حجاب امتیاز علی – ڈاکٹر مجیب احمد خان




لکچرر، شعبہ اردو، دہلی یونیورسٹی، دہلی ، حجاب امتیاز علی ایک مشہور و معروف رومانی افسانہ نگار تھیں۔ وہ 1915ء میں حیدرآباد دکن میں پیدا ہوئیں۔ ان کے والد کا نام سید محمد اسمعیل تھا اور وہ نظام حیدر آباد کے فرسٹ سیکرٹری  تھے۔ لہذا ان کی پیدائش، پرورش اور تعلیم وتربیت حیدرآباد میں ہوئی۔ انہوں نے عربی، فارسی، اردو اور موسیقی کی تعلیم گھر پرپائی اور اسکول سے سینئر کمبرج کے امتحان کو پاس کیا۔ ان کے والد نے ملازمت سےسبکدوشی کے بعد مدارس میں سکونت اختیار کی۔ ان کی والدہ عباسی بیگم مشہور و معروف ناول نگار تھیں۔ ان کا ناول ”زہرا بیگم“ اور فلسفیانہ مضامین کا مجموعہ ”گل صحرا“ ان کی بہترین یاد گار ہیں۔

حجاب امتیاز علی کی شادی 1935ء میں مشہور ڈرامہ نگار اور مقبول ترین ڈرامے ”انار کلی “ کے خالق سید امتیاز علی تاج سے ہوئی۔ حجاب امتیاز علی کا نام شادی سے قبل حجاب اسمعیل تھا۔ اس لیے انہوں نے ابتدائی دور کی تصانیف حجاب اسمعیل اور مس حجاب کے نام سے شائع کیں۔ اب اردو ادب میں ان کا معروف نام حجاب امتیاز علی ہے۔ انہوں نے علمی و ادبی اور متمول گھرانے میں پرورش پائی۔ انہیں انگریزی زبان و ادب پر بھی عبور حاصل تھا۔ اس کے علاوہ انہوں نے 1936ء میں ناردن لاہور فلائنگ کلب سے ہوا بازی کی سند حاصل کی اور برطانوی ہند کی پہلی ہوا باز خاتون کی حیثیت سے شہرت پائی۔ انہوں نے دنیا کی بہاریں اور خزائیں دونوں
دیکھیں مگر خزائوں کا انہیں کوئی خاص تجربہ نہیں بلکہ وہ صرف ان کے مشاہدے اور مطالعے تک ہی محدود رہیں۔حجاب امتیاز علی نے متعدد اصناف میں طبع آزمائی کی۔ انہوں نے افسانے، ناول، ڈرامے، تنقیدی و تخلیقی اور انشائیہ طرز کے مضامین اور کئی کتابوں کے مقدمے بھی تحریر کیے۔ بچوں کے ادب سے متعلق لکھا اور تراجم بھی کیے۔ ”تہذیب نسواں“ کی ادارت اور افسانہ نگاری کا سلسلہ بھی  جاری رکھا۔ ان کے ابتدائی افسانے ”تہذیب نسواں“ میں شائع ہوئے۔ ان کا ادبی ذوق تاج کے ساتھ لاہور ی علمی و ادبی فضا میں رہ کر اور بھی نکھر گیا اور انکے لکھنے کی رفتار اور بھی تیز ہو گئی۔ ان کی تصانیف درج ذیل ہیں:
1۔ اندھیرا خواب (ناول) 1950ء دارالاشاعت پنجاب، لاہور۔ 2۔ ظالم محبت (ناول) 1952ء ، دارالاشاعت، پنجاب لاہور۔4۔ پاگل خانہ (ناول) بارِ اول 1988ء، اے ون آفسیٹ پرنٹرز، دہلی

7۔ ادب زریں (مجموعہ مضامین) بار اول 1933ء، اشاعت : محبوب ، .المطابع برقی پریس، دہلی

8۔ خلوت کی انجمن (مجموعہ مضامین) بارِ اول 1936ء، ارالاشاعت پنجاب، لاہور

10۔ لاش اور دوسرے ہیبتناک افسانے، بارِ اول 1933ء، دارالاشاعت پنجاب لاہور۔11۔ کونٹ الیاس کی موت اور دوسرے ہیبت ناک افسانے، بارِ اول 1935ء، دارالاشاعت پنجاب، لاہور، 13۔ کالی حویلی اور دوسری خوفناک کہانیاں 1990ء سنگ میل پبلی کیشنز، لاہور

حجاب کی رومان پسندی، شوخی و بے باکی اور فرسودہ رسم و رواج کے خلاف بغاوت وغیرہ ان کے اپنے نظریات ہیں لیکن اس سے ان کی مذہب پرستی پر کوئیحرف نہیں آتا۔ ان کا خدا اور رسول ؐ پر یقین تھا۔ وہ صوم و صلوۃ کی پابند تھیں۔
انہوں نے افسانوں میں اکثر مسائل کو اسلامی نظریہ سے پیش کیا ہے۔ ان کے افسانوں میں انسانیت اور تعمیری عناصر صاف جھلکتے ہیں اور ان کے افسانوں میں بڑی دور اندیشی پائی جاتی ہے۔ یہ افسانے سماج میں رہتے ہوئے ناسور کو کسی نہ کسی صورت میں پیش کرتے ہیں اور ان میں اصلاح کی ایک زیریں لہر ضرور نظر آئے گی۔

حجاب امتیاز علی کو افسانوی زبان و بیان پر مکمل قدرت حاصل ہے۔ انہوں نے رومانی فضا کو برقرار رکھنے کے لئے اپنی زبان و بیان کی نزاکت اور
لطافت سے شوخی اور رنگینی پیدا کی ہے۔ وہ افسانوں میں اشعار کا استعمال کرتی ہیں تاکہ نغمگی اور خوشگوار فضا قائم رہے۔ وہ دراصل چھوٹے چھوٹے جملوں کو موثر پیرائے میں بیان کرتیہیں۔ انہوں نے جملوں میں الفاظ کی ندرت اور تراکیب کو برجستہ استعمال کیا ہے جس کیوجہ سے زبان و بیان میں شگفتگی، شائستگی اور شیرینی موجود ہے۔ وہ تکلف و تصنع اور مبالغہ سے پرہیز کرتی ہیںَ اس لئے ان کے یہاں معنی خیزی ، اثر گیزی ، درد انگیزی اور دلکشی بدرجہ اتم موجود ہے۔ ان کی زبان و بیان کی ان تمام خوبیوں نے سادگی سلاست اور روانی میں اضافہ کیا ہے ۔

حجاب کی رومانیت نے افسانہ نگاری میں لاجواب پیکر تراشے جس کی مثال نایاب ہے۔ ان کا افسانہ ”میری ناتمام محبت“ اور اس کے بعد ”صنوبرکے سائے “ اپنی ادبی و فنی خوبیوں کی وجہ سے ان کی شہرت کا باعث بنے۔ دراصل ”میری نا تمام محبت“ ان کے ابتدائی دور کی بہترین یادگار ہے۔ یہ ان کا پہلا افسانہ ہے مگر زبان و
بیان اور فکرو فن کی ادبی و تخلیقی صلاحیتوں سے پر ہے۔ یہ افسانہ ادبی دنیا میں ان کی شہرت کا باعث بنا۔ اگر وہ اس افسانے کے بعد کچھ بھی نہ لکھتیں پھر بھی ان کا
نام اردو کے افسانوی ادب میں سنہرے حرفوں میں لکھا جاتا لیکن وہ اپنے قلم کو روک نہ سکیں اور رومانی افسانے لکھتی رہیں۔ وہ رومانی افسانہ نگار ہیں۔ ان کے افسانوں میں فلسفہ حیات کی کارفرمائی جلوہ گر ہے ان کے ہر افسانے میں کوئی نہ کوئی مقصد ضرور پوشیدہ ہوتا ہے۔ انہوں نے خیالی دنیا  کی سیر کرائی اور حیرت و استعجاب سے بھرپور افسانے لکھے۔ ان کے موضوعات آزادی نسواں اور حقوقِ نسواں، قدیم رسم و رواج اور توہم پرستی سے نجات، قومی و ملی اتحاد ، حب الوطنی،
خوں ریزی اور دہشت گردی سے نفرت وغیرہ ہیں۔
انہوں نے اپنے افسانوں اور ناولوں میں مہذب کردار پیش کیے اور پلاٹ سازی میں بھی شائستگی برتی۔ ان کا اپنا منفرد اسٹائل ہے۔ ہر ادیب کا منفرد اسٹائل  ہے اور ہونا بھی چاہیے کیونکہ کائنات کی ہر شے جدا جدا نقش و نگار سے مزین ہے . حجاب امتیاز علی کے فکشن پر ناقدین نے کئی الزامات لگائے ہیں۔ انہوں نے اپنے کرداروں کو فرشتہ بنا کر پیش کیا ہے۔ ان کی تحریریں عصری مسائل سے عاری ہیں اور انسانوں کے قدموں کی چاپ بہت ہلکی سنائی دیتی ہے وغیرہ وغیرہ۔ میرے خیال میں ہر ادیب کا نقطہ نظر منفرد ہوتا ہے۔ یہ ضروری نہیں کہ سارے ادیبوں کی سوچ ایک سی ہو۔ ان کی سوچ میں انفرادیت ہونا لازمی ہے۔ کیونکہ ہر ادیب کے حالاتِ زندگی اور طرزِ رہائش جدا جدا ہوتے ہیں۔ البتہ ان کے ماضی اور حال میں بھی زمین و آسمان کا فرق ہوتا ہے۔ لہذا سوچ اور نقطہ نظر میں یکسانیت نہیں ہو سکتی۔انہوں نے اپنے کرداروں کو فرشتہ بنا کر پیش کیا ہے یہ بات بالکل صحیح ہے اس بابت انہوں نے کہیں لکھا ہے کہ میں نے اپنے فکشن میں اعلیٰ سوسائٹی کی عکاسی کی ہے، نچلے طبقے کی نہیں۔
بد تہذیبی، فساد، دہشت گردی، قتل و غارت گری، نچلے متوسط طبقے کی خوبیاں ہیں، چونکہ میں خون خرابے سے نفرت کرتی ہوں اور انسانیت کی قائل ہوں لہذا میں نے اس لعنت سے اپنے کرداروں کو بچائے رکھا۔ کیونکہ ان کو اس فعل میں ملوث کرکے میں اس کو فروغ دینا اور مشتہر کرنا نہیں چاہتی ہوں۔ ان کی تعمیر پسندی اور انسانیت کی اس سے اچھی اور کیا مثال ہو سکتی ہے۔حجاب امتیاز علی نے غالبا 1930ء سے لکھنا شروع کیا تھا۔ اس وقت ہندوستان میں آزادی کی جدوجہد جاری تھی مگر ان کے یہاں آزادی کی جدوجہد کی گونج سنائی نہیں دی۔ اس لئے ان پر یہ الزام بھی لگایا گیا کہ ان کا فکشن عصری مسائل سے عاری ہے۔ میرے خیال میں وہ ایک باخبر مصنفہ تھیں۔ انہوں نے دانشتہ طور پر سیاست کو موضوع نہیں بنایا کیونکہ زیادہ تر ادیب ہندوستان کی آزادی کے متعلق لکھ رہے تھے۔ انہوں ھے ایک ہی موضوع پر خامہ فرسائی کرنا مناسب نہیں سمجھا۔ گویا وہ لوگوں کے پریشان دل و دماغ کو سکون و راحت بخشا چاہتی تھیں۔ یہ ان کی انسانی ہمدردی کا بہترین ثبوتہے۔

ان کے یہاں زندگی کی حرارت موجود نہیں ہے۔ دراصل اس بات میں بھی ان کا منفرد اسٹائل ہی رکاوٹ بنتا ہے۔ ان کے یہاں زندگی کی حرارت تو موجود ہے . لیکن عوامی زندگی کی نہیں بلکہ خواص کی زندگی کی حرارت موجود ہے۔میں نے پہلے بھی لکھا ہے کہ حجاب امتیاز علی باخبر مصنفہ تھیں اور وہ زمانے کے نشیب و فراز سے اچھی طرح واقف تھیں۔ ان پر جو الزامات عائد کیے جاتے ہیں وہ ان کی خامیاں نہیں ہیں بلکہ ان کا اپنا مزاج اور اسٹائل ہے۔ انہوں نے آخر میں ایک ناول ”پاگل خانہ“ 1988ء میں لکھ کر یہ ثابت کر دیا کہ وہ عصری مسائل اور سیاسی ریشہ دوانیوں کے موضوع پر بھی خوب لکھ سکتی ہیں۔حجاب امتیاز علی صف اول کی خواتین افسانہ نگاروں میں سے ایک ہیں۔ انہوں نے جو بیش قیمتی سرمایہ اردو ادب کو عطا کیا وہ کم ہی ادیبوں نے کیا ہو گا لہذا اردو ادب کی تاریخ میں رومانی افسانہ نگار کی حیثیت سے وہ ہمیشہ یاد کی جائیں گی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں