جامعۃ المحصنات اعتماد کا نام – افشاں نوید




ہاجرہ نے ضلع دیر کے میٹرک بورڈ میں پہلی پوزیشن لی ہے ۔ ہم ہاجرہ کو مبارکباد دینے دیر پائیں سنگولئی گئے ۔ وہ جامعۃ المحصنات سنگولئی کی طالبہ ہے۔ جہاں گیارہ سو بچیاں زیر تعلیم ہیں . ادارے کے مہتممین کی زندگی کا ایک ہی مقصد ہے کہ کوئی بچی زیور تعلیم سے محروم نہ رہے۔ علم سند تک محدود نہ ہو بلکہ شعوری ہو ۔

اس برقع میں کسی خاتون کو دیکھ کر گمان یہی گزرتا ہے کہ ان کے مرد ظلم کرتے ہیں۔ ہائے بے چاریاں تعلیم سے محروم ……… اکیسویں صدی میں بھی اتنی دقیانوسی!! ہم ہاجرہ سے ملے، ایک میٹرک پاس بچی درس نظامی بھی مکمل کرچکی ہے۔ آگے اسپیشلائزیشن کا ارادہ رکھتی ہے۔ پر اعتماد ہاجرہ سماجی مسائل پر بے لاگ گفتگو کرسکتی ہے۔ اپنی زندگی کے مقصد ومشن سے آگاہ ہے۔ اس کے والد مستری ہیں۔ اس نے انتہائی اعتماد سے کہا مجھے فخر ہے میرے بابا مزدور ہیں کیونکہ ان کے لیے بشارت ہے کہ الکاسب حبیب اللہ ، یعنی مزدوری کرنے والا اللہ کا دوست ہے۔

ہاجرہ معلمہ بننا چاہتی ہے ………… کہتی ہے جہالت ناسور ہے۔

ہم علم کے چراغ جلائیں گے تو پاکستان کے دشمن اس کا کچھ نہ بگاڑ سکیں گے۔ بولی ، میں اپنے بابا کے خوابوں کی تعبیر ہوں۔ وہ کہتے ہیں لڑکیوں کو بہت تعلیم حاصل کرنا چاہیے کیونکہ اگلی نسل ان کی گود میں پروان چڑھنی ہے۔ بابا مجھے کہتے تھے میں اس دن کا منتظر ہوں جب تم ٹاپ کروگی۔ مجھے اس کامیابی پر بہت تحفے اور پیسے ملے مگر بابا کی آنکھوں کی چمک سب سے قیمتی تحفہ تھی میرے لیے۔ تو یہ ہے اس سماج کی ایک ہلکی سی جھلک جہاں ایسے برقعے دیکھ کر ہم مردوں کو مورد الزام اور ظالم ٹہراتے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ انکے مرد ان کو ایسا کیوں دیکھنا چاہتے ہیں۔ جب ہم نے ننھی ہاجرہ سے سوال کیا تو بولی یہ ہمارا مقامی کلچر ہے۔ یہاں سب عورتیں اسی طرح کا پردہ کرتی ہیں ۔ یہ ہمارا چوائس ہے کیونکہ ہم نے اپنی ماؤں اور خاندانوں کو اسی طرح کے حجاب میں دیکھا تو یہاں یہ اجنبی نہیں۔

میں سوچنے لگی اگر میں بھی یہاں کی رہائشی ہوتی تو اسی برقع کا انتخاب کرتی۔ بڑے پتے کی بات کہی ہاجرہ نے کہ باجی جب مغرب کی لڑکی کے مختصر لباس پر معاشرہ اعتراض نہیں کرتا کہ وہ اس کا حق ہے تو ہم پر اعتراض کا حق کسی کو کیسے حاصل ہوگیا۔ جیتی رہو ہاجرہ ………… جامعات المحصنات اسی اعتماد کا نام ہے ۔

اپنا تبصرہ بھیجیں