ابن قاسم سے ملنے چلیئے – زبیر منصوری




محمد بن قاسم کو سلام کرنے گئے تھے . اس کااحسان مان کر اس کا شکریہ ادا کرنے ……… اس کی بنائی پہلی مسجد بھنبھور میں جا کر نماز پڑھی . میرے ساتھ سندھ کے مختلف چھوٹے شہروں سے آئی ٹیچرز بیٹیاں اور اسکولز کے کیمپس لیڈرز تھے . ہم بہت دیر وہیں رہے ، قلعہ دیکھا ، دور سمندر کنارے اس دروازے کے آثار تک گئے ، جہاں سے اسلام غلبہ قوت اور شان و شوکت سے اس خطہ میں اترا تھا ۔
مجھے یوں لگا میں مجاہدوں کے گھوڑوں کی آوازیں اورتکبیر کے فلک شگاف نعرے سن رہا ہو …… وہیں اس قدیم مسجد کے کھنڈرات میں جب میں سندھ کی ان بیٹیوں کے ساتھ “محمد بن قاسم ماڈل آف لیڈر شپ “ پر بات کرنے بیٹھا تو مجھے لگا نوجوان محمد بن قاسم اور اس کے کچھ سالار بھی قریب چپکے سے آ کر بیٹھ گئے اور دلچسپی سے اپنی کہانی سننے لگےہیں . میں ان بیٹیوں کو بتا رہا تھا کہ راجہ داہر کے کشمیر سے آئے غیر سندھی باپ چچ نے جب امن پسند بدھ مت کے پیرو کار اس وقت کے مقامی لوگوں کو دھوکہ سے غلام بنا لیا اور حکومت پر قبضہ کر لیاتو حکم دیا کہ پگڑی عزت کی علامت ہے تم لوگ نہین پہنو گے ننگے سر اور گھر سے کتا ساتھ لے کر نکلو گے تاکہ تمہیں یاد رہے کہ تم اس کے برابر ہو اور پھر ایسے میں انہوں نے جب فاتح محمد بن قاسم کو سب کے ساتھ زمین پر بیٹھے اور انصاف کرتے دیکھا تو ایسےگرویدہ ہوئے کہ خود نیرون کوٹ ( حیدرآباد) والوں کو پیغام بھیجا کہ یہ نیا عادل حاکم ہمارے والے ظالم حاکم سے ہزار درجہ بہتر ہیں .
ان کی اطاعت کر لو …….. یوں سندھ محمد بن قاسم کے اخلاق سے فتح ہوتا چلا گیا اور آخری معرکہ میں جب وہ عیاش راجہ داہر کے دو لاکھ کے ٹڈی دل کے مقابل کھڑا ہوا تو ان کی 4500 کی عرب فوج بڑھ کر 1 لاکھ کی سندھی فوج میں بدل چکی تھی . مندر اس محسن کی مورتیاں سے بھر چکے تھے ۔ مجھے لگا محمد بن قاسم نے محبت سے میری طرف دیکھا اور کہا کہ میرا یہ دیبل ( بھنبھور) دور ہی کتنا ہے ؟ آتے جاتے رہا کرو ……میری اتنی اچھی کہانی تو میں شاید خود بھی نہ سنا سکتا . مگر پھر اس نے افسردگی سےکہا ، تم نے دیکھا میرے دشمنوں نے کسی ایک بورڈ یا کسی چیز پر میرا نام تک نہیں لکھا میں تو اپنا اجر پا چکا ، مگر اس خطہ کی اگلی نسلیں کیسے تاریخ سے باخبر رہ سکیں گی؟ میں نے ایک شعر سنایا……..
کبھی پتھر کی لکیریں بھی مٹاکرتی ہیں
کتنے سادہ ہیں ترا نام مٹانے والے
اس سے اجازت لی ……. بیٹیوں کو ساتھ لے کر اٹھا کہ ابھی انہیں کیفے عمران گھارو پر مزیدار لنچ اور کلری کی اٹھتی لہروں میں ڈوبتا سورج بھی دکھانا تھا ۔ کبھی ممکن ہو تو جائیے گا نا ، اسکولوں کالجوں کے بچوں نوجوانوں کو لے کر محمد بن قاسم سے ملنے اسلام لے کر یہاں پہنچنے پر اس کا شکریہ ادا کرنے ۔

اپنا تبصرہ بھیجیں