زبان یارمن انگریزی ، 8 ستمبر – افشاں نوید




ابھی ایک وڈیو دیکھی اسکرین پر اردو ترجمہ بھی ساتھ آرہا تھا۔ اب لوگوں کو یہ نہیں پتہ کہ ذ اور ز میں کیا فرق ہے,ط اور ت کا استعمال,یہ بے خبری کہ کن لفظوں کو جوڑ سکتے ہیں۔ ہم نے قائد اعظم کو کائد اعظم ہوتے دیکھا یہ گت ہمارے سامنے بن چکی ہے. آنے والی نسلوں کی فکر نہ کی تو اردو کو معدوم ہونے سے کوئی نہ روک سکے گا۔ زبانیں نہ شب بھر میں بنتی ہیں نہ دن بھر میں معدوم ہوتی ہیں۔
جن چیزوں کی قدر نہ کریں وہ روٹھ جاتی ہیں۔ جب ھم کراچی یونیورسٹی میں پڑھتے تھے تب پاکستان اپنے قیام کے چار عشرے مکمل کرنے کو تھا۔ اس وقت تک ہمارے شعبہ معاشیات کی کوئی کتاب لائبریری میں اردو میں نہ تھی۔ ایم اے لیول کی ایک کتاب پوری لائبریری میں اردو میں تھی۔جس کو انتہائی غیر مستند گردانا جاتا تھا۔ہم اردو میڈیم ذہنی افتاد طبع یا کچھ اصطلاحوں کے فہم کے لیے اس کتاب کو کبھی حاصل کر لیتے تو احبابِ نظراں سے یوں چھپاتے جیسے کوئی فحش ناول چھپایا جاتا ہو۔ اس کو ادہر ادہر نظریں چرا کر لائبریری کے تنہا گوشہ میں پڑھتے کہ ۔۔۔مبادا ہمیں کوئی”اردو”پڑھتا نہ دیکھ لے۔یونیورسٹی کے چھ برس کیا تھے بس ایامِ ذھنی پسماندگی۔۔۔ مضمون کا فہم ندارد, سارا وقت زبان کو سیکھنے کی مشقت میں گزر گیا۔90 فیصد طالب علم ہم جیسے تھے کیونکہ برائے نام او لیول یا اچھے انگلش میڈیم کے تھے جن کے لیے زبان مسئلہ نہ تھی۔
کیسا تماشہ تھا کہ سوچتے اردو میں تھے,بولتے اردو تھے,خواب اردو میں دیکھتے مگر ٹیچر کی زبان اور کتاب انگلش میں تھی۔ کلاس میں ٹیچر سے صرف وہ سوال کرتا تھا جس کو انگلش بولنا آتی ہو۔ اگر اردو میں کوئی معصوم سوال کر لیتا تو کلاس گردن موڑ کر یوں دیکھتی جیسے پوچھ رہی ہو کہ۔۔کس پنڈ سے آئے ہو۔ ذہانت کا معیار انگلش تھی,برتری کا معیار,آپ کے اسٹیٹس کو جانچنے کا پیمانہ ……… اگر اس وقت ان قدروں کو بدلنے کی سرکار کوشش کرتی, مخلص حکمران ہوتے تو 73 برس کے پاکستان میں نفاذ اردو کی تحریک کیوں چلانا پڑتی جو قائداعظم کا خواب اور آئین کا حصہ ہے۔ سچ کہیں تو انگریز ہمیں جسمانی آزاد تو کرگیا مگر ذھنی غلام چھوڑ گیا ۔ آہ نا مکمل آزادی ……! محلہ میں کسی کے خوب صورت بچہ پیدا ہوتا تو فخریہ کہا جاتا۔۔۔”انگریز “کا بچہ لگتا ہے۔ رنگ گورا کرنے کی کریمیں جتنی جنوبی یشیا میں بکتی ہیں شائد ساری دنیا میں نہیں۔چونکہ ہمارے آقاؤں کے رنگ گورے تھے لہذا سانولا یا سیاہ رنگ ہماری جھینپ کی وجہ بنتا ہے۔
زبیدہ آپا مرحومہ کی رنگ گورا کرنے کے ٹوٹکوں سمیت قیام پاکستان سے اب تک دادیاں نانیاں ہلدی ابٹن پر ہی زور دیتی رہیں کہ رنگت گوری اچھی لگتی ہے۔ بیٹے کے لیے گوری بہو کی تلاش ہمارے سماجی مسائل میں سر فہرست ہے۔ عرب امارات کے جہاز میں سیاہ افریقن پر اعتماد ائرہوسٹسوں کو دیکھ کر میں سوچتی کہ انکے لیے اتنا پکا سیاہ ہونا کوئی ایشو کیوں نہیں ؟؟۔نہ وہ ڈرما کے ڈاکٹرکے پاس گئی ہونگی نہ رنگ گورا کرنے کے انجکشن لگوائے ہونگے۔ خیر آج 8 ستمبر ہے۔اردو سے جڑا۔اتنا ضرور ہے کہ ستم ہم کرچکے اور احساس زیاں بھی کھو چکے۔ آج بھی ہمارا فخر انگلش ہے۔ہر ماں بچہ کو
بنانا فنش کرنے کو کہتی ہے۔
ھینڈز واش کرنے کو کہتی ہے۔
مہمان سے شیک ہینڈ کرنے کو کہتی ہے۔
تقریب میں پہلو میں کھڑی بیٹی فرفر انگلش بول رہی ہو تو گردن فخر سے تن جاتی ہے کہ ہمارا خاندانی وقار گویا بلند ہوگیا ۔جب درسی کتب ہی اردو میں نہیں,استاد انگلش میں پڑھاتا ہے تو اردو کی تحریک کی ابتدا تو کتابوں کے ترجموں سے ہوناچاھیے۔اسرائیل جو دنیا کے نقشہ پر ایک قطرہ جتنا ملک ہے, جسکی آبادی ہمارے ایک چھوٹے سے شہر کے برابر ہے دنیا کے سب علوم عبرانی زبان میں منتقل کرچکا۔عرب دنیا نے بھی اس کام کو ترجیحات میں شامل نہ کیا۔ آپ کا بچہ ایم بی بی ایس اردو میں کرے گا, انجئیرنگ یا مارکیٹنگ کی اعلیٰ تعلیم اردو میں حاصل کرے گا کیا فی الوقت آپ اس کا خواب بھی دیکھ سکتے ہیں؟؟ اردو کی تحریک کو پوری قوت سے زندہ رکھنا ہے۔ہمارے تہذیبی تشخص کا سوال ہے
مگر دن منانے سے نہیں,عملی اقدامات سے اردو کا احیاء ممکن ہے۔ ہر سال 8 ستمبر کو ہم بیدار ہوتے رہے تو اگلے سو برس بعد بھی یہیں کھڑے ہونگے۔ اس کو قومی کے بجائے “ذاتی مسئلہ” بنانا وقت کی ضرورت ہے۔کیونکہ ہماری نسلوں کی بقا کا سوال ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں