اچھی تحریر کیا ہوتی ہے؟ – آصف محمود




اچھی تحریر کیا ہوتی ہے؟ مدت ہوئی یہ سوال کسی سے پوچھا تھا۔یہ رہنے دیجیے کہ کس سے پوچھا تھا۔ جواب آیا: ”اچھی تحریر وہ ہے جسے لکھتے ہوئے آپ شبِ فراق میں کھڑے ہوں اور لکھ لیں تو روزِ انتظار آجائے، جو لکھتے ہوئے بھی آپ پر بیت جائے اور لکھنے کے بعد پڑھتے ہوئے بھی وہ آپ پر بیت جائے۔آپ لکھنے کے بعد اپنی ہی تحریر بار بار پڑھ سکتے ہیں اور وہ آپ کو لطف دیتی ہے تو وہ اچھی تحریر ہے ورنہ آپ بلاوجہ مشقت اٹھا رہے ہیں“
دلی اجڑی توسوگوار غالب نے کیا کچھ لکھ ڈالا۔ شاعری کو تو چھوڑ دیجیے غالب کی اس زمانے کی نثر کو پڑھیں تو خدا یاد آتا ہے۔ میرے بس میں نہیں اس پر تبصرہ بھی کر سکوں، میرے جیسا طالب علم داد بھی نہیں دے سکتا، وہ مبہوت ہوجاتا ہے۔داغ، ذوق اور میر کو جس نے نہیں پڑھا اسے کیا معلوم اردو کس چیز کا نام ہے۔افتخار عارف نے دو چار مصرعوں کو عمر بھرکی کمائی قرار دیتے ہوئے لکھا: اس کمائی پہ تو عزت نہیں ملنی والی۔تجاہل عارفانہ ہی تو تھا ورنہ افتخار عارف جیسا اس عہد میں ہے کون؟ شکر دوپہر کتنی بار ہوا کہ حرف باریاب یا مہر دونیم اٹھائی اور پہر بیت گیا۔
سید علی گیلانی کا ایک ویڈیو میسج سنا، دل لہو سا ہو گیا۔ کہتے ہیں اردو کو فرض سمجھ کر مت پڑھیے کہ فرض میں تو کبھی تاخیر اور سستی بھی ہو جاتی ہے اور فرض کبھی بادل نخواستہ ادا کرتے ہیں تو کبھی خوشی خوشی۔اردو کو وظیفہ حیات سمجھیے، یعنی جیسے آپ سانس لیتے ہیں ویسے ہی اردو کو بھی خود پر لازم کر لیجیے کہ یہ اردو ہی ہے جس نے مسلمانوں کو اپنی مذہبی اور تہذیبی قدروں سے جوڑ رکھا ہے۔ یہ کسی شاعر کا ”ادب برائے ادب“ میں لپٹا سندیسہ نہیں یہ تو وہ دکھ ہے جو اس عہد کے عمر مختار پر بیت گیا اور وہ پاکستان میں اپنی قوم کو بتا رہا ہے، کسی غلط فہمی میں نہ رہنا تمہاری اساس اردو ہے۔میرے جیسا طالب علم بیٹھا سوچ رہا ہے کہ وطن عزیز میں اردو ہے کہاں؟
ابلاغ کا آسان ذریعہ صحافت ہے اور اس صحافت کے ہاتھوں اردو گھائل ہوئی پڑی ہے۔زبان و بیاں کے سارے اسلوب روند دیے گئے ہیں۔ابلاغ تو جیسے تیسے ہو رہا ہے، لیکن لطف سخن جاتا رہا۔اردو مشکل الفاظ اور بھاری بھرکم اصلاحات کا نام نہیں ہے۔ یہ نری بد ذوقی ہے کہ مشکل الفاظ اور مشکل تراکیب استعمال کو ہی اچھی اردو سمجھ لیا جائے۔ سید مودودی کی نثر میرے نزدیک اردو زبان کا شاہکار ہے۔ سادہ سی، دل میں اتر جانے والی۔ اردو کی سب سے کریہہ شکل وہ ہے جس میں چھوٹے شہروں کی کچہریوں میں عرضیاں، دعوے اور جواب دعوے لکھے جاتے ہیں۔ یہ وہی ”انگریزیائی“ ہوئی اردو ہے جو 1857 کے بعد یہاں دفتری بابو کے ذریعے مسلط کی گئی۔ سر سید نے اسباب بغاوت ہند بھی اسی عجیب الخلقت اردو میں لکھی۔ایک ہی عہد ہے مگر کہاں غالب کی اردو اور کہاں سر سید کی؟
عذر یہ ہے کہ خبر ابلاغ کا نام ہے اور سادہ زبان ضروری ہے تا کہ ہر آدمی سمجھ سکے۔ یہ کمزور استدلال ہے۔کون کہہ رہا ہے خبر میں میر کی تراکیب لفظی استعمال کریں۔بس اتنی سی التجا ہے کہ اردو کی حرمت کا خیال رکھیں۔سادہ لکھیں، رواں لکھیں اور سلیس لکھیں مگر اردو میں تو لکھیں۔ٹاک شوز اور کالموں میں بھی کوئی یہ نہیں کہہ رہا کہ مشاعرہ ہی شروع کر دیں لیکن کم از کم اتنا اہتمام تو کریں کہ جو لکھا اور بولا جا رہا ہو اس کے بعد اردو کو منہ چھپا کر آہیں نہ بھرنا پڑیں۔ لکھنے والے لکھتے ہیں تو کراچی سے خیبر تک طویل تحریر لکھ ڈالتے ہیں۔ مختصر لکھنے کے لیے لوگوں کے پاس وقت ہی نہیں ہے۔میرے جیسے طالب علم کہاں جائیں؟ کس سے سیکھیں؟
اقبال خورشید صاحب نے اگلے روز سوشل میڈیا پر لکھا کہ عالمی ادب میں اردو کو کوئی مقام دلوانا ہے تو اردو کے بڑے لکھاریوں کے کام کا انگریزی ترجمہ کرنا ہو گا تاکہ دنیا میں یہ کام پڑھا جائے اور سراہا جائے۔بات درست ہے کیونکہ پائلو کوہلو کی اوسط سے خاصی پست درجے کی کتاب اگر فروخت کے ریکارڈ قائم کر سکتی ہے تو تصور کیجیے واصف علی واصف کا ڈھنگ سے ترجمہ ہو جائے تو اس کی مقبولیت کا عالم کیا ہو۔میں نے پائلو کوہلو کو بھی پڑھا ہے اور واصف کو بھی اور میں سمجھتا ہوں پائلو کوہلو واصف کا عشر عشیر بھی نہیں۔لیکن ترجمہ کون کرے؟ کون ہے جو غالب کا ترجمہ کرے گا؟ پہلے غالب کو کوئی سمجھے گا تب ترجمہ کرے گا۔اور لطف تو تب ہے جو غالب کی اردو کا معیار ہے وہی معیار اس کے انگریزی ترجمے کا بھی ہو۔تو کوئی ہے جو غالب کی اردوئے معلی کو سمجھے اور اسے انگریزی معلی میں ڈھال سکے؟
یہاں اردو بابو لوگوں کے ہتھے چڑھ گئی۔ نیشنل لینگویج اتھارٹی کا ترجمہ کیا تو ایسا بے ہودہ کہ الامان: مقتدرہ قومی زبان۔انگریزی سے بھی مشکل۔قانون کی اصلاحات کے اردو تراجم ہوئے ان سے وکلاء پناہ مانگتے ہیں۔بابو لوگوں نے اپنی روزی روٹی کے چکر میں مشکل ترین تراکیب ڈال کر صرف سرکار کے آگے ماحول بنایا ہے۔اس واردات کی کوئی عملی افادیت نہیں۔آئین میں اردو کو قومی زبان قرار دیا گیا ہے لیکن یہ بات بھی وہاں انگریزی زبان میں لکھی ہوئی ہے۔قوم کا آئین انگریزی میں ہے۔علی گیلانی کو اب کون بتائے کہ آپ جس اردو سے رشتہ جوڑنے کی بات کر رہے ہیں ہمارے احساس کمتری نے عرصہ ہوا اس اردو کو چھوڑ دیا ہے۔اب بچوں سے کہیں چھبیس تو وہ پوچھتے ہیں بابا وہ کیا ہوتا ہے۔ بتانا پڑتا ہے کہ بیٹا وہ ”ٹوئنٹی سکس“ہوتا ہے۔
اسلام آباد بارکے سابق صدر برادرم ریاست علی آزاد نے دلچسپ واقعہ سنایا۔ وہ کہتے ہیں کہ اگلے روزعدالت میں ایک بیرسٹر صاحب نے انگریزی میں غیر ضروری اور غیر متعلقہ بحث کی اور انتہائی طویل دورانیے کی بحث کی۔مقدمے کے میرٹ پر بات کرنے کی بجائے وہ ادھر ادھر کی باتیں کرتے رہے۔ صاف نظر آ رہا تھا وہ صرف انگریزی کا رعب جھاڑ رہے ہیں۔ بحث تمام ہوئی تو معزز جج صاحب نے کہا: اب اجازت ہو تو میں بھی انگریزی میں ہی کچھ کہوں۔ بیرسٹر صاحب نے کہا: یس مائی لارڈ پلیز۔ جج صاحب نے فائل اٹھا کر بائیں طرف رکھ دی اور کہا: (بشکریہ نائنٹی ٹو)

اپنا تبصرہ بھیجیں