتے ہیں ۔ ” اسکی ماں بھاگ گئی تھی ۔ ابو پاگل ہوگئے اور یہ یہاں آگئے ”
اسے یقین تھا وہ دس سالہ معصوم پھول ایسا مضبوط کانٹا بنے گا جو جب جس کے حلق میں اٹک جائے گا تو جان لے کر ہی ٹلے گا ۔ اسکی آنکھیں پڑھ لی تھیں اس نے ۔ اور اب چائے کی کڑواہٹ بھی ان تلخ آنکھوں سے کئی گنا کم محسوس ہوتی تھی ۔ اس شہر میں ابھی اور بھی کہانیاں ہیں ۔ ظلم و ستم کی داستانیں اور گنجانی کا چولی دامن کا ہی تو ساتھ ہے ۔

اپنا تبصرہ بھیجیں