اردو مزاحیہ ادب میں پھکڑ پن ، ایک تقابلی جائزہ – رضوانہ وسیم




اردو ادب میں ظرافت کی صنف زمانہ قدیم سے رائج ہے ، جس پر شاعر اور ادیب روزاول سے طبع آزمائی کر رہے ہیں . مزاح اردو ادب کا لازمی جزو ہے اس لیے ضروری ہے کہ اس میں ادب آداب اور شائستگی کو ملحوظ خاطر رکھا جائے . اس ضمن میں مزاح نگاری کے میدان میں بے مثال ادب تخلیق کیا گیا اور بہت بڑے بڑے نام منظر عام پر آئے .
ان شعراء اور ادباء نےاپنے فن کے ذریعے معاشرے کے غلط رسم و رواج کے خلاف آواز اٹھائی ، مگر کڑوی بات کو شیرین لہجہ دے کر لوگوں کو دعوت فکر دی اور اس میدان میں اپنے کلام کے ذریعے تبدیلی لانے کی بھرپور کوشش کی . ان کے مزاح کی بنیاد کسی نہ کسی پیغام پر مبنی ہوتی تھی . کیونکہ یہ ادیب اور شعراء مثبت سوچ کو فروغ دینا چاہتے تھے اور معاشرے کے خدوخال کو سنوارنا چاہتے تھے . قدیم شعراء میں ہم اگر اکبر الہ آبادی کی شاعری کا جائزہ لیں تو انہوں نے بھی مشترکہ ہندوستان میں مسلمانوں کی پستی اور مغرب کی اندھی تقلید کو بڑے خوبصورت اوربھر پور انداز میں بے نقاب کیا ہے . ان کی شاعری میں اصلاح کا رنگ نمایاں نظر آتا ہے اور ہندوستانی تہذیب کی واضح جھلک دکھائی دیتی ہے .
مزاح کے میدان میں شعراء اور ادباء کی گنتی کرنا مشکل ہے ، لیکن آج بھی اگر میں اچھا مذاح تلاش کریں تو بہت سارے نام سامنے آتے ہیں آج کے دور میں انور مقصود بھی ایک نمایاں نام ہے ان کا ہر لفظ مزاحیہ پیرائے میں ہونے کے باوجود اپنے اندر ایک مقصدیت لیے ہوئے نظر آتا ہے . اس کے علاوہ کرنل محمد خان مشتاق یوسفی اور بہت سارے ایسے نام ہیں جو مستند حیثیت کے مالک ہیں لیکن اس کے برعکس اگر ہم آج کل کے مزاحیہ مشاعرے یا اسٹیج پروگراموں پر غور کریں ، تو مزاح نگاری کا فن پستی کی طرف گامزن نظر آئے گا یہاں زبان و بیان کی شائستگی معدوم ہوتی جا رہی ہے گھٹیا الفاظ کا چناؤ اور لچر پن سے آراستہ ادب تخلیق کیا جا رہا ہے .بیہودہ اور بے معنی جملے بازی سے لوگوں کو ہم وقتی طور پر ہنسا تو سکتے ہیں لیکن اس سے اصلاح کا کوئی پہلو نہیں نکلتا ایسا ادب دیرپا نہیں ہو سکتا اصل مزاح وہ ہے جو طنز کی کاٹ اور مزاح کی چاشنی سے جملے کو لازوال بنا دے اور سننے والے کے ذہن میں انمٹ یاد رہ جائے .
مزاح میں مقصدیت کا ہونا لازمی ہے ہر شعر اور ہر جملے میں کوئی نہ کوئی پیغام ضرور ہونا چاہیے تاکہ بامقصد ادب تخلیق ہو طنز و مزاح کا چولی دامن کا ساتھ ہے تاکہ کڑوی سے کڑوی بات کو بھی مزاح کی چاشنی میں ڈبو کر ہنستے کھیلتے آپ اپنے قاری تک پہنچا دیں اور وہ سوچنے پر مجبور ہو جائے مزاح نگاری ہر ایک کے بس کی بات نہیں ہے لیکن اکثر لوگ اس پر طبع آزمائی کرتے ہیں اور اگر کسی کو شوق ہے تووہ ضرور لکھے مگر تحریر میں ادب آداب کو ہاتھ سے نہ جانے دیں شائستگی اردو ادب کا خاصا ہےاس لیے ادب کو بے ادب کر کے پیش کرنا بہت بڑی زیادتی ہوگی اردومزاح کی تاریخ بہت طویل ہے اس میں بیش بہا گوہر ملیں گے .
لہذا نئے لکھنے والے ان اساتذہ کے کلام سے ضرور استفادہ کریں تاکہ معیاری ادب تخلیق ہو ایک اچھا قاری ہی اچھا ادیب بن سکتا ہےیہ تھی میری ناقص رائے اب آپ لوگ میری رائے سے متفق ہیں یا نہیں؟ مجھے ضرور بتائیں

اپنا تبصرہ بھیجیں